PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم گتی شکتی کے پانچ سال: ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں انقلابی تبدیلی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 1:49PM by PIB Delhi

پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبہ (پی ایم جی ایس-این ایم پی) قومی بنیادی ڈھانچے کے نقشہ سازی کے ایک پلیٹ فارم سے ترقی کرتے ہوئے ایک وسیع تر منصوبہ بندی کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ جغرافیائی اطلاعاتی نظام پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف وزارتوں، ریاستوں اور بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورکس کو ایک ساتھ جوڑتا ہے، تاکہ مربوط منصوبہ بندی اور منصوبوں کے درمیان تال میل کو فروغ دیا جا سکے۔ آج اس کے دائرے میں مرکز کی58 وزارتیں اور محکمے، نیز تمام 36 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں۔

وکست بھارت کی تعمیر میں بنیادی ڈھانچے کا کلیدی رول

ہندوستان ایسے وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر رہا ہے، جس کے لیے مختلف شعبوں اور ذرائع نقل و حمل کے درمیان تال میل ضروری ہے۔ سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، آبی گزرگاہیں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے نیٹ ورک اکثر ایک ہی خطے میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ان تمام نیٹ ورکس کی مشترکہ منصوبہ بندی سے لاگت اور وقت کی بچت، مختلف منصوبوں کے درمیان تال میل اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کے زیادہ مؤثر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر ایک ایسے طریقۂ کار کی ضرورت محسوس کی گئی، جو بنیادی ڈھانچے کے مختلف نیٹ ورکس کو منصوبہ بندی کے ایک مشترکہ نظام میں یکجا کر سکے۔

اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے13 اکتوبر 2021 کو پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ اس کے تحت مختلف وزارتوں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعداد و شمار کو جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا۔ پی ایم گتی شکتی منصوبہ سازوں کو بنیادی ڈھانچے، جغرافیائی خصوصیات، اقتصادی خطوں اور دیگر متعلقہ معلومات کا ایک ساتھ جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں اعداد و شمار پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ ملتا ہے۔ پانچ سال کے عرصے میں یہ طریقۂ کار ملک گیر منصوبہ بندی کے ایک جامع نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

پی ایم گتی شکتی ایک نظر میں

پی ایم گتی شکتی کی رہنمائی چھ بنیادی اصولوں کے تحت کی جاتی ہے، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو زیادہ مربوط، مؤثر اور ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان اصولوں میں مربوط ترقی، ذرائع نقل و حمل کے مختلف طریقوں پر مشتمل بنیادی ڈھانچہ، آخری سرے تک رابطے کی سہولت، زمین کے حصول کے عمل میں تیزی، منظوریوں کے عمل کو کم سے کم کرنا اور ماحولیات پر اثرات کو گھٹانا شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261012134651_43e870.jpg

پی ایم گتی شکتی کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

کیا آپ جانتے ہیں؟
 پی ایم گتی شکتی میں مختلف وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں بھارت مالا، ساگر مالا، اندرونِ ملک آبی گزرگاہیں، خشک/ زمینی بندرگاہیں اور اُڑان اسکیم شامل ہیں۔

  • سات بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبے: سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں، آبی گزرگاہیں، ہوائی اڈے، عوامی نقل و حمل اور رسد کا بنیادی ڈھانچہ اس منصوبے کے بنیادی شعبے ہیں۔
  • حکومت کے تمام شعبوں کی مشترکہ منصوبہ بندی: قومی جامع منصوبے میں مرکز کی58 وزارتوں اور محکموں کے ساتھ تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کیا گیا ہے، جس سے مختلف شعبوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق تجاویز کی منصوبہ بندی اور جانچ ممکن ہوتی ہے۔
  • مربوط ڈیجیٹل منصوبہ بندی: قومی جامع منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے اور جغرافیائی معلومات کو جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے، جس سے مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں مدد ملتی ہے۔
  • معلومات تک وسیع تر رسائی: پی ایم گتی شکتی کا عوامی پلیٹ فارم 230 منظور شدہ معلوماتی مجموعوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے موزوں مقامات کے انتخاب، رابطہ جاتی نقشہ سازی، راستوں کے تعین اور ضابطوں کی پابندی کی جانچ میں مدد ملتی ہے۔
  • معلومات کی تہیں: 12 اکتوبر 2026 تک 23,493 سے زیادہ معلوماتی تہوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور دیگر متعلقہ معلومات کو مشترکہ جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔

 

آئی ٹی ایل اے: نقل و حمل کی مربوط منصوبہ بندی کو مستحکم بنانا

پی ایم گتی شکتی کے تکمیلی اقدام کے طور پر، مرکزی کابینہ نے حال ہی میں مربوط نقل و حمل اور رسد کی اتھارٹی (آئی ٹی ایل اے) کے قیام کو منظوری دی ہے۔ یہ اتھارٹی طویل مدتی نقل و حمل کی منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں کے درمیان تال میل پر توجہ مرکوز کرے گی۔

