مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
انڈیا پوسٹ اور انڈیگو نے ڈیجیٹل ڈی ٹاکس مہم کے تحت پوسٹ کارڈز کو آسمانوں تک پہنچایا
قومی ڈاک ہفتہ کے دوران ڈاک ٹکٹ کےدن کے موقع پر 30 ہزار فٹ کی بلندی پر مسافروں نے اسکرینوں سے تازہ دم کرنے والا وقفہ لیا اور ہاتھ سے لکھے خطوط کی خوشی اور بامعنی انسانی روابط کی اہمیت کو دوبارہ محسوس کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 3:42PM by PIB Delhi
مواصلات کی وزارت کے محکمہ ڈاک نے تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا میں ہاتھ سے لکھ کر بات چیت کرنے کی خوشی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کے تحت، انڈیگو کے اشتراک سے 12 اکتوبر کو ایک منفرد ڈیجیٹل ڈی ٹاکس مہم کا انعقاد کیا۔ 12 اکتوبر کو جاری قومی ڈاک ہفتہ (9 سے 15 اکتوبر) کی تقریبات کے دوران ڈاک ٹکٹ کے دن کے طور پر منایا گیا۔ اس پہل کا مقصد مسافروں کو اپنے ڈیجیٹل آلات سے کچھ دیر کے لیے وقفہ لینے، اپنے خیالات کاغذ پر تحریر کرنے اور خط لکھنے کے ذریعے اپنے عزیزوں سے دوبارہ جڑنے کی ترغیب دینا تھا۔


(ہاتھ سے لکھ کر رابطے کو فروغ دینے کے لیے مسافروں میں ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کٹس تقسیم کی گئیں۔)
اس مہم کے تحت انڈیگو کی منتخب پروازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو سفر کے دوران خصوصی طور پر تیار کردہ ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کٹس پیش کی گئیں، جن میں پوسٹ کارڈ شامل تھے۔
اس مہم کے ذریعے بنگلورو، دہلی، حیدرآباد، کولکاتا، ممبئی اور چنئی کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو جوڑا گیا۔ ان مسافروں نے جوش و خروش کے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا، ہاتھ سے خط لکھنے کے تجربے سے لطف اندوز ہوئے اور اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد ہوائی اڈوں پر خصوصی طور پر رکھے گئے انڈیا پوسٹ کے خطوط کے ڈبوں میں اپنے خطوط ڈالے، تاکہ انہیں آگے متعلقہ پتے پر پہنچایا جا سکے۔ اس پہل میں خصوصی طور پر تیار کردہ پوسٹ کارڈ بھی شامل تھے، جن پر تمام شہروں کے مشہور مقامات کی تصاویر نمایاں کی گئی تھیں۔




(اسکرین سے وقفہ لے کر مسافروں نے 30 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنے عزیزوں کے نام دل سے پیغام لکھے۔)
اس تجربے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، پرواز میں سوار ایک مسافر نے کہا، ’’آج کے دور میں، جب پیغامات پڑھے جانے کی تصدیق کے لیے نیلے نشان نظر آتے ہیں، میں نے 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پوسٹ کارڈ لکھا! بادلوں اور خاموشی کے درمیان کہیں ایک ایسا بہترین لمحہ ملا، جب میں اپنی زندگی کے خاص لوگوں کے لیے اپنے خیالات کاغذ پر تحریر کر سکا۔’’
اس مہم نے اسکرین پر گزارے جانے والے وقت کو کم کرنے، ذہنی یکسوئی کو فروغ دینے اور انسانی روابط کو مضبوط بنانے میں ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس پہل کے ذریعے انڈیا پوسٹ نے ہاتھ سے لکھے خطوط کی لازوال کشش اور بامعنی رابطے کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
سوشل میڈیا لنکز:
1. https://www.instagram.com/p/DeZPSrTkjrX/?srtk=MWZhejBwNWtibnd5cQ==
30 ہزار فٹ کی بلندی پر تحریر: آج میں نے 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پوسٹ کارڈ لکھا۔ اور ایسا کرنے والوں میں میرا شمار ابتدائی لوگوں میں تھا۔ تحریر ہمیشہ ایسے جذبات کو ابھارتی رہی ہے، جن کا احساس نیلے نشان کبھی نہیں دلا سکتے۔ فوری جوابات اور مسلسل ملنے والی اطلاعات کی اس دنیا میں، ہاتھ سے لکھے خطوط اور پوسٹ کارڈ حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ہاتھ سے لکھا ہوا کوئی خط یا پوسٹ کارڈ ملے تو سمجھ لیجیے کہ آپ خاص ہیں۔ کسی نے آپ کے بارے میں سوچنے، مناسب الفاظ تلاش کرنے اور اپنے وجود کا ایک چھوٹا سا حصہ کاغذ پر اتارنے کے لیے وقت نکالا، اس امید کے ساتھ کہ وہ تحریر آپ تک پہنچ جائے گی۔ عام طور پر مجھے کھڑکی والی سیٹ پسند نہیں ہے، لیکن آج میں نے ایسی ہی سیٹ کا انتخاب کیا۔ صرف اس لیے کہ میں بادلوں کے قریب بیٹھ کر لکھ سکوں۔ ‘‘میرے خیالات پرواز کریں۔’’ میرے پوسٹ کارڈ پر یہی الفاظ لکھے تھے اور 30 ہزار فٹ کی بلندی پر یہ الفاظ پہلے سے کہیں زیادہ حقیقی محسوس ہوئے۔اس ‘‘فن ود فلیٹلی ڈے’’ کے موقع پر یہ یاد دہانی ہے کہ ہر پوسٹ کارڈ محض ایک پیغام سے بڑھ کر ہو سکتا ہے۔ اس پر لگا ڈاک ٹکٹ اپنے ساتھ تاریخ، ثقافت اور باہمی تعلق کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی لیے ہوتا ہے۔ شاید کچھ جذبات صرف ایک پیغام سے کہیں زیادہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اور شاید کچھ باتیں آسمان کے ذرا قریب بیٹھ کر ہی بہتر انداز میں لکھی جا سکتی ہیں۔
*****
ش ح۔ض ر۔ اش ق
U. No-5097
(ریلیز آئی ڈی: 2322791)
وزیٹر کاؤنٹر : 10