وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمِ نو کی منظوری دے دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 4:50PM by PIB Delhi

    آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ ایک مقررہ تجارتی بینک ہے، جو بھارتی ریزرو بینک (  آر بی آئی )  کے ضابطوں کے تحت کام کرتا ہے۔ بینک کی خراب مالی حالت کے باعث اسے بار بار سرمایہ فراہم کرنے کی ضرورت پڑی۔ ابتدا میں یہ سرمایہ حکومتِ ہند نے فراہم کیا اور بعد میں لائف انشورنس کارپوریشن  ( ایل آئی سی )  نے سرمایہ فراہم کیا۔ 5  مئی  ، 2017 ء کو بھارتی ریزرو بینک  (  آر بی آئی )  نے بینک کے غیر فعال اثاثوں اور نقصانات کے پیش نظر اسے فوری اصلاحات کی  کارروائی کے دائرۂ کار میں شامل کرتے ہوئے کئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ بعد میں بینک کی مالی حالت میں بہتری کا جائزہ لینے کے بعد آر بی آئی نے  10   مارچ ،  2021 ء  کے اپنے خط کے ذریعے بعض شرائط اور مسلسل نگرانی کے ساتھ آئی ڈی بی آئی بینک پر عائد پابندیاں ہٹا دیں۔

اسی پس منظر میں  ، اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی  ( سی سی ای اے )  نے آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمِ نو کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے مطابق  ، آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ میں مجموعی طور پر 60.72 فی صد حصص ایک اسٹریٹجک خریدار کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں حکومتِ ہند کے 30.48 فی صد اور ایل آئی سی کے 30.24 فی صد حصص شامل تھے۔ اس فروخت کے بعد  ، حکومتِ ہند کے پاس 15 فی صد اور ایل آئی سی کے پاس 19 فی صد حصص باقی رہنے تھے۔

اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی کے فیصلے پر عمل درآمد دو مرحلوں پر مشتمل مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے کیا گیا۔ اس عمل میں اجتماعی فیصلہ سازی کے لیے کئی سطحوں پر مشتمل نظام اپنایا گیا، جس میں بین وزارتی گروپ ( آئی ایم جی ) ، سرمایہ کاری سے دست برداری کے امور سے متعلق سکریٹریوں کا بنیادی گروپ  (  سی جی ڈی )  اور با اختیار کابینہ وزرا پر مشتمل متبادل طریقۂ کار  ( اے ایم )  شامل تھے۔

دلچسپی رکھنے والے تمام فریقوں سے اظہارِ دلچسپی (  ای او آئی )  طلب کرنے کے لیے ابتدائی معلوماتی  مفاہمت نامہ ( پی آئی ایم ) ، 07 اکتوبر ، 2022 ء  کو جاری کیا گیا تھا۔ بولی کے مرحلے میں صرف وہی فریق حصہ لے سکتے تھے  ، جنہیں بھارتی ریزرو بینک  ( آر بی آئی )  نے   ’موزوں اور اہل ‘  قرار دیا تھا اور جنہیں وزارتِ داخلہ  ( ایم ایچ اے )  سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل تھی۔ اس مقصد کے لیے اہل دلچسپی رکھنے والے فریقوں  ( کیو آئی پیز ) سے تکنیکی اور مالی بولیاں طلب کرنے کے لیے تجویز کی درخواست جاری کی گئی۔ ابتدائی طور پر اظہارِ دلچسپی جمع کرانے والے پانچ فریقوں میں سے چار مقررہ اہلیت کے معیار اور نا اہلی کی شرائط پر پورے اترے۔ ان میں سے بالآخر دو فریقوں نے تکنیکی اور مالی بولیاں جمع کرائیں اور اس لین دین کے لیے اہل بولی دہندگان  ( کیو بیز )  قرار پائے۔

