سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای ایس ٹی آئی سی 2026 کے تعارفی  پروگرام میں خودکار نظاموں، فزیکل مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 2:31PM by PIB Delhi

ہندوستان کے اہم سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے اجلاس، ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو (ای ایس ٹی آئی سی 2026) کے دوسرے ایڈیشن کے ابتدائی پروگرام کا انعقاد 15 اکتوبر 2026 کو سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے ٹیکنالوجی بھون میں کیا گیا۔ اس پروگرام میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ اس اجلاس میں ممتاز شخصیات اور نوبیل انعام یافتگان شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ اجلاس کے 12 موضوعاتی شعبوں میں سے ایک، یعنی خودکار نظاموں، فزیکل مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا۔

نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر ابھے کرندی کر نے کہا، ’’ای ایس ٹی آئی سی کا خیال وزیر اعظم کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے وسیع تر نظام سے وابستہ تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا چاہتے تھے۔ اس سال کا موضوع ’تخلیقی ذہن سائنس کو آگے بڑھاتے اور ٹیکنالوجی کو بااختیار بناتے ہیں‘ سائنسی اختراعات پر کام کرنے اور انہیں معاشرے کی خدمت کے لیے ٹیکنالوجی میں بدلنے والے تخلیقی ذہنوں کے حوالے سے بالکل موزوں ہے۔‘‘ پروفیسر کرندی کر اس ابتدائی پروگرام کے مہمانِ خصوصی تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فزیکل مصنوعی ذہانت، مصنوعی ذہانت کی ترقی کا اگلا اہم مرحلہ ثابت ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کو اس بات پر غور و خوض کے موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے کہ سائبر اور طبعی نظاموں سے متعلق مشن کے اگلے ایڈیشن کی منصوبہ بندی کس طرح کی جا سکتی ہے۔

اپنے خطاب میں سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے سکریٹری پروفیسر امیش واگھمارے نے کہا کہ ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں ہندوستان اور بیرونِ ملک کے سائنس داں، نوبیل انعام یافتگان، صنعتوں کے نمائندے، ٹیکنالوجی کمپنیاں، نئے کاروباری ادارے، کاروباری افراد اور نوجوان محققین ایک ساتھ جمع ہوں گے۔ یہ اجلاس خیالات کے تبادلے اور شراکت داری قائم کرنے کا موقع فراہم کرے گا، جس سے 2047 تک وکست بھارت کے مقصد کی حمایت میں ملک کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ موضوع پر بات کرتے ہوئے پروفیسر واگھمارے نے بتایا کہ خودکار نظام، فزیکل مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے صنعتوں میں پیداوار، درست زراعت، صحت اور بحالیِ صحت، سامان کی ترسیل، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں زیادہ محفوظ اور بہتر نتائج برآمد کرنے والے کام کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو قابلِ اعتماد، محفوظ، کفایتی اور ہندوستانی حالات کے مطابق ہو۔ بین شعبہ جاتی سائبر اور طبعی نظاموں کے قومی مشن کے تحت سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے نے ٹیکنالوجی اختراعی مراکز قائم کیے ہیں۔ ان میں آئی آئی ٹی حیدرآباد میں ٹیہان، آئی آئی ٹی دہلی میں آئی ایچ ایف سی اور آئی آئی ایس سی بنگلورو میں آرٹ پارک شامل ہیں۔ یہ مراکز تحقیق کو انجینئرنگ، تجربات اور حقیقی زندگی میں اس کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔

قومی کوانٹم مشن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر واگھمارے نے کہا کہ اس مشن میں بھی تحقیق کو عملی استعمال تک پہنچانے پر اسی طرح توجہ دی گئی ہے، جس کے لیے ٹیکنالوجی کی تیاری، تحقیق کے نتائج کو عملی شکل دینے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے پر کام کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر واگھمارے نے سائنس دانوں، تعلیمی اور خود مختار اداروں، صنعتوں کے رہنماؤں، نئے کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور نوجوان اختراع کاروں کو ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں شرکت کی دعوت دی اور ان سے اپیل کی کہ وہ تخلیقی خیالات کو قابلِ استعمال ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

پروگرام میں سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ اے دھن لکشمی نے ای ایس ٹی آئی سی 2026 کے بارے میں پریزنٹیشن دی، جس کے بعد اجلاس کی تشہیری ویڈیو دکھائی گئی۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر کرندی کر اور پروفیسر واگھمارے نے ای ایس ٹی آئی سی 2026 کے بروشر کا ڈیجیٹل اجرا کیا۔ اس موقع پر ای ایس ٹی آئی سی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے موضوعاتی اجلاس سے متعلق ویڈیو بھی دکھائی گئی۔

آن لائن اور بالمشافہ دونوں طریقوں سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے سینئر افسران کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے شعبوں سے وابستہ سائنس دانوں اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اس سال اس اجلاس کا اہتمام سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کر رہی ہے۔ ای ایس ٹی آئی سی 2026 کا انعقاد 27 سے 29 اکتوبر تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہوگا۔

*******

ش ح ۔ ش ب ۔ ج

UNO -6142


(ریلیز آئی ڈی: 2323838) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी