سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
این ایچ اے آئی نے بڑے پلوں اور قومی شاہراہوں کے اہم ڈھانچوں کے ڈیزائن کی آزادانہ جانچ کا نظام متعارف کرایا
قومی شاہراہوں کے اہم ڈھانچوں کے تحفظ، معیار اور پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے یکساں نظام متعارف کرانے کی پہل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 5:02PM by PIB Delhi
قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے ڈھانچوں کے تحفظ، پائیداری اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے، ہندوستان کی قومی شاہراہوں کی اتھارٹی)این ایچ اے آئی(نے اپنے منصوبوں کے تحت تعمیر کیے جا رہے بڑے پلوں اور دیگر اہم ڈھانچوں کے نقشوں اور ڈیزائن کی آزادانہ جانچ کے لیے ایک یکساں نظام متعارف کرایا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، نشان زد اہم ڈھانچوں کے ڈیزائن کی آزادانہ جانچ کے لیے فہرست میں شامل انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، معروف سرکاری تکنیکی اداروں اور پلوں کی انجینئرنگ اور آبی بہاؤ کے مطالعے میں مہارت رکھنے والی دیگر تجربہ کار تکنیکی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
یہ پہل خاص طور پر بڑے پلوں اور دیگر پیچیدہ ڈھانچوں کے لیے اہم ہے۔ آزادانہ جانچ سے ڈیزائن سے متعلق ممکنہ خامیوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی اور یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ ڈھانچے انڈین روڈز کانگریس (آئی آر سی)کے قابلِ اطلاق ضابطوں، تکنیکی وضاحتوں اور معاہدے کی شرائط پر پورا اتریں۔
جانچ کے دائرے میں آنے والے ڈھانچے
اس پالیسی کے دائرے میں بڑے پل اور بلند گزرگاہیں شامل ہیں۔ ان میں ایسے بڑے دریائی پل بھی شامل ہیں جن کے لیے پانی کے بہاؤ کی ڈیزائن گنجائش 3,000 مکعب میٹر فی سیکنڈ یا اس سے زیادہ ہو، نیز ایسے ڈھانچے یا پل جن کا انفرادی مؤثر پھیلاؤ 40 میٹر یا اس سے زیادہ ہو۔ این ایچ اے آئی کی جانب سے نشان زد کیے جانے والے دیگر خصوصی یا پیچیدہ ڈھانچے بھی اس میں شامل ہوں گے۔
آزادانہ جانچ میں ڈھانچوں کے ڈیزائن سے متعلق حسابات، ساختی تجزیہ، ڈیزائن کے نقشے اور، جہاں قابلِ اطلاق ہو، ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک مطالعات شامل ہوں گے۔ ان مطالعات سے پانی کے بہاؤ، سیلاب کی سطح، پانی کے گزرنے کے لیے فراہم کردہ راستوں کی موزونیت اور دریا کی تہہ کے کٹاؤ سے بنیادوں کے تحفظ کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔
نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
نظرثانی شدہ طریقۂ کار کے تحت، ٹھیکیدار یا رعایتی معاہدہ حاصل کرنے والی کمپنی، معاہدے کی شرائط کے مطابق، ڈیزائن اور نقشے جانچ یا منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ اس کے بعد این ایچ اے آئی کی فہرست میں شامل اداروں یا کمپنیوں میں سے تین کے نام تجویز کیے جائیں گے۔ منصوبے کی ضروریات کی بنیاد پر، آزادانہ تصدیق کے لیے ایک یا اس سے زیادہ اداروں یا کمپنیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔
منتخب ادارہ یا کمپنی ڈیزائن کا آزادانہ جائزہ لے کر اپنے مشاہدات اور سفارشات پیش کرے گا۔ ٹھیکیدار یا رعایتی معاہدہ حاصل کرنے والی کمپنی ان مشاہدات پر غور کرے گی اور ضرورت کے مطابق ڈیزائن میں ضروری تبدیلیاں کرے گی۔ اس کے بعد متعلقہ معاہدے کی شرائط کے مطابق این ایچ اے آئی ڈیزائن کا جائزہ لے گی یا اسے منظوری دے گی۔
یہ پالیسی یکم دسمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس کا اطلاق انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر (ای پی سی)، ہائبرڈ اینیوٹی ماڈل (ایچ اے ایم) اور تعمیر، آپریشن اور منتقلی (بی او ٹی) کے تحت قومی شاہراہوں کے تمام نئے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں پر بھی ہوگا جن میں ڈیزائن کی تصدیق یا جانچ کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔
عام طور پر اس پالیسی کا اطلاق ان منصوبوں پر نہیں ہوگا جن میں ڈیزائن کی تصدیق یا جانچ کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، بڑے پلوں اور پیچیدہ یا اہم خصوصی ڈھانچوں کی اضافی آزادانہ تصدیق کی جا سکتی ہے۔
اس پہل کے ذریعے این ایچ اے آئی کا مقصد قومی شاہراہوں کے اہم ڈھانچوں کے لیے معیار کو یقینی بنانے کا ایک یکساں اور مضبوط نظام قائم کرنا ہے، جو ملک بھر میں زیادہ محفوظ اور مضبوط قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔
*****
ش ح۔ک ح ۔ ت ع
U. N-6161
(ریلیز آئی ڈی: 2324007)
وزیٹر کاؤنٹر : 11