وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

دفاع-تعلیمی-صنعتی تعاون، جنگ کی بدلتی نوعیت کے درمیان دیسی ٹیکنالوجی کی ترقی اور اپنانے میں تیزی لانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے: وزیر دفاع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 8:07PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے جنگ کی تیزی سے بدلتی نوعیت کے درمیان دیسی ٹیکنالوجیز کی ترقی، اپنانے اور مسلسل اپ گریڈیشن میں تیزی لانے کے لیے دفاعی افواج، ڈی آر ڈی او، تعلیمی اداروں، دفاعی پبلک سیکٹر کے اداروں اور نجی صنعت، بشمول اسٹارٹ اپس کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔ 14 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں آئی آئی ٹی کانپور کی ’گریٹر دین اس‘ فنڈ ریزنگ مہم کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے زور دیا کہ دیسی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اسٹریٹجک طور پر اہم ہے کیوں کہ مصنوعی ذہانت، خود مختار نظام، بغیر پائلٹ کے پلیٹ فارم، جدید سینسرز، سائبر سیکیورٹی اور خلائی ٹیکنالوجیز فوجی حرکیات کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

وزیر دفاع نے قومی سلامتی اور تکنیکی صلاحیت کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی ربط کو اجاگر کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی آئی ٹیز تعلیمی تحقیق کو آپریشنل دفاعی ضروریات اور صنعتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے نمایاں تعاون کر سکتے ہیں۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی بھارت سرکار کا ’آتمِ نربھر بھارت‘ کا عزم اس کے ’وِکست بھارت‘ کے وژن کے مرکز میں ہے کیوں کہ اس کا مقصد ایک تکنیکی طور پر قابل، اقتصادی طور پر مسابقتی، اختراعی اور پراعتماد قوم کی تشکیل کرنا ہے، جو صرف علم اور ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ ان کی تخلیق میں ایک فعال معاون بھی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مضبوط اداروں کی اہمیت کو اجاگر کیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ بھارت سرکار نے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں، جس کا جدت طرازی اور انٹرپرینیورشپ میں بڑھتا ہوا تعاون آئی آئی ٹی ایکو سسٹم کی 6,000 سے زیادہ اسٹارٹ اپس، 56 یونیکارنز اور تقریباًًً 5,000 پیٹنٹس کے لیے حمایت میں جھلکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا، ”یہ کام یابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ آئی آئی ٹیز صرف علم فراہم کرنے والے ادارے نہیں ہیں، بلکہ تیزی سے جدت طرازی، انٹرپرائز اور تکنیکی صلاحیت کے انجن بن رہے ہیں۔ آئی آئی ٹی کانپور جیسے ادارے سائنسی صلاحیتوں کو وسعت دے کر، اختراعی ایکو سسٹم کو مضبوط بنا کر اور ایسے حل تیار کرکے جو معاشرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں، بھارت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔“

اس سمت میں کیے گئے اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے آئی آئی ٹی کانپور کے ڈی آر ڈی او-انڈسٹری-اکیڈیمیا سینٹر آف ایکسیلنس کا خصوصی ذکر کیا اور انسٹی ٹیوٹ میں اسکول آف ڈیفنس ٹیکنالوجیز کے قیام کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگی برتری حاصل کرنے کے لیے دیسی سازی اور جدت طرازی کو مہمیز کرنے کے لیے وزارتِ دفاع کے تعاون سے آئی آئی ٹی کانپور میں ایک قومی فوجی ڈرون ٹیکنالوجی ہب قائم کرنے کی تجویز نے نمایاں پیشرفت کی ہے اور اس کی منظوری کا عمل تکمیل کے قریب ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ایسی شراکتیں سائنسی صلاحیتوں، ادارہ جاتی مہارت اور دفاعی افواج کے آپریشنل تجربے کو ایک چھتری کے نیچے لائیں گی تاکہ اسٹریٹجک اہمیت کی دیسی ٹیکنالوجیز تیار کی جا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ قابل اعتماد تعلیمی ادارے تحقیق کو عملی دفاعی ایپلی کیشنز میں تبدیل کرنے اور فوج کی بدلتی ہوئی تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اتر پردیش کے صنعتی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں آئی آئی ٹی کانپور کے کردار پر، وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ادارہ سائنسی تحقیق اور صنعتی اطلاق، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور انٹرپرائز کے درمیان ایک پل کا کام کر سکتا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کانپور کی بھرپور صنعتی وراثت، آئی آئی ٹی کانپور کی تکنیکی مہارت کے ساتھ مل کر انٹرپرینیورشپ، روزگار، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، جو ریاست کے ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے وژن میں معاون ثابت ہوگی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے آئی آئی ٹی کانپور میں سی تھری آئی سائبر سیکیورٹی ٹیکنالوجی انوویشن ہب اور انسٹی ٹیوٹ کے میڈیکل اسکول کا حوالہ دیا، انھیں سائبر سیکیورٹی، صحت کی دیکھ بھال اور طبی ٹیکنالوجی کی جدت طرازی میں اہم اقدامات قرار دیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ جدید مواد، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی پائیداری جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تحقیق قومی ترجیحات کو حل کرنے اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے اہم ہوگی۔

تحقیق اور جدت طرازی میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، وزیر دفاع نے تحقیق اور جدید ٹیکنالوجیز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے بھارت سرکار کی 1 لاکھ کروڑ روپے کی ریسرچ، ڈیولپمنٹ اور انوویشن اسکیم کی منظوری کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا، ”جب کہ عوامی پالیسی ایک سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے، اداروں کو صلاحیتوں کو پروان چڑھانا چاہیے اور خیالات پیدا کرنے چاہئیں، اور صنعت کو جدت طرازی کو عملی ایپلی کیشنز میں تبدیل کرنے اور انھیں بڑے پیمانے پر اپنانے میں مدد کرنی چاہیے۔“

’گریٹر دین اس‘ مہم کے ذریعے، آئی آئی ٹی کانپور کا مقصد مارچ 2029 تک 1 بلین امریکی ڈالر جمع کرنا ہے، جو کسی بھی آئی آئی ٹی کی طرف سے اب تک کی سب سے بڑی فنڈ ریزنگ مہم ہے۔ 4,155 کروڑ روپے، جو ہدف کا تقریباًًً نصف ہے، سابق طلبہ، عطیہ دہندگان، کارپوریٹ شراکت داروں اور بھارت سرکار کی طرف سے پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کا مقصد آئی آئی ٹی کانپور کے تحقیقی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، صلاحیتوں کو پروان چڑھانا، اور دیسی ٹیکنالوجیز اور جدت طرازی کی ترقی اور تجارتی کاری کو مہمیز کرنا ہے تاکہ 2047 تک بھارت کے ایک وِکست قوم بننے کے وژن کی حمایت کی جا سکے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ مہم مضبوط تحقیقی صلاحیتوں، جدید سہولیات، باصلاحیت طلبہ کے لیے مواقع اور قومی و عالمی چیلنجوں کے حل کی حمایت کرے گی۔ انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کے سابق طلبہ، صنعت، فلاحی معاونین اور ادارہ جاتی شراکت داروں سے مالی مدد، رہ نمائی، تحقیقی شراکت داری اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کے ذریعے تعاون کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر پروفیسر منیندر اگروال، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی کانپور؛ جناب اونیش کمار اوستھی، وزیرِ اعلیٰ اتر پردیش کے مشیر اور انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی، طلبہ اور سابق طلبہ موجود تھے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 6109

 


(ریلیز آئی ڈی: 2323601) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil