وزارت دفاع
وائس ایڈمرل سنجے وتسیان، ایف او سی- آئی این –سی (ڈبلیو این سی) کے ہاتھوں پروجیکٹ سی برڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 OCT 2026 3:20PM by PIB Delhi
وائس ایڈمرل سنجے وتسیان، فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ویسٹرن نیول کمانڈ نے 15 اکتوبر 2026 کو نیول بیس، کاروار میں وائس ایڈمرل ویویک دہیا، ڈائریکٹر جنرل سی برڈ اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں، پروجیکٹ سی برڈ فیز II اے کے حصے کے طور پر ہندوستانی بحریہ کے ڈیفنس سویلینس کے لیے رہائشی رہائش گاہوں اور اسٹیشن ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ ساتھ ٹرنک یوٹیلیٹی اور رسائی کے بنیادی ڈھانچے کا افتتاح کیا۔
افتتاح کی جانے والی رہائشی اور ہسپتال کی سہولیات میں نیول ڈیفنس سویلینز کے لیے 300 رہائشی یونٹوں کے پانچ ٹاورز اور اسٹیشن ہیلتھ آرگنائزیشن کمپلیکس شامل ہیں، جو کہ موجودہ ہسپتال، آئی این ایچ ایس پتنجلی کی گنجائش کو 409 بستروں تک بڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان سہولیات کو دو لاکھ لیٹر ہل ٹاپ واٹر ریزروائر اور سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ ( ایس ٹی پی) کی مدد حاصل ہے۔
کاروار نیول بیس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے صاف ستھرے ماحول کی مطابقت اور آسان رسائی کی سہولت میں مسلسل اضافے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے، ایک جدید مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ فیسیلٹی (کچرے کے ٹھوس بندوبست کی سہولت) اور ایک رسائی گیٹ کے ساتھ ساتھ پل کے بنیادی ڈھانچے کا بھی افتتاح کیا گیا تاکہ پیدل چلنے والوں اور سائیکل کے لیے مخصوص راستوں کے ساتھ چار لین والی گاڑیوں کی آمد و رفت کو آسان بنایا جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے میں یہ پیش رفت پروجیکٹ سی برڈ کے جاری فیزII اے کا حصہ ہیں، جس کے دائرہ کار میں دوہرے استعمال والے نیول ایئر اسٹیشن، ایک مکمل نیول ڈاکیارڈ اور بحری جہازوں و طیاروں کے لیے لاجسٹک سہولیات کی تعمیر شامل ہے۔ نیول بیس، جہاں خاندانوں کے ساتھ تقریباً 10,000 وردی پوش اور سویلین اہلکار رہائش پذیر ہیں ، اس سے مقامی معیشت، صنعت اور سیاحت کو نمایاں طور پر فروغ حاصل ہو گا اور اترا کنڑ کے علاقے کے لیے متعدد براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔
یہ پروجیکٹ وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور انڈین گرین بلڈنگ کونسل ( آئی جی بی سی) کے اصولوں کے عین مطابق ہے اور تکمیل پر اسے آئی جی بی سی گولڈ ریٹنگ دی جائے گی۔ یہ پروجیکٹ 'آتم نربھر بھارت' کے تصور کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس کے تحت 90 فیصد سے زیادہ مواد اور ساز وسامان گھریلو سطح پر حاصل کیے گئے ہیں۔
_20261017152200_9e4d32.PNG)
_20261017152210_b8dd55.jpeg)
*****
(ش ح- ن ا)
U.N:6251
(ریلیز آئی ڈی: 2324682)
وزیٹر کاؤنٹر : 5