کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان-برطانیہ مشترکہ اقتصادی اور تجارتی کمیٹی(جی ای ٹی سی او)کے 16 ویں اجلاس کا  مشترکہ بیان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 5:58PM by PIB Delhi
  1. ہم ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش وید پرکاش گوئل اور برطانیہ کے وزیر برائے کاروبار، اختراع، سائنس اور تجارت، رکن پارلیمنٹ عزت مآب جوناتھن رینالڈز نے آج نئی دہلی میں ہندوستان-برطانیہ مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جیٹکو) کے 16ویں اجلاس کے لیے ملاقات کی۔
  2. یہ جنوری 2022 میں ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کے لیے مذاکرات شروع ہونے کے بعد جیٹکو کا پہلا اجلاس تھا۔ ہم نے اس تاریخی معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس سے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو پہلے ہی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہم نے واضح کیا کہ سی ای ٹی اے ہماری مشترکہ امنگوں کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ آنے والے برسوں میں مزید گہری اور وسیع تر اقتصادی شراکت داری کی بنیاد ہے۔
  3. جیٹکو کے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ گئی کہ اس کے ساتھ شمالی انگلینڈ کے سات میئرز اور ایک مشترکہ اتھارٹی کے سربراہ کا دورہ بھی ہوا۔ اس اجلاس نے دونوں ممالک کی حکومتوں، کاروباری اداروں، جامعات، اختراع کاروں اور علاقائی رہنماؤں کی شرکت پر مشتمل وسیع تر روابط کے پروگرام کو تقویت دی۔ اس پروگرام کے تحت برطانیہ کے وزیر برائے اسکاٹ لینڈ اور وزیر برائے ماحولیات، خوراک اور دیہی امور نے بھی الگ الگ دورے کیے۔
  4. ہم نے شمالی انگلینڈ سے آئے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ ریاستیں، علاقے اور شہر تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  5. ہماری بات چیت سے ہندوستان-برطانیہ شراکت داری کی بڑھتی ہوئی امنگوں اور وسعت کی عکاسی ہوئی۔ ہم نے عالمی اقتصادی صورت حال اور سی ای ٹی اے کے نافذ ہونے کے بعد ہونے والی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا اور آنے والے سال کے لیے ترجیحات پر اتفاق کیا۔

 

فوائد کو یقینی بنانا

  1. ہم نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں نے اس معاہدے سے تیزی کے ساتھ فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ معاہدے کے نافذ ہونے کے دن ہی ہندوستانی برآمد کنندگان نے برطانیہ کو 50 سے زیادہ کھیپیں روانہ کیں۔ ان میں اسمارٹ فون جیسے الیکٹرانک آلات، ٹربو جیٹ سمیت برقی اور میکانی مشینری، سونے کے زیورات، تیار ملبوسات، اونی دھاگا، چائے اور کافی شامل تھے۔ آسام سے برطانیہ کو جوہا چاول کی کھیپ روانہ کیے جانے کے ساتھ ہی چاول کی اس منفرد علاقائی قسم کی برطانیہ کو پہلی بار برآمد ممکن ہوئی۔ سی ای ٹی اے کے تحت اصل ملک کے پہلے سرٹیفکیٹ بھی ہندوستان کے ای-کو او 2.0 پلیٹ فارم کے ذریعے خود تصدیقی بنیاد پر جاری کیے گئے، جس سے برآمد کنندگان کو ابتدا ہی سے ترجیحی تجارتی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملی۔ برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی سالمن مچھلی کی پہلی کھیپ، جس پر کوئی محصول عائد نہیں تھا، دو ہفتوں کے اندر ہندوستان پہنچ گئی اور اس کے بعد سے کئی ہزار کلو گرام مچھلی برآمد کی جا چکی ہے۔ اسکاچ وہسکی بھی کم محصولات کے تحت ہندوستانی بازار میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ محصولات کی شرح کے کوٹے کے تحت برآمد کی جانے والی پہلی گاڑیاں کسٹم سے کلیئر ہونے کے بعد ہندوستان درآمد کی جا چکی ہیں۔
  2. ہم نے اتفاق کیا کہ سی ای ٹی اے کے نافذ ہونے کی تاریخ سے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ہر سال اس بات سے متعلق اعداد و شمار کا تبادلہ کیا جائے گا کہ کاروباری ادارے اس معاہدے سے کس طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں یہ تفصیلات بھی شامل ہوں گی کہ کاروباری ادارے سی ای ٹی اے کے تحت کم محصولات کی سہولت سے کتنی بار فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ کاروباری اداروں سے یہ رائے بھی لی جائے گی کہ کون سے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور کن شعبوں میں مزید مدد کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمیں ترجیحات کی مشترکہ صورت حال سمجھنے اور یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ مزید کمپنیوں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اس معاہدے سے فائدہ اٹھانے میں کس طرح مدد دی جا سکتی ہے۔
  3. ہم نے سی ای ٹی اے کے مسلسل اور بلارکاوٹ نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصوبے پر بھی اتفاق کیا۔ اس میں معاہدے کے تحت کمیٹیوں اور ورکنگ گروپوں کا قیام اور معاہدے کے ہر حصے کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان رابطے کے ذمہ دار افسران کی نامزدگی کی تصدیق شامل ہے۔ ہم نے مسائل کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے میں مددگار ثابت ہونے والے قریبی تعاون کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ حکام سے کہا کہ آئندہ پیدا ہونے والے چیلنجوں کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔

کاروباری اداروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا

  1. ہم نے سی ای ٹی اے کی بنیاد پر خدمات، اختراع، سرکاری خریداری، سائنس و ٹیکنالوجی اور صنفی امور کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے اور علاقائی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے ہر خطے میں ترقی کو فروغ مل سکے۔
  2. ہم نے آج منعقد ہونے والے ہندوستان-برطانیہ سائنس و اختراع کونسل کے اجلاس اور اختراعی گول میز کانفرنس کا خیرمقدم کیا۔ اس طرح کے روابط کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور محققین کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے تجارتی سطح پر متعارف کرانے میں مدد دیتے ہیں۔
  3. ہم نے جیٹکو کے 16ویں اجلاس کے ساتھ صنعتوں کی جانب سے بھرپور شرکت کا خیرمقدم کیا اور مواقع کی نشاندہی کرنے اور نفاذ سے متعلق چیلنجوں کو سمجھنے کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان مسلسل رابطوں، مختلف شعبوں کی گول میز کانفرنسوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
  4. ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی ای ٹی اے کے نفاذ سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے کاروباری اداروں، صنعتی انجمنوں، برآمدات کے فروغ سے متعلق اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے حاصل ہونے والی آرا سے مسلسل استفادہ کیا جائے گا۔
  5. ہم نے اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی وفود کے دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ جیٹکو کے اس اجلاس سے پیدا ہونے والی پیش رفت اور رفتار کو برقرار رکھا جا سکے۔

آئندہ جیٹکو اجلاس

  1. ہم نے اتفاق کیا کہ جیٹکو کی 17وان اجلاس2027 میں برطانیہ میں منعقد ہوگا۔

********

ش ح۔ م ح۔ج ا

U-5038


(ریلیز آئی ڈی: 2322471) وزیٹر کاؤنٹر : 12