صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے کیلانگ میں بلند پہاڑی علاقوں میں طب اور صحتِ عامہ کی تحقیق کے لیے آئی سی ایم آر مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا


مخصوص تحقیقی مرکز احتیاطی طبی نگہداشت کو مضبوط بنانے اور ہمالیائی برادریوں کو درپیش صحت کے منفرد مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا:  جناب جگت پرکاش نڈا

’’آئی سی ایم آر، مسلح افواج کی طبی خدمات اور ایمس بلاس پور بلند پہاڑی علاقوں میں صحت سے متعلق تحقیق کے لیے مل کر کام کریں گے‘‘

آئی سی ایم آر اور مسلح افواج کے اشتراک سے انتہائی بلندی والے علاقوں کے حالات کے لیے مؤثر طبی حل تیار کیے جائیں گے:مرکزی وزیر مملکت جناب سنجے سیٹھ

کیلانگ میں قائم ہونے والی نئی تحقیقی سہولت سے ہندوستان اور اس سے باہر کی ہمالیائی برادریوں کو فائدہ پہنچے گا:جناب جے رام ٹھاکر

بلند پہاڑی علاقوں میں تحقیق کا یہ اقدام ہمالیہ کے دور دراز علاقوں میں بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے:محترمہ کنگنا رناوت

یہ مرکز ہمالیائی علاقوں میں صحت سے متعلق ہندوستان کے اپنے سائنسی شواہد تیار کرے گا؛ مشترکہ تحقیق میں فوجیوں اور سرحدی علاقوں کی برادریوں پر توجہ دی جائے گی

دور دراز علاقوں میں طبی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے تحقیق میں ڈرون کے ذریعے ادویات کی فراہمی، ڈیجیٹل صحت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 4:03PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و کھاد کے وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج ہماچل پردیش کے کیلانگ میں بلند پہاڑی علاقوں میں طب اور صحتِ عامہ کی تحقیق کے لیے ہندوستانی طبی تحقیق کونسل (آئی سی ایم آر) کے مرکز کا بھومی پوجن کیا اور سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ مرکز بلند پہاڑی علاقوں میں صحت سے متعلق تحقیق کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی بنیاد قائم کرے گا اور ہمالیائی خطے میں رہنے والے لوگوں اور بلند پہاڑی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو درپیش صحت کے منفرد مسائل کے بارے میں سائنسی سمجھ کو آگے بڑھائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آکسیجن کی کم سطح، شدیدسردی، بدلتے ہوئے موسمی حالات اور قبائلی برادریوں کے مخصوص طرزِ زندگی کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے مخصوص سائنسی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صحت کے خطرات کی شناخت، مناسب اقدامات کی تیاری اور احتیاطی طبی نگہداشت کو مضبوط بنانے کے لیے ان علاقوں سے متعلق مخصوص مسائل کے منظم مطالعے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور معیاری طبی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ اس مرکز کا قیام دور دراز ہمالیائی اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مخصوص طبی ضروریات کو پورا کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیق پر مبنی اقدامات سے صحت کے نتائج بہتر بنانے اور ان دشوار گزار علاقوں میں رہنے والی مقامی برادریوں اور خدمات انجام دینے والے مسلح افواج کے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

 جناب جگت پرکاش نڈا نے اس مرکز کے قیام میں ہندوستانی طبی تحقیق کونسل (آئی سی ایم آر) اور مسلح افواج کی طبی خدمات کے درمیان تعاون کو سراہا۔ انہوں نے ایمس بلاس پور کے تعاون کا بھی اعتراف کیا، جو اس خطے میں آنے والے مریضوں پر بلند پہاڑی علاقوں کے حالات کے صحت سے متعلق اثرات کا مطالعہ کرے گا۔ اس اشتراک سے سائنسی مہارت اور طبی تجربے کو یکجا کرکے بلند پہاڑی علاقوں میں صحت سے متعلق مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور سائنسی شواہد پر مبنی طبی اقدامات کی حمایت کرنے میں مدد ملے گی۔

