جل شکتی کی وزارت
پانی کے موضوع پرمحکمہ جاتی سربراہی اجلاس 2026 کے فالواپ کے بطور، پینے کے پانی اور حفظان صحت کے محکمہ کی طرف سے آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ اور گرام پنچایتوں کی قیادت میں آبی نظم کے لیے جل جیون مشن 2.0 اور وی بی-جی رام جی کے مابین تال میل کے موضوع پر ورچوئل کانفرنس کا انعقاد
پینے کے پانی اور حفظان صحت کے محکمہ کے سکریٹری نے ڈی ایس ایس اور یکت دھارا کے ذریعے سائنسی منصوبہ بندی، پینے کے پانی کے اہم ذرائع کو ترجیح دینے اور مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 OCT 2026 4:15PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے پینے کے پانی اور حفظان صحت کے محکمہ نے آج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ تیسری ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس یکم اور 2 ستمبر 2026 کو منعقدہ آبی امور پرمحکمہ جاتی سربراہی اجلاس 2026 کے بعد موضوعاتی مشاورت کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ کانفرنس میں آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ، آبی سلامتی اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے واسطے گرام پنچایتوں کی قیادت میں منصوبہ بندی کو فروغ دینے کی غرض سے جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 اور وی بی-جی رام جی کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس ورچوئل کانفرنس میں ریاستی پی ایچ ای ڈی/ دیہی آبی فراہمی کے محکموں، دیہی ترقیاتی محکموں اور پنچایتی راج کے محکموں کے سینئر افسران کے علاوہ حکومتِ ہند کی وزارتِ دیہی ترقیات اور وزارتِ پنچایتی راج کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اڈیشہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت مختلف ریاستوں کے دیہی آبی فراہمی کے محکموں نے آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ، پانی کی فراہمی کے اثاثوں کے رکھ رکھاؤ اور مرمت اور ڈیجیٹل منصوبہ بندی کے آلات کے استعمال سے متعلق اپنے تجربات اور اقدامات پیش کیے۔
پینے کے پانی اور حفظان صحت کے محکمہ کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن سے ملک بھر میں دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے وسیع بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ممکن بنایاگیا ہے، جبکہ جل جیون مشن 2.0 میں ان اثاثوں کی طویل مدتی کارکردگی، قابلِ اعتماد کارکردگی اور پائیداری کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کو صرف اسی صورت میں یقینی بنایا جا سکتا ہے، جب بنیادی ڈھانچے کی باقاعدہ دیکھ ریکھ کے ساتھ پینے کے پانی کے ذرائع کا منظم تحفظ، زیرِ زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بلند کرنے کے اقدامات اور ان کا مؤثر انتظام کیا جائے۔

سکریٹری نے وی بی-جی رام جی کے تحت دستیاب مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام آبی تحفظ، زیرِ زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بلند کرنے، آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ اور دیکھ ریکھ سے متعلق اقدامات کے لیے مضبوط نظام فراہم کرتا ہے، جو براہِ راست پینے کے پانی کے تحفظ میں معاون ہیں۔ انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ باہمی تال میل کے دو اہم مقاصد ہونے چاہئیں: پینے کے پانی کے ذرائع کی پائیداری اور جل جیون مشن کے تحت تعمیر کردہ بنیادی ڈھانچے کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانا۔
سکریٹری نے جل جیون مشن کے گاؤں کے عملی منصوبوں اور آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ کے منصوبوں کو وکست گرام پنچایت منصوبوں (وی جی پی پی) کے ساتھ مربوط کرنے اور انہیں گرام پنچایت ترقیاتی منصوبہ (جی پی ڈی پی) کے تحت شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبی تحفظ سے متعلق اقدامات مقامی آبی وسائل کے سائنسی جائزے کی بنیاد پر طے کیے جانے چاہئیں اور انہیں گرام سبھا کے ذریعے منظوری دی جانی چاہیے، تاکہ ان میں برادری کی شمولیت، ذمہ داری اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیہی علاقوں میں آبی انتظام و انصرام میں گرام پنچایتوں کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے جناب اشوک کے کے مینا نے کہا کہ گرام پنچایتوں، پانی اور حفظان صحت سے متعلق گاؤں کی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) اور مقامی اداروں کو آبی ذرائع، موسم کے لحاظ سے ان میں ہونے والی تبدیلیوں اور مقامی ضروریات کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ پینے کے پانی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے واسطے منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی میں ان کی فعال شرکت ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق کاموں کا انتخاب سائنسی جائزوں اور مقامی ضروریات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے چیک ڈیم، گلی پلگ، زیرِ زمین پانی کی بحالی کے لیے شافٹ، انجیکشن ویل، زیرِ زمین بند، چھتوں پر بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ڈھانچوں اور زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے دیگر اقدامات کا ذکر کیا، جنہیں مقامی ارضیاتی اور آبی حالات کے مطابق انجام دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت تیار کردہ ڈیسزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) اور یکت دھارا کے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کوبروئے کار لائیں تاکہ پینے کے پانی کے غیر محفوظ ذرائع کی شناخت اور ان کی بہتری کے لیے اقدامات کو سائنسی بنیادوں پر ترجیح دی جا سکے۔