 

آئی ٹی ایل اے 10 سال یا اس سے زیادہ مدت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک قومی جامع منصوبۂ نقل و حمل تیار کرے گی۔ یہ مختلف شعبوں کے نقل و حمل کے منصوبوں اور سالانہ منصوبوں کا جائزہ لے گی، نیز 500 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت والے منصوبوں کی تکنیکی جانچ کرے گی۔ اس کے علاوہ، اتھارٹی ان منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی بھی کرے گی۔ یہ فاسٹ ٹیگ، وہیکل (واہن) اور جی ایس ٹی نیٹ ورک (جی ایس ٹی این) کے الیکٹرانک سامان برداری بلوں جیسے ذرائع سے معلومات یکجا کرکے قومی ذخیرۂ معلوماتِ نقل و حمل (این ٹی ڈی آر) بھی تیار کرے گی۔

 گتی  شکتی کا طریقۂ کار: باہمی تال میل سے  پروجیکٹ کی منصوبہ بند ی تک

پی ایم گتی شکتی میں تین سطحوں پر مشتمل ادارہ جاتی نظام ہے، جس میں درج ذیل ادارے شامل ہیں:

  • بااختیار سکریٹریوں کا گروپ (ای جی او ایس): کابینہ سکریٹری کی صدارت میں یہ گروپ پی ایم گتی شکتی کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے اور جامع منصوبے میں تبدیلیوں کا جائزہ لے کر ان پر غور اور منظوری دیتا ہے۔
  • نیٹ ورک منصوبہ بندی گروپ (این پی جی): اس گروپ میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں اور محکموں کے نیٹ ورک منصوبہ بندی ڈویژنوں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں۔ یہ بنیادی ڈھانچے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیتا ہے اور منصوبہ بندی میں یکسانیت، باہمی ربط اور وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، منصوبوں کی تیاری کے سلسلے میں قومی جامع منصوبے کے تحت ہونے والی پیش رفت کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
  • تکنیکی معاونت یونٹ (ٹی ایس یو): اس یونٹ میں متعلقہ شعبوں اور موضوعات کے ماہرین شامل ہوتے ہیں، جو جائزے کے عمل میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ رسد کے ڈویژن کو پی ایم گتی شکتی کے سکریٹریٹ کے طور پر اس کی ذمہ داریاں انجام دینے میں مدد دیتا ہے۔

11 اگست 2026 تک، نیٹ ورک منصوبہ بندی گروپ (این پی جی) تقریباً18.66 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی تخمینہ لاگت والے بنیادی ڈھانچے کے 396 منصوبوں کا جائزہ لے چکا تھا۔ ان میں سے 256 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی تھی، جن میں سے 198 پر عمل درآمد جاری تھا۔ اس ادارہ جاتی نظام کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی معاونت حاصل ہے، جو منصوبہ سازوں کو جغرافیائی معلومات، سیارچوں سے حاصل کردہ تصاویر اور تجزیاتی آلات فراہم کرتا ہے۔

گتی شکتی وشوودیالیہ: بنیادی ڈھانچے کی مربوط منصوبہ بندی کے لیے مہارتوں کو فروغ دینا

گتی شکتی وشو ودیالیہ (جی ایس وی) اپنی نوعیت کی پہلی ایسی یونیورسٹی ہے، جو خصوصی طور پر نقل و حمل اور رسد کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ 2022 میں قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی نقل و حمل سے متعلق مختلف شعبوں میں تعلیم، انتظامی تربیت اور تحقیق کو یکجا کرتی ہے۔

جی ایس وی خصوصی تعلیم، تربیت اور تحقیق کے ذریعے پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے اور قومی رسدی پالیسی (2022) کی معاونت کرتی ہے۔ ان دونوں اقدامات سے متعلق نصاب تیار کرنے اور تربیتی کورسز منعقد کرنے کے لیے جی ایس وی ایک مرکزی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس اشتراک کے تحت ایسے علمی مراکز قائم کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جو بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور رسد کے شعبے میں تحقیق و اختراع کے فروغ میں مدد دیں گے۔ جولائی2026 تک، یونیورسٹی پی ایم گتی شکتی کے لیے تیار کردہ کورسز کے ذریعے2.4 لاکھ سے زیادہ افسران کو تربیت دے چکی تھی۔ یونیورسٹی مربوط نقل و حمل کی منصوبہ بندی کے لیے عملی تحقیق پر بھی اپنی توجہ بڑھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری نقل و حمل، پلوں اور سرنگوں کی انجینئرنگ اور دفاعی رسد جیسے خصوصی شعبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

