عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
لکھنؤ میں 23 اور 24 اکتوبر 2026 کو تربیتی اداروں میں تبدیلی سے متعلق تیسری علاقائی ورکشاپ منعقد ہوگی
اتر پردیش کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی موجودگی میں ورکشاپ کا افتتاح کریں گے؛ شمالی خطے کی آٹھ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام 4علاقے اس ورکشاپ میں شرکت کریں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 10:56AM by PIB Delhi
صلاحیت سازی سے متعقل کمیشن (سی بی سی) 23 اور 24 اکتوبر 2026 کو اتر پردیش کے لکھنؤ میں سادھنا شرنکھلا 2026 کی تیسری علاقائی ورکشاپ منعقد کرے گا۔ اس دو روزہ اس مشاورتی اجلاس میں شمالی خطے کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یکجا کیا جائے گا، جہاں مشن کرم یوگی کے تحت سرکاری تربیتی اداروں کو جدید اور صلاحیت پر مبنی اداروں میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر غور و خوض کیا جائے گا۔
مذکورہ ورکشاپ کا افتتاح اتر پردیش کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کریں گے۔ اس موقع پر سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور وزیر اعظم کے دفتر نیز عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی موجود رہیں گے۔
قومی مقصد کے تحت علاقائی ورکشاپس کا سلسلہ
سادھنا شرنکھلا، جس کا پورا نام قومی ترقی کے لیے موافقت پذیر ترقی اور انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، چار علاقائی مشاورتی ورکشاپ کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے ذریعے ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق اس تبادلۂ خیال کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس کی قیادت کمیشن نے گزشتہ ایک سال کے دوران علاقائی ٹاسک فورس کے اجلاسوں، 2 سے 8 اپریل 2026 تک منعقدہ سادھنا سپتاہ اور مئی 2026 میں ادارہ جاتی سطح پر صلاحیت سازی کو مستحکم کرنے کے موضوع پر منعقدہ قومی محکمہ جاتی سربراہی اجلاس کے ذریعے کی ہے۔
اس سلسلے کی پہلی ورکشاپ 29 اور 30 ستمبر 2026 کو وجے واڑہ میں منعقد کی گئی تھی، جس کے بعد 9 اکتوبر 2026 کو گوہاٹی میں شمال مشرقی خطے کی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اب لکھنؤ میں ہونے والی مذکورہ ورکشاپ کے ذریعے اس تبادلۂ خیال کو شمالی خطے تک پہنچایا جا رہا ہے۔
شرکت کرنے والی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے
اتر پردیش حکومت کی میزبانی میں منعقد ہونے والی مذکورہ ورکشاپ میں بہار، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، پنجاب، راجستھان اور اتراکھنڈ کی ریاستوں کے علاوہ چنڈی گڑھ، دہلی، جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ریاستوں کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ تربیتی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ، متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور صنعتی شراکت دار بھی اس ورکشاپ میں شامل ہوں گے۔
ہمالیائی خطے، ہند-گنگا کے میدانی علاقوں اور صحرائی ریاست راجستھان پر مشتمل آٹھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 4 علاقوں کی شرکت کے ساتھ لکھنؤ کی یہ ورکشاپ اب تک اس سلسلے کی ورکشاپ میں مختلف انتظامی حالات اور ضروریات کے وسیع ترین تنوع کو یکجا کرے گی۔
ورکشاپ میں زیرِ غور آنے والے موضوعات
سرکاری ملازمین سے آج توقع کی جاتی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی، شہریوں کی بدلتی ہوئی توقعات اور ترقیاتی ترجیحات کی پیچیدگیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں۔ اس کے لیے انہیں تیار کرنے میں تربیتی اداروں کا مرکزی رول ہے۔ اس ورکشاپ میں اس بات پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ یہ ادارے سرکاری افسران کی عملی ذمہ داریوں کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے ان کے مطابق کس طرح اپنی تربیت کو مؤثر بنا سکتے ہیں۔
غور و خوض میں چار وسیع شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا: ادارہ جاتی نظم و نسق اور قیادت؛ اداروں کی عملی کارکردگی اور ان کے درمیان تعاون؛ اساتذہ اور اداروں کی صلاحیتیں؛ اور تربیت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سمیت ڈیجیٹل تبدیلی۔ ہر شریک ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کو اپنی ترجیحات کی نشاندہی کرنے اور اصلاحات کے لیے ایک عملی لائحۂ عمل تیار کرنے میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔
یو این این اے ٹی آئی(اُنّتی)ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر
ان اصلاحات کو یونیفائیڈ نیو ایج نیشنل ٹریننگ انیشی ایٹوز (یو این این اے ٹی آئی) پورٹل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، جس کا آغاز سادھنا سپتاہ 2026 کے دوران کیا گیا تھا۔ اُنّتی ایک ہی پلیٹ فارم پر 700 سے زائد تربیتی اداروں کو یکجا کرتا ہے اور انہیں صلاحیت سازی کے منصوبوں میں نشان زد کی گئی اہلیت سے متعلق ضروریات سے مربوط کرتا ہے۔ اس سے اداروں کو وسائل کا اشتراک کرنے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
تربیتی اداروں کی تبدیلی کے لائحۂ عمل کی تشکیل
لکھنؤ میں ہونے والی مذکورہ ورکشاپ کے نتائج، وجے واڑہ، گوہاٹی اور سلسلے کی آخری علاقائی ورکشاپ کے نتائج کے ساتھ، تربیتی اداروں کی تبدیلی کے اس لائحۂ عمل کی تیاری میں شامل کیے جائیں گے جسے کمیشن وضع کر رہا ہے۔ یہ لائحۂ عمل اصلاحات کے لیے ایک مشترکہ سمت فراہم کرے گا، ساتھ ہی ہر ریاست کے ادارہ جاتی حالات اور ضروریات کے مطابق گنجائش بھی برقرار رکھے گا۔
سادھنا شرنکھلا کے ذریعے مذکورہ کمیشن کا مقصد تربیتی اداروں کا ایک مربوط اور جواب دہ نیٹ ورک قائم کرنا ہے، جو سرکاری ملازمین کو شہریوں کی بہتر خدمت کے لیے تیار کرے۔ یہ مشن کرم یوگی اور وِکست بھارت 2047 کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
***
ش ح۔ش م ۔ ع د
U-No. 6132
(ریلیز آئی ڈی: 2323744)
وزیٹر کاؤنٹر : 8