سکریٹری نے ادارہ جاتی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ باہمی تال میل سے انجام دیے جانے والے کاموں کی تکنیکی جانچ، منظوری، عمل درآمد اور نگرانی کے لیے واضح طریقۂ کار وضع کریں۔ انہوں نے ریاستی، ضلعی اور گرام پنچایت کی سطح پر دیہی آبی فراہمی، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے محکموں کے درمیان مربوط کام کاج کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے ضلعی آبی و حفظان صحت مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم)، ریاستی آبی و حفظان صحت مشن (ایس ڈبلیو ایس ایم) اور ریاستی سطح کی اعلیٰ کمیٹیوں جیسے ادارہ جاتی پلیٹ فارموں کی مدد لینے پر بھی زور دیا۔
سکریٹری نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے پانچ ترجیحی نتائج کی نشاندہی کی: وی بی-جی رام جی کے تحت جل جیون مشن کے منصوبوں کو گرام پنچایت کے منصوبوں سے ہم آہنگ کرنا؛ ڈی ایس ایس اور یکت دھارا کے ذریعے آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق کاموں کی سائنسی بنیاد پر نشاندہی کرنا؛ تکنیکی جانچ اور منظوری کے طریقۂ کار قائم کرنا؛ مختلف محکموں کے درمیان اعداد و شمار کے بلا رکاوٹ تبادلے کو یقینی بنانااور کاموں کی حقیقی پیش رفت کے ساتھ آبی تحفظ کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ نگرانی کا نظام تشکیل دینا۔
وزارتِ دیہی ترقی کی اسسٹنٹ کمشنر محترمہ دیکشا ایس بشٹ نے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے واسطے منصوبہ بندی کے نظام کے تحت وی بی-جی رام جی اور جل جیون مشن کے درمیان تال میل کے امکانات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت آبی تحفظ سے متعلق 128 طرح کے کام شامل ہیں، جن میں زیرِ زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بلند کرنا، بارش کے پانی کو جمع کرنا، آبی ذخائر کے علاقوں کی بحالی، آبی ذخائر کی تجدید، آبی ذرائع کا پائیدار تحفظ اور پانی سے متعلق اثاثوں کی دیکھ ریکھ شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ وی بی-جی رام جی کے تحت آبی تحفظ بدستور ایک اہم ترجیح ہے اور سائنسی منصوبہ بندی، برادری کی شمولیت اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
وزارتِ دیہی ترقی اور وزارتِ جل شکتی کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ ہدایات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیرِ زمین پانی پر دباؤ کی درجہ بندی اور مقامی آبی تحفظ کی ضروریات کی بنیاد پر پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں آبی وسائل سے متعلق کاموں کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مناسب اقدامات کی نشاندہی اور وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے آبی بجٹ ، ارضیاتی و آبی جائزوں اور جغرافیائی معلومات پر مبنی منصوبہ بندی کے آلات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

منصوبہ بندی میں تال میل کے حوالے سے محترمہ دکشاایس بشٹ نے بتایا کہ وکست گرام پنچایت منصوبہ بندی کے نظام کے تحت تیار کیے جانے والے سالانہ منصوبوں کو گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے (جی پی ڈی پی) کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، تاکہ گرام پنچایت کی سطح پر منصوبہ بندی کا ایک متحدہ طریقۂ کار اپنایا جا سکے۔ بات چیت کے دوران ڈیسزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) کے ذریعے نشان زد کیے گئے پینے کے پانی کے ذرائع کو ترجیح دینے اور ان معلومات کو گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اڈیشہ نے باہمی تال میل کے ذریعے بڑے پیمانے پر آبی تحفظ اور آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کا اپنا تجربہ پیش کیا۔ اس نے زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے، استعمال شدہ پانی کے انتظام، آبی ذخائر کے علاقوں کی بحالی، آبی ذرائع کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل آبی بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات کو اجاگر کیا۔ اڈیشہ نے پینے کے پانی کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بحالی کے ڈھانچوں، برادری کی سطح پر پانی جذب کرنے والے گڑھوں اور روایتی آبی ذخائر کی بحالی کے جاری کاموں کی مثالیں بھی پیش کیں۔
مدھیہ پردیش نے 2026 کے رکھ رکھاؤ اور مرمت کے ضوابط کے تحت دفعات پر عمل درآمد اور گرام پنچایتوں کے ذریعے دیہی آبی فراہمی کی اسکیموں کی دیکھ ریکھ کو آسان بنانے سے متعلق اپنے اقدامات پیش کیے۔ ریاست نے بارش کے پانی کو جمع کرنے، زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بحالی کے ڈھانچوں اور آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق کاموں کے تخمینی نمونے پیش کیے۔ اس کے ساتھ ہی دیہی ترقی اور دیہی آبی فراہمی کے محکموں کے درمیان تال میل بہتر بنانے کے واسطے قائم کیے گئے ادارہ جاتی طریقۂ کار سے بھی آگاہ کیا۔