سرمایہ کاری سے دست برداری کے امور سے متعلق سکریٹریوں کے بنیادی گروپ  ( سی جی ڈی )  کی جانب سے جامع جائزے اور متبادل طریقۂ کار کی سفارشات پر غور کرنے کے بعد، اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی  ( سی سی ای اے )  نے 14 اکتوبر ، 2026 ء کو منعقدہ اپنے اجلاس میں میسرز 10955230  کینیڈا اِن کارپوریشن  ( اصل کمپنی میسرز فیئر فیکس فنانشیل ہولڈنگز لمیٹڈ )  کو  ، اس لین دین کے لیے اسٹریٹجک خریدار کے طور پر منظوری دے دی۔ آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ میں  60.72  فی صد حصص کے حصول کے لیے خریداری کی قیمت 52,878.0806181 کروڑ روپے (باون ہزار آٹھ سو اٹھہتر کروڑ آٹھ لاکھ چھ ہزار ایک سو اکیاسی روپے ) مقرر کی گئی۔ ان حصص میں حکومتِ ہند کے پاس موجود 30.48 فی صد اور لائف انشورنس کارپوریشن (  ایل آئی سی )  کے پاس موجود 30.24 فی صد حصص شامل ہیں۔

اس طرح کے لین دین میں بولی کے لیے پہلے سے کوئی مقررہ معیار نہیں ہوتا۔ بولی دہندگان خود اپنی جانب سے قدر کا تخمینہ لگاتے ہیں اور اپنی بولیاں سربمہر لفافوں میں خفیہ طور پر جمع کراتے ہیں۔ ادارے کی منصفانہ قدر کا اسی وقت جائزہ لینے کے لیے آزاد ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد اس تخمینے کو جمع کرائی گئی بولیوں کی معقولیت جانچنے کے لیے تقابلی معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس لین دین کے تحت ابتدائی بولیاں مالی سال 2025-26 ء  میں طلب کی گئی تھیں۔ اس وقت تقابل کے لیے فی حصص 94.42 روپے کی محفوظ قیمت مقرر کی گئی تھی، جس پر بازار میں حصص کی متاثرہ قیمت کا براہِ راست اور بالواسطہ اثر پڑا تھا۔ اس وقت حصص کی غیر متاثرہ ممکنہ قیمت معلوم نہیں تھی۔ البتہ، 07 اکتوبر ، 2022 ء  کو ابتدائی معلوماتی  مفاہمت نامہ اور اظہارِ دلچسپی جاری کیے جانے سے پہلے، آئی ڈی بی آئی کے حصص کی غیر متاثرہ قیمت آخری کاروباری دن فی حصص 42.40 روپے تھی۔ اس کے برعکس، 08 جنوری ، 2026 ء  کو ابتدائی بولیاں طلب کیے جانے سے پہلے آخری کاروباری دن حصص کی متاثرہ قیمت فی حصص 108.12 روپے تھی۔ ابتدائی بولیاں  ، اس وقت مقرر کی گئی محفوظ قیمت سے کم تھیں، اس لیے انہیں منظوری نہیں دی گئی۔ جب یہ واضح ہوا کہ ابتدائی بولیاں کامیاب نہیں ہوئیں تو بازار میں حصص کی متاثرہ قیمت میں بھی تصحیح ہوئی اور وہ دریافت شدہ بولی کی قیمت، یعنی فی حصص 75 روپے سے نمایاں طور پر نیچے آ گئی۔

بعد ازاں، اجتماعی فیصلہ سازی کے نظام کو تفویض کردہ اور عطا کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اور لین دین کی قدر کو حتی الامکان بڑھانے کے مقصد سے، مالی سال 2026-27 ء  میں اہل بولی دہندگان سے  ، ان کی بہترین پیش کشوں پر مشتمل سربمہر بولیاں طلب کی گئیں۔ 18 مئی ، 2026 ء  کو بہترین پیش کشوں پر مشتمل بولیاں طلب کیے جانے سے پہلے آخری کاروباری دن آئی ڈی بی آئی کے حصص کی بازار میں قیمت فی حصص 70.38 روپے تھی۔

