بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’ہر گھر سودیشی، گھر گھر سودیشی‘ کے پیغام کو ’بات کھادی کی‘ پوڈکاسٹ کے ذریعے جنریشن زی تک پہنچانے کے مقصد سے ممبئی میں ’کھادی مہوتسو-2026‘ کا افتتاح کیا
اس نمائش میں ملک کی 12 ریاستوں کی 77 اکائیاں کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کی متنوع اقسام پیش کر رہی ہیں
’’نوجوانوں کی کاروباری صلاحیت، جدید فیشن اور ڈیجیٹل بازار، لوکل سے گلوبل تک کے سفر میں کھادی کو ایک نئی شناخت دے سکتے ہیں‘‘: کے وی آئی سی کے چیئرمین
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 2:52PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی انتہائی چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت کے تحت کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کو ممبئی کے وِلے پارلے میں واقع کے وی آئی سی کے مرکزی دفتر میں ’کھادی مہوتسو-2026‘ کا افتتاح کیا۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’ہر گھر سودیشی، گھر گھر سودیشی‘ اور ’ووکل فار لوکل‘ کے پیغام کو نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی (جن زی)، تک پہنچانے کے مقصد سے اس میلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ میلہ کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کو جدید طرزِ زندگی سے ہم آہنگ کرنے اور ملک کے دست کاروں اور دیہی صنعت کاروں کے لیے نئی منڈیوں کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس تقریب میں کے وی آئی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مالیاتی مشیر، جوائنٹ چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف ویجیلنس آفیسر اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسرز سمیت کمیشن کے سینئر افسران اور عملے کے ارکان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کھادی اداروں کے نمائندے، پی ایم ای جی پی سے وابستہ دست کار اور کاروباری افراد، نیز دیہی صنعتوں کی ترقی سے وابستہ دیگر صنعت کار بھی تقریب میں موجود تھے۔

2 اکتوبر سے 31 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والا ’کھادی مہوتسو‘ کھادی کی مصنوعات پر 20 فیصد اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات پر 10 فیصد کی خصوصی رعایت فراہم کر رہا ہے۔ اس نمائش میں 12 ریاستوں کی مجموعی طور پر 77 اکائیاں، 77 اسٹالز کے ذریعے اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کر رہی ہیں۔ ان میں کھادی کی 36 اکائیاں، وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) سے وابستہ 33 اکائیاں اور دیہی صنعتوں و دیگر اسکیموں کی 8 اکائیاں شامل ہیں۔اس نمائش میں حصہ لینے والی ریاستوں میں گجرات، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، ہریانہ، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان شامل ہیں۔نمائش میں دیسی مصنوعات کی وسیع اقسام پیش کی گئی ہیں، جن میں کھادی کے کپڑے، ریشمی کھادی، پالی کھادی، تیار ملبوسات، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مصنوعات، غذائی اشیا، صابن، اگربتیاں، مصالحہ جات، چمڑے کی مصنوعات، مصنوعی زیورات، لکڑی کے کھلونے، بیگ، پھلکاری، آملہ سے تیار کردہ مصنوعات اور لکڑی کے دست کاری کے نمونے شامل ہیں۔

اس موقع پر کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے تحریکِ آزادی کے دوران کھادی کو خود انحصاری اور معاشی خود کفالت کی علامت بنایا تھا۔ آج وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی کے ’سودیشی‘ کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کا کھادی سے ایک خاص تعلق ہے۔ جنریشن زی کی توانائی، تخلیقی صلاحیت، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور کاروباری جذبہ، سودیشی تحریک کو عوام کی وسیع تر شمولیت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام ’ہر گھر سودیشی، گھر گھر سودیشی‘ محض دیسی مصنوعات کی خریداری تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا وسیع تر مقصد ہندوستانی مصنوعات کے تئیں فخر کا احساس پیدا کرنا، مقامی مصنوعات تیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملک کی معاشی خود انحصاری کو مضبوط بنانا ہے۔اس مہم میں نوجوانوں کی شرکت خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ اپنے انتخاب، طرزِ زندگی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کاروباری اقدامات کے ذریعے دیسی مصنوعات کو معاشرے میں ایک نئی شناخت دے سکتے ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ آج کی جنریشن زی فیشن، ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور نئے خیالات کے تئیں باشعور ہے۔ کھادی کو جدید ڈیزائن، دلکش ملبوسات، بہتر برانڈنگ اور جدید طرزِ زندگی سے ہم آہنگ کرکے نوجوانوں میں اسے مزید مقبول بنایا جا سکتا ہے۔ کھادی کی فطری شناخت، ہندوستانی ورثے سے اس کا تعلق اور پائیدار طرزِ زندگی سے اس کی وابستگی اسے نوجوان نسل کے لیے ایک بامعنی انتخاب بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ کھادی کی روایتی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق اس کی پیشکش اور مارکیٹنگ کے طریقوں کو ڈھالا جائے۔ نوجوان نہ صرف دیسی مصنوعات کے صارف بن سکتے ہیں، بلکہ ان کے برانڈ ایمبیسیڈر، ڈیزائنر، ڈیجیٹل تشہیر کار اور کاروباری افراد کے طور پر بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے نوجوان کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی منڈیوں سے بھی جوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے وی آئی سی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’وکست بھارت@2047‘ اور ’وکل فار لوکل‘ کے وژن کو نوجوان نسل تک پہنچانے کے مقصد سے ’بات کھادی کی‘ پوڈکاسٹ شروع کیا ہے۔ اس پوڈکاسٹ کا مقصد کھادی کے ورثے، جدت طرازی، جدید فیشن اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر مرکوز گفتگو کے ذریعے جنریشن زی کو ’سودیشی‘ تحریک سے جوڑنا ہے۔یہ پہل کھادی کو نوجوان نسل کی پسند اور جدید طرزِ زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’لوکل سے گلوبل‘ کے پیغام کو آگے بڑھانا اور مقامی مصنوعات کو عالمی سطح پر شناخت دلانا، کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مصنوعات کے معیار، جدید ڈیزائن، دلکش پیکیجنگ، مؤثر برانڈنگ اور ڈیجیٹل بازاروں تک رسائی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنریشن زی اس تبدیلی میں ایک اہم شراکت دار بن سکتی ہے۔ نوجوان ڈیزائنر کھادی کو جدید فیشن سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں، ڈیجیٹل کاروباری افراد اس کی منڈیوں کو وسعت دے سکتے ہیں اور اسٹارٹ اپس روایتی مصنوعات کے لیے کاروبار کے نئے ماڈل تیار کر سکتے ہیں۔ اس سے مقامی دست کاروں کی مہارتوں کو وسیع تر منڈیاں میسر آئیں گی اور ہندوستانی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے دوراندیشانہ نقطۂ نظر اور پالیسیوں کے نتیجے میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے نے بے مثال ترقی حاصل کی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کا کاروبار 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ یہ شعبہ 2.04 کروڑ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ یہ شعبہ آنے والے برسوں میں 2.51 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری ہدف کو حاصل کر لے گا۔
***
ش ح۔ش ت ۔ م الف
U. No- 6205
(ریلیز آئی ڈی: 2324376)
وزیٹر کاؤنٹر : 13