سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
پی ایم-اے جے اے وائی کے ذریعے مثالی گاؤں، سماجی و اقتصادی منصوبوں اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے توسط سے جامع ترقی کو فروغ
اٹھارہ ہزار ترانوے گاؤں مثالی گاؤں قرار؛ ریاستوں اور اضلاع کو امدادی گرانٹ کے تحت تقریباً 1,730 کروڑ روپے جاری
سات سو پچاسی طلبہ کے ہاسٹل مکمل؛ مالی سال 2026-27 کے لیے 264 طلبہ و طالبات کی رہائش کی گنجائش والے دو ہاسٹل منصوبوں کے لیے 61.46 کروڑ روپے مختص
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 6:26PM by PIB Delhi
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے زیرِ نفاذ پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا (پی ایم-اے جے اے وائی) کے مثالی گاؤں والے جزو کے تحت ملک بھر میں 47,200 سے زیادہ گاؤں شامل کیے گئے ہیں، جن سے 47.79 لاکھ سے زیادہ شہری مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پی ایم-اے جے اے وائی کے تحت ترقیاتی کاموں کے کل 46,944 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جب کہ گاؤں کی ترقی کے 27,032 منصوبے (وی ڈی پیز) تیار کیے گئے ہیں۔
وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ 8 ستمبر 2026 تک 18,093 گاؤں کو مثالی گاؤں قرار دیا جا چکا تھا۔ یہ درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں میں بنیادی ڈھانچے، بنیادی سہولتوں اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وزارت کی مسلسل کوششوں کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں میں بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کی کمی کو دور کرکے انہیں مثالی گاؤں کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ ’مثالی گاؤں‘ کا تصور ایسے گاؤں کا ہے جہاں لوگوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں، معاشرے کے تمام طبقات کی کم از کم ضروریات پوری ہوں اور عدم مساوات کو حتی الامکان کم کیا جائے۔
وزارت کے زیرِ نفاذ پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا (پی ایم-اے جے اے وائی) بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار کے ذرائع کو فروغ دینے، تعلیم اور بنیادی سہولتوں تک بہتر رسائی کے ذریعے درج فہرست ذاتوں کی سماجی و اقتصادی ترقی اور تعلیمی خودمختاری کو آگے بڑھا رہی ہے۔
افسر نے بتایا کہ اس اسکیم کے تین اجزا ہیں، جن میں درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں کو ’مثالی گاؤں‘ کے طور پر ترقی دینا، ریاستی اور ضلعی سطح پر سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے امدادی گرانٹ فراہم کرنا، اور طلبہ کے ہاسٹلوں کی تعمیر و مرمت شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی گرانٹ کے جزو کے تحت درج فہرست ذاتوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے مقصد سے ضلعی اور ریاستی سطح کے منصوبوں کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد روزگار کے جامع منصوبوں، ہنرمندی کی ترقی اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے ذریعے مستفید ہونے والی آبادی کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جزو کے تحت درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں میں مناسب بنیادی ڈھانچہ تیار کرکے سماجی و اقتصادی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جہاں ضرورت ہو، رہائشی اسکولوں کے ذریعے درج فہرست ذاتوں کے طلبہ میں خواندگی کو فروغ دینے اور اسکولوں میں داخلے کی شرح بڑھانے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
افسر نے بتایا کہ مالی سال 2021-22 سے مالی سال 2025-26 کے دوران اس جزو کے تحت ریاستوں کو براہِ راست تقریباً 1,730 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس امداد کے ذریعے 2.5 لاکھ سے زیادہ انفرادی اور اجتماعی مستفیدین کے لیے ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
افسر نے مزید بتایا کہ پی ایم-اے جے اے وائی کے تحت ہاسٹلوں کی تعمیر اور مرمت کے جزو کے ذریعے وزارت درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے اور اس کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ہاسٹل خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے مفید ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے رہائش اور تعلیمی مواقع تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2026 تک اس اسکیم کے تحت طلبہ کے کل 785 ہاسٹل مکمل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے ہاسٹلوں کے دو منصوبوں، ایک لڑکیوں اور دوسرا لڑکوں کے لیے، مرکزی امداد کے طور پر 61.46 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ان ہاسٹلوں میں 264 طلبہ و طالبات کی رہائش کا انتظام ہوگا۔
وزارت کے افسر نے مزید بتایا کہ اسکیم کے نفاذ اور نگرانی کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم پی ایم-اے جے اے وائی موبائل ایپ اور پی ایم-اے جے اے وائی پورٹل کا آغاز ہے۔ اس سے کاغذی کارروائی پر مبنی طریقۂ کار سے بروقت میں مکمل طور پر ڈیجیٹل کارروائی کی جانب منتقلی ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی سے اس اسکیم کے تحت معلومات تک رسائی، نگرانی اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کو تقویت مل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ڈیجیٹل نظام کا مقصد فلاحی اقدامات کی فراہمی میں تال میل، شفافیت، جواب دہی اور کارکردگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔
افسر نے مزید بتایا کہ پی ایم-اے جے اے وائی سو فیصد مرکزی مالی اعانت سے چلنے والی اسکیم ہے، جب کہ ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے ضرورت کے مطابق اس میں اضافی وسائل شامل کر سکتے ہیں۔ مالی اعانت کے نظام کے تحت، منتخب مثالی گاؤں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کو دور کرنے سے متعلق سرگرمیوں پر 50 فیصد تک فنڈز خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح پر تکنیکی معاونت گروپوں اور منصوبوں کے نفاذ کے لیے اکائیوں کے قیام اور ان کے کام کاج پر 5 فیصد تک رقم مختص کی جاتی ہے۔ مرکزی اداروں کی معاونت سمیت ہاسٹلوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے 2 فیصد تک رقم مختص ہے، جب کہ باقی فنڈز ضلعی اور ریاستی سطح کے منصوبوں کے لیے امدادی گرانٹ کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
امدادی گرانٹ کی رقم مختص کرتے وقت درج فہرست ذاتوں کی آبادی اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی درج فہرست ذاتوں کی آبادی کے تناسب سے ریاستی درج فہرست ذاتوں کے ذیلی منصوبے (ایس سی ایس پی) اور سالانہ منصوبے کے درمیان تناسب جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل ہونے کے بعد ان کی دیکھ بھال اور کام کاج کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں یا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کی ہوتی ہے۔ ہاسٹلوں کے جزو کے تحت حکومتِ ہند ان کی دیکھ بھال کے لیے بھی مرکزی امداد فراہم کرتی ہے۔
جیسے جیسے ہندوستان 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانا ملک کی ترقی کے سفر کا ایک بنیادی مقصد ہے۔
پی ایم-اے جے اے وائی گاؤں کے بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولتوں سے لے کر روزگار، ہنرمندی کی ترقی اور تعلیم تک رسائی کے ذریعے بااختیار بنانے کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دے کر اس مقصد کے حصول میں تعاون کر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال، نگرانی کے مضبوط نظام اور آخری فرد تک فوائد پہنچانے پر خصوصی توجہ کے ساتھ یہ اسکیم درج فہرست ذاتوں کی برادریوں کے لیے ہندوستان کی ترقی میں زیادہ بھرپور شرکت کے مواقع کو مسلسل مستحکم کر رہی ہے۔ اس کا مربوط طریقۂ کار ایسا بنیادی ڈھانچہ، صلاحیتیں اور سازگار ماحول تیار کرنے میں مدد دے رہا ہے، جو افراد اور برادریوں کو اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل بناتا ہے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6229
(ریلیز آئی ڈی: 2324526)
وزیٹر کاؤنٹر : 9