اعداد وشمار سے فیصلہ سازی تک: ڈیجیٹل منصوبہ بندی سے منصوبہ سازوں کو کیسے مدد مل رہی ہے؟

قومی جامع منصوبے (این ایم پی) کے تحت بنیادی ڈھانچے، جغرافیائی خصوصیات اور آبادی سے متعلق جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی اعداد و شمار کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔ مربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے اقتصادی خطوں کے نقشے بھی نقل و حمل کے مختلف ذرائع کو باہم مربوط کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ تیار کیے گئے ہیں۔ اس سے منصوبہ سازوں کو منصوبوں کی تیاری کے دوران بنیادی ڈھانچے کے مختلف نیٹ ورکس اور متعلقہ جغرافیائی معلومات کا ایک ساتھ جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔

یہ پلیٹ فارم مقامی منصوبہ بندی اور تجزیاتی آلات کے ساتھ اعداد و شمار کو تازہ ترین رکھنے اور یکجا کرنے کے طریقۂ کار کو بھی شامل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے منصوبوں سے متعلق معلومات شامل کرنے، قربت کی پیمائش کرنے، ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنے جہاں ترقیاتی سرگرمیوں کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں دی جا سکتی (گو/نو گو علاقے) اور ضروری منظوریوں کے حصول جیسے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔

بنیادی ڈھانچے اور اس کے اہم مراکز کی نقشہ سازی

پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے کے تحت اقتصادی، سماجی اور رسدی مراکز کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کے مختلف ذرائع کو باہم مربوط کرنے والے بنیادی ڈھانچے کی نقشہ سازی کی جاتی ہے۔ اس سے بنیادی ڈھانچے کے باہمی روابط اور متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کی صورتِ حال کو منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم اقتصادی خطوں اور ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کے روابط کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ رابطے کی ان خامیوں کو بھی سامنے لانے میں مدد کرتا ہے، جو لوگوں، سامان اور خدمات کی بلارکاوٹ نقل و حرکت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

مربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے ٹیکسٹائل اور ادویہ سازی کے صنعتی کلسٹرز، دفاعی راہداریاں، الیکٹرانک پارکس، صنعتی راہداریاں، ماہی گیری کے کلسٹرز اور زرعی خطوں جیسے اقتصادی مراکز کی نقشہ سازی بھی کی جاتی ہے۔

مثال: بہار میں کھگڑیا–پورنیہ راہداری۔ اس راہداری کو بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت پی ایم گتی شکتی کے پانچ اقتصادی مراکز کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ ہے، جن میں ٹیکسٹائل کلسٹر، میگا فوڈ پارکس اور ماہی گیری و سمندری خوراک کے پارکس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 11 رسدی مراکز کو بھی اس سے مربوط کیا جائے گا۔ اس مجوزہ رابطہ نظام کا مقصد پورے خطے میں سامان اور مسافروں کی تیز تر نقل و حرکت کو ممکن بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261012134754_f6d67e.jpg

رسدی نظاموں کو باہم مربوط کرنا

متحدہ رسدی رابطہ پلیٹ فارم (یو ایل آئی پی) سرکاری رسدی نظاموں کو اطلاقی پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) کے ذریعے باہم مربوط کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ رسدی معلوماتی بینک (ایل ڈی بی) برآمدات و درآمدات کے مال بردار کنٹینروں کی نقل و حرکت پر حقیقی وقت میں نظر رکھنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ دونوں نظام مل کر رسدی کے پورے نظام میں معلومات کے ڈیجیٹل تبادلے اور نقل و حرکت کی صورتِ حال کو واضح بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ جولائی2026 تک، یو ایل آئی پی نے 142 اطلاقی رابطوں (اے پی آئی) کے ذریعے مرکز کی12 وزارتوں کے 46 سرکاری نظاموں کو باہم مربوط کیا تھا۔

وسیع تر صارفین کے لیے جغرافیائی معلومات تک رسائی

ڈیجیٹل نظام اب سرکاری صارفین تک محدود نہیں رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے کے پلیٹ فارم کو بھاسکر آچاریہ قومی ادارۂ خلائی اطلاقات و جغرافیائی معلومات ( بی آئی ایس جی -این) کے تیار کردہ سوالات پر مبنی تجزیاتی طریقۂ کار کے ذریعے نجی شعبے کے لیے بھی کھول دیا گیا۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کے لیے منتخب غیر حساس معلوماتی مجموعوں تک ضابطہ بند رسائی فراہم کرتا ہے۔

اس وقت یہ پلیٹ فارم طبعی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں سے متعلق 230 منظور شدہ معلوماتی مجموعوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ صارفین موزوں مقامات کے انتخاب کا تجزیہ، رابطہ جاتی نقشہ سازی، راستوں کا تعین اور ضابطوں کