شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے میزورم میں شمال مشرقی بینکروں کے کانکلیو 3.0 کا افتتاح کیا، خطے میں قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر زور دیا
سندھیا نے کہا- شمال مشرقی خطہ بینکروں کے لیے سب سے زیادہ امید افزا منڈیوں میں شامل ہے
شمال مشرقی خطے کی معیشت سالانہ 9 سے 11 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، آٹھ ریاستوں میں 40,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر چکی ہے
بینکاری سہولتیں 99.93 فیصد گاؤں تک پہنچیں، بینکوں کی 131 نئی شاخیں اور 126 اے ٹی ایم مزید جوڑے گئے
سندھیا نے ریاست وار قرض اور جمع رقم کے تناسب کے اہداف مقرر کرنے اور شمال مشرقی خطے کے لیے مخصوص قرض کا نظام وضع کرنے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 10:04PM by PIB Delhi
شمال مشرقی خطے کی ترقی اور مواصلات کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے آج ایزول میں میزورم یونیورسٹی میں شمال مشرقی بینکروں کے کانکلیو 3.0 کا افتتاح کیا۔ اس کانکلیو میں بینکاری سہولتوں تک رسائی کو وسعت دینے، مالیاتی شمولیت کو مضبوط بنانے اور شمال مشرقی خطے میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس تقریب میں میزورم کے وزیر اعلیٰ لالدوہوما، ریاستی وزیر پروفیسر لالنیلاوما، شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے سکریٹری سرینواس کٹکی تھلا، چیف سکریٹری کھلی رام مینا اور شمال مشرقی کونسل کے سکریٹری ستیندر کمار بھلا نے شرکت کی۔ ریزرو بینک آف انڈیا، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک، سینٹرل بینک آف انڈیا، یوکو بینک، بینک آف بڑودہ، انڈین اوورسیز بینک، انڈین بینک، انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک، کینرا بینک، پنجاب اینڈ سندھ بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ نابارڈ، سڈبی، ڈی ایف ایس، این ای بی ایف آئی ، این ای آر اے ایم اے سی اور این ای سی بی ڈی سی سمیت ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

شمال مشرقی بینکروں کے کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے، جناب جیوترادتیہ سندھیا نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ تین ترجیحات: بینکاری کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، ریاست وار قرض اور جمع رقم کے تناسب کے اہداف کے ذریعے قرضوں تک رسائی بہتر بنانے اور ایم ایس ایم ای اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔
شمال مشرقی خطے کو ہندوستان اور عالمی سطح پر بینکاری کے سب سے زیادہ امکانات والے خطوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب سندھیا نے اس کی سالانہ اقتصادی ترقی کی شرح 9 سے 11 فیصد ہونے کو اجاگر کیا۔ شمال مشرقی خطے سے اپنے ذاتی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بینکروں پر زور دیا کہ وہ یہاں تیزی سے بڑھتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے امکانات تلاش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خطے میں پیدا ہونے والی اقتصادی قدر اسی خطے میں برقرار رہے۔
اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اضافہ
مالیاتی شمولیت کو اقتصادی شمولیت میں تبدیل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ شمال مشرقی خطے میں بینکوں میں جمع ہونے والے ہر 100 روپے کے مقابلے میں صرف 47 روپے قرض کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ کاروباری افراد، کسانوں، خواتین اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای)کے لیے قرضوں تک رسائی کو وسعت دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرض اور جمع رقم کا تناسب شمال مشرقی خطے میں ’’ترقی کے لیے قرض‘‘ کے تصور کی عکاسی کرے۔
وزیر موصوف نے شمال مشرقی خطے کے لیے مخصوص قرض خطرات کا نظام وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں زمین کی ملکیت کا اجتماعی نظام قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ضمانت سے متعلق لچکدار ضوابط کا متقاضی ہے۔


ششمال مشرقی خطے میں بینکاری نیٹ ورک کی توسیع
شمال مشرقی بینکروں کے پہلے کانکلیو کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے، جناب سندھیا نے کہا کہ پہلے کانکلیو میں مقرر کیے گئے بینکاری اہداف کے سلسلے میں پانچ برسوں کے دوران تقریباً 73 فیصد ترقی حاصل کی گئی ہے۔
اہم حصولیابیاں:
- بینکوں کی 131 نئی شاخیں اور 126 اے ٹی ایم مزید قائم کیے گئے۔
- انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک (آئی پی پی بی) کے 247 نئے مراکز قائم کیے گئے۔
- پورے خطے میں بینکوں کی 6,674 شاخیں اور 5,823 اے ٹی ایم کام کر رہے ہیں۔
- تقریباً 99.93 فیصد گاؤں میں بینکاری کی سہولتیں دستیاب ہیں۔
- آئی پی پی بی کے مزید 2,500 مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
بینکاری اور ڈاک کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے نشان زد کیے گئے تقریباً 9,000 گاؤں میں سے 6,905 گاؤں کو ان سہولتوں سے جوڑا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ، باقاعدہ بینکوں کی شاخ کھولنے کے لیے آبادی کی کم از کم حد 3,000 سے گھٹا کر 2,000 کر دی گئی ہے۔
شمال مشرقی خطے میں ڈیجیٹل بینکاری کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب سندھیا نے بتایا کہ خطے میں بینک کی شاخوں کے علاوہ ہونے والے تمام لین دین میں 90.2 فیصد حصہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کا ہے۔

شمال مشرقی خطے میں 40,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر چکی ہے
مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ مئی 2025 میں منعقدہ رائزنگ نارتھ ایسٹ انویسٹرز سمٹ کے بعد شمال مشرقی خطے کی آٹھ ریاستوں میں تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہوائی اڈوں کے نیٹ ورک کو 9 سے بڑھا کر 17 ہوائی اڈوں تک وسعت دی گئی ہے۔
انہوں نے میزورم میں بیرابی ریلوے لائن کا بھی ذکر کیا، جس پر تقریباً 15 لاکھ مسافروں نے 1,100 پھیروں کے دوران سفر کیا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کو مجموعی بجٹی امداد کا 10 فیصد مختص کیے جانے کے تحت ہر سال ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کی جاتی ہے، جس کی نگرانی شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کرتی ہے۔ انہوں نے آٹھ ریاستوں کو مالی وسائل کی منتقلی کے تحت تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے کی رقم کا بھی ذکر کیا۔
شمال مشرقی خطے کو آبادی کے لحاظ سے بڑے فوائد حاصل ہیں
خطے کی آبادی اور اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کی آبادی تقریباً 5 کروڑ ہے۔ انہوں نے تعلیم، ہنرمندی کی ترقی، کاروبار اور روزگار کے شعبوں میں زیادہ مواقع فراہم کرکے خطے کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کی آٹھ ریاستوں میں شرح خواندگی کی اوسط 93 فیصد ہے، جبکہ میزورم نے 100 فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
خطے کی قدرتی دولت اور اقتصادی امکانات پر زور دیتے ہوئے جناب سندھیا نے کہا، ’’شمال مشرقی خطے میں نوجوان آبادی اور تعلیمی صلاحیت کے سبب بڑے فوائد حاصل ہیں ،قدرتی وسائل کی وسیع اقسام موجود ہیں اور قدرتی خوبصورتی بھی غیر معمولی ہے۔ جب آپ لینگپوئی میں اترتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی جنگل میں اترے ہوں۔ قدرت نے اس خطے کو ایک ایسی منفرد نعمت سے نوازا ہے جو کہیں اور نہیں ملتی۔‘‘
خطے کی اقتصادی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آپ کسی ایسے اقتصادی خطے میں قدم نہیں رکھ رہے ہیں جسے ابھی دریافت کیا جانا باقی ہو۔ دنیا ترقی کر رہی ہے۔ اندازہ لگائیے کہ شمال مشرقی خطے کی سالانہ شرح نمو کتنی ہے؟ یہ ہر سال 9 سے 11 فیصد ہے۔‘‘ انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ اس ترقی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں۔
خطے کے ساتھ اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے جناب سندھیا نے کہا کہ ’’مجھے شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت (ڈونر) کا وزیر بنے تقریباً 32 ماہ ہو چکے ہیں اور یہ شمال مشرقی خطے کا میرا 35واں دورہ ہے۔ یہاں کی غاروں اور دریاؤں سے لے کر درختوں کی جڑوں سے بنے پلوں تک اور کاروباری افراد سے لے کر گاؤں کی سطح پر حکومتوں کی صلاحیتوں تک، میں نے اس خطے کی بے پناہ صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘
ریاست کے لحاظ سے بینکاری کا لائحۂ عمل
مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا نے مالیاتی خدمات کے محکمے (ڈی ایف ایس)کے لیے چار ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ ان میں بینکوں کی 70 شاخوں، کاروباری نمائندوں اور انڈیا پوسٹ پیمنٹ بینک (آئی پی پی بی) کے مراکز کے قیام کا منصوبہ تیار کرنا، تجارتی بینکوں کی موجودگی کو مضبوط بنانا، شمال مشرقی خطے کے لیے مخصوص قرض خطرات کا نظام وضع کرنا اور خطے کے مالیاتی نظام کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ای ڈی ایف آئی، ڈی ایف ایس ، ایم ڈونر اور ریاستی حکومتوں نے مل کر مالیاتی شعبے میں موجود خلا کی نشاندہی کرنے اور ریاستوں کے لیے مخصوص اقدامات وضع کرنے کے سلسلے میں کام کیا ہے۔
اپریل سے جون 2026 کے درمیان شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے سکریٹری نے ریاستوں کے ساتھ الگ الگ مشاورت کی، جس کے بعد ریاستوں نے اپنے اپنے اہداف مقرر کیے۔
وزیر موصوف نے بینکروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شمال مشرقی خطے میں مالیاتی سہولتوں تک بڑھتی ہوئی رسائی اقتصادی مواقع میں تبدیل ہو اور خطے میں پیدا ہونے والی قدر اسی خطے میں برقرار رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –م ش -ع ن)
U. No. 6045
(ریلیز آئی ڈی: 2323096)
وزیٹر کاؤنٹر : 5