راجستھان نے وی بی-جی رام جی کے ساتھ تال میل کے ذریعے دیہی آبی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی پیشگی دیکھ ریکھ، خرابیوں کی اصلاح اور ہنگامی مرمت کے لیے ایک نظام پیش کیا۔ ریاست نے پانی کی فراہمی سے متعلق اثاثوں کی باقاعدہ دیکھ ریکھ اور ان کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے میں گرام پنچایتوں، پانی سمیتی اور پی ایچ ای ڈی کے اہلکاروں کے کردار کو اجاگر کیا۔
قومی جل جیون مشن کے ڈپٹی ایڈوائزر جناب سمت پریادرشی نے آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ اور پینے کے پانی سے متعلق خطرات کو کم کرنے کے واسطے ڈیسیزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) کے نفاذ پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیسیزن سپورٹ سسٹم پانی کے معیار اور مقدار سے متعلق خطرات سے دوچارپینے کے پانی کے غیر محفوظ ذرائع کی نشاندہی کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ریاستوں پر زور دیا گیا کہ وہ بستیوں میں اقدامات کو ترجیح دینے، میدانی جائزوں کے ذریعے خطرات کی تصدیق کرنے اور خطرات کو کم کرنے کے اقدامات کے نفاذ کے بعد نتائج کی نگرانی کی خاطر ڈی ایس ایس کے اعداد و شمار کا استعمال کریں۔
ریاست آسام نے پانی کی مقدار کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کرنے والے گاؤں کی نشاندہی اور تصدیق کے لیے ڈی ایس ایس کے استعمال کا اپنا تجربہ پیش کیا۔ اس نے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کے ذریعے نقشہ سازی، میدانی تصدیق، معیاری عملی طریقۂ کار کی تیاری اور پینے کے پانی کے غیر محفوظ ذرائع کے اصلاحی منصوبے تیار کرنے سے متعلق کوششوں کو اجاگر کیا۔
اختتامی ملاحظات پیش کرتے ہوئے قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوان نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستوں کویہ یقینی بنانا چاہیے کہ وی بی-جی رام جی کے تحت سرمایہ کاری کا رخ ڈی ایس ایس کے ذریعے شناخت کردہ پینے کے پانی سے متعلق مسائل کے حل کی جانب ہو۔ وزارتِ جل شکتی اور وزارتِ دیہی ترقی کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ آبی تحفظ سے متعلق ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت سے متاثرہ نشان زدکردہ بلاکوں میں آبی نظم کے کاموں پر ہونے والے اخراجات کے نتیجے میں پینے کے پانی کے تحفظ میں قابلِ پیمائش بہتری آنی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ دیہی ترقی کے انتظامی معلوماتی نظام میں پینے کے پانی کے ذرائع اور ان سے متعلق گرام پنچایتوں کی معلومات کو شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ پانی کی فراہمی سے متعلق کاموں کی منصوبہ بندی، اخراجات اور عمل درآمد کی زیادہ مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلع کلکٹر، ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور متعلقہ فیلڈ اہلکار پانی کے معیار اور مقدار سے متعلق خطرات سے دوچارپینے کے پانی کے غیر محفوظ ذرائع کی نشاندہی کرنے اور انہیں ترجیح دینے کے لیے ڈی ایس ایس کے اعداد و شمار کا فعال طور پر استعمال کریں۔
جناب کمل کشور سوان نے ریاستوں سے یہ بھی کہا کہ وہ مانسون کے بعد پینے کے پانی کے ذرائع کا جائزہ لیں اور ان کی جانچ کریں، میدانی تصدیق کے ذریعے آبی ذرائع کی صورت حال کی توثیق کریں اور خطرات کو کم کرنے کے لیے مناسب منصوبے تیار کریں۔ انہوں نے آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق اقدامات کی سائنسی بنیاد پر منصوبہ بندی، مناسب نگرانی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے واسطے دیہی آبی فراہمی، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے محکموں کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی اور فیلڈ سطح کے افسران کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں، پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں فعال اقدامات کو ترجیح دیں اور نومبر 2026 سے طے شدہ علاقائی کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے ٹھوس عملی منصوبے تیار کریں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ باہمی تال میل کے اس نظام کا حتمی مقصد محض اثاثے تیار کرنا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی سطح پر مربوط کارروائی اور گرام پنچایت کی قیادت میں انتظام وانصرام کو مضبوط بنا کر پینے کے پانی کے ذرائع کے طویل مدتی پائیدار تحفظ اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی قابلِ اعتماد خدمات کو یقینی بنانا ہے۔
کانفرنس کا اختتام مرکز اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ طے شدہ تال میل کے نظام کو عملی شکل دی جائے گی اور جل جیون مشن 2.0 اور وی بی-جی رام جی کے تحت آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد میں تیزی لائی جائے گی۔
******
ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا
UR No-6070
(ریلیز آئی ڈی: 2323436)
وزیٹر کاؤنٹر : 7