آئی ڈی بی آئی کے حصص کی محدود پیمانے پر خرید و فروخت کے باعث بازار میں ان کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ رہا اور یہ دریافت شدہ بولی کی قیمت سے کبھی اوپر اور کبھی نیچے رہی۔ قدر کے تعین کی مدت کے دوران فی حصص قیمت کی بلند ترین سطح 118.38 روپے اور کم ترین سطح 61.01 روپے رہی۔ چنانچہ بازار میں حصص کی قیمت کو نظر انداز کر دیا گیا، کیونکہ اس سے ادارے کی قدر اس کی حقیقی اندرونی قدر کے مطابق متعین نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے بجائے، بازار میں رائج مختلف اداروں کے قدر کے تناسب پر مبنی تقابلی طریقۂ کار استعمال کیا گیا، جس سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقے کے تحت 31  مارچ ،  2026 ء  کو ختم ہونے والے سال کے تمام سرکاری شعبے کے بینکوں کے اختتامی حسابات کی بنیاد پر ادارے کی منصفانہ بازاری قدر کا تعین کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اثاثوں کی قدر کے تعین کا طریقہ بھی استعمال کیا گیا، جس میں زمین اور جائیداد سمیت تمام ٹھوس اور غیر ٹھوس اثاثوں کے ساتھ واجبات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس طریقے کے تحت آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کے 31  مارچ ،  2026 ء  کے آڈٹ شدہ حسابات کی بنیاد پر ادارے کی منصفانہ خالص اثاثہ جاتی قدر کا تعین کیا گیا۔

اس کے مطابق، ادارے کی منصفانہ قدر کا تعین دو پیشہ ورانہ ایجنسیوں نے اوپر بیان کردہ دو آزاد طریقۂ کار استعمال کرتے ہوئے کیا۔ ان دونوں کے ذریعے لگائی گئی منصفانہ قدروں کی اوسط فی حصص 75.99 روپے تھی، جسے اہل بولیوں کی جانچ کے لیے معیار مقرر کیا گیا۔ کامیاب بولی دہندہ کی جانب سے فی حصص 81 روپے کی بہترین پیش کش نہ صرف اس معیار سے زیادہ تھی بلکہ دونوں آزاد ایجنسیوں کے ذریعے لگائے گئے منصفانہ قدر کے تخمینوں سے بھی زیادہ تھی۔ اس لیے اسے مناسب قرار دیتے ہوئے منظوری دے دی گئی۔

کامیاب بولی دہندہ کو اظہارِ دلچسپی کے مرحلے میں کیے گئے موزوں اور اہل ہونے کے جائزے کے مطابق بھارتی ریزرو بینک کے سامنے اپنی اہلیت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے اور اس مرحلے پر مقرر کردہ ضابطہ جاتی شرائط کی تعمیل کے لیے اپنا لائحۂ عمل بھی پیش کرنا ہوگا۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد، یہ ہمارے ملک کے مالیاتی شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی راست غیر ملکی سرمایہ کاری  (  ایف ڈی آئی )  ہوگی۔

اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے متبادل طریقۂ کار کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ معیاری عملی طریقۂ کار کے مطابق کھلی منڈی کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ میں حکومتِ ہند کے باقی ماندہ 15 فی صد حصص فروخت کرنے کے اقدامات کرے۔ لائف انشورنس کارپوریشن  ( ایل آئی سی )  اپنے باقی ماندہ حصص کا انتظام اپنے داخلی طریقۂ کار کے مطابق کرنے کے لیے آزاد ہوگی، تاہم اسے اپنے نگراں ضابطہ ساز اداروں کی ہدایات کی تعمیل یقینی بنانا ہوگی۔

 

..................................................... ...................................................

) ش ح –   ا ع خ      -  ع ا )

U.No. 6077


(ریلیز آئی ڈی: 2323444) وزیٹر کاؤنٹر : 11