اس اقدام کی طویل مدتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ یہ مرکز بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والی قبائلی برادریوں اور وہاں تعینات مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے طبی سہولتوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ یہاں کی جانے والی تحقیق سے احتیاطی اور صحت کو فروغ دینے والی طبی حکمت عملیوں کی تیاری میں مدد ملے گی۔ جس سے انتہائی نامساعد ماحولیاتی حالات سے وابستہ مخصوص طبی چیلنجوں سے نمٹنے اور ہمالیائی خطے میں طبی خدمات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ جناب نڈا نے کووڈ-19 کی ویکسین تیار کرنے میں آئی سی ایم آر کے کردار کو بھی سراہا۔ جس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی وبا سے نمٹنے میں مدد کی۔

مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے، جو اس موقع پر مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے موجود تھے۔ کیلانگ میں بلند پہاڑی علاقوں میں تحقیق کے مرکز کے قیام کے لیے ہندوستانی طبی تحقیق کونسل (آئی سی ایم آر) اور مسلح افواج کی طبی خدمات کے درمیان اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بلند پہاڑی علاقوں میں کام کرنے کے مسلح افواج کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ مشترکہ تحقیقی اقدام انتہائی بلندی والے علاقوں میں صحت سے متعلق چیلنجوں کے بارے میں سائنسی فہم کو مزید گہرا کرنے اور مؤثر طبی حل تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

مرکزی وزیر مملکت جناب سیٹھ نے بلند پہاڑی علاقوں کے حالات سے پیدا ہونے والے صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے آئی سی ایم آر کی سائنسی تحقیقی صلاحیتوں اور مسلح افواج کی طبی خدمات کے عملی تجربے کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ توقع ہے کہ اس مرکز میں کی جانے والی تحقیق سے انسانی جسم پر بلندی کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے دشوار گزار ماحول میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ہماچل پردیش کے بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والی مقامی برادریوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ہماچل پردیش قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلیٰ جناب جے رام ٹھاکر نے کہا کہ کیلانگ میں آئی سی ایم آر کے بلند پہاڑی تحقیقی مرکز کا قیام ان مخصوص صحت کے چیلنجوں کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جن کا سامنا بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شدید سردی، آکسیجن کی کم سطح اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کے اثرات پر تحقیق سے بہتر طبی حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ جس سے نہ صرف ہماچل پردیش بلکہ ہندوستان اور دنیا بھر کے بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والی برادریوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

منڈی سے رکن پارلیمنٹ محترمہ کنگنا رناوت نے کہا کہ بہتر رابطہ سہولتوں نے ہماچل پردیش کے دور دراز علاقوں کی زندگی بدل دی ہے، جو دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باعث کبھی کئی کئی ماہ تک باقی دنیا سے کٹے رہتے تھے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کیلانگ کے پہاڑی علاقے میں آئی سی ایم آر کے بلند پہاڑی تحقیقی مرکز کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ جس سے سائنسی تحقیق کو فروغ ملے گا، بلند پہاڑی علاقوں میں صحت سے متعلق چیلنجوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔

مرکز کے سائنسی وژن کی وضاحت کرتے ہوئے محکمۂ تحقیقِ صحت کے سکریٹری اور آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر  جناب راجیو بہل نے کہا کہ کیلانگ ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں تجربہ گاہ اور مقامی برادری ایک دوسرے سے جڑیں گی، جہاں مقامی لوگ تحقیق میں شراکت دار ہوں گے اور جہاں مقصد صرف تحقیقی مقالے تیار کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کی صحت بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے آئی سی ایم آر کے اس مرکز کے قیام میں مسلح افواج کی طبی خدمات، ہماچل پردیش حکومت اور مقامی برادری کے اہم تعاون پر زور دیا۔

تحقیق کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل مسلح افواج کی طبی خدمات ایئر مارشل جناب سندیپ تھریجا نے کہا کہ اس مرکز میں کی جانے والی تحقیق سے دنیا کے دشوار ترین بلند پہاڑی علاقوں میں تعینات فوجیوں کے طبی خدمات کو براہِ راست مضبوطی ملے گی۔ مسلح افواج کی طبی خدمات کے میدانی تجربے کو آئی سی ایم آر کی سائنسی مہارت کے ساتھ یکجا کرنے سے تحقیق کے نتائج کو بلندی کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے، بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں شناخت کرنے اور علاج کے لیے عملی طریقۂ کار میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیلانگ میں حاصل ہونے والا علم نہ صرف مسلح افواج کے اہلکاروں بلکہ ان دشوار گزار علاقوں میں رہنے والی مقامی برادریوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔

لاہول اور اسپیتی کے سابق رکن اسمبلی جناب روی ٹھاکر نے اعتماد ظاہر کیا کہ کیلانگ میں کی جانے والی تحقیق سے ان ملحقہ ہمالیائی علاقوں کی برادریوں کے لیے بہتر طبی سہولتوں اور احتیاطی اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔

اس موقع پر مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا اور دیگر معزز شخصیات نے ’’گرین آئی سی ایم آر کیمپس پہل‘‘ کے تحت ہمالیہ کے مقامی پودے لگائے۔ جناب نڈا نے اسکولی طلبہ کے لیے سائنسی نمائش کا افتتاح  بھی کیا۔ مرکز ی ویب سائٹ اور ادارہ جاتی ویڈیو کا اجراء بھی کیا ۔اس دوران ایک یادگاری خصوصی ڈاک ٹکٹ لفافے کا اجرا کیا۔ یہ اقدامات کیلانگ میں بلند پہاڑی علاقوں میں طب اور صحتِ عامہ کی تحقیق کے لیے آئی سی ایم آر مرکز کے قیام کے اہم مراحل کی علامت ہیں۔

اس تقریب میں مسلح افواج کی طبی خدمات اور ہندوستانی فضائیہ کے سینئر افسران، سائنس دانوں، پنچایتی راج کے نمائندوں اور مقامی باشندوں نے بھی شرکت کی۔

تقریباً ایک دہائی قبل آئی سی ایم آر کی جانب سے کیلانگ میں قائم کیے گئے میدانی تحقیقی مرکز کی بنیاد پر تعمیر کیا گیایہ مرکز ایک مستقل ادارے کے طور پر سال بھر کام کرے گا۔ یہاں جدید ترین تجربہ گاہیں اور خصوصی تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہوگی۔ اس کا بنیادی مقصد بلند پہاڑی علاقوں، آکسیجن کی کم سطح، شدید سردی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے صحت پر اثرات کے بارے میں سائنسی شواہد جمع کرنا ہوگا۔ اس مرکز کی ایک اہم خصوصیت آئی سی ایم آر، مسلح افواج کی طبی خدمات اور دیگر تحقیقی اداروں کے درمیان اشتراک ہوگا۔ جس کے ذریعہ حیاتی طبی تحقیق، صحتِ عامہ اور بلند پہاڑی علاقوں میں انسانی جسم کے افعال سے متعلق مہارت کو یکجا کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مرکز مسلح افواج اور عام شہریوں، دونوں کے لیے مفید تحقیق کرے گا۔ اس تحقیق میں بلندی سے متعلق صحت کے خطرات، بلندی کے ماحول سے ہم آہنگی، ماؤں اور نومولود بچوں کی صحت، بچوں کی نشوونما اور غذائیت، نیز ہمالیائی برادریوں میں بیماریوں کے رجحانات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ مرکز اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ ڈرون کے ذریعے ادویات کی فراہمی، ڈیجیٹل صحت اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کس طرح دور دراز اور ناقابلِ رسائی علاقوں میں طبی سہولتوں تک رسائی بہتر بنا سکتی ہے۔ توقع ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے سائنسی شواہد طبی طریقۂ کار کو بہتر بنانے، بلند پہاڑی علاقوں میں تعینات اہلکاروں کے لیے احتیاطی تدابیر اور طبی علاج کو مضبوط کرنے اور ہندوستان کے ہمالیائی و سرحدی علاقوں بشمول ہماچل پردیش، لداخ، جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں رہنے والی برادریوں کے لیے بہتر طبی خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261012160458_41a3ea.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261012160507_b94d9b.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261012160518_5af892.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261012160526_94c6ad.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261012160534_385a4f.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261012160543_d405e2.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261012160554_df05b3.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image008_20261012160604_ec365f.jpg

********

 

ش ح۔م ح۔ج ا

U-5020


(ریلیز آئی ڈی: 2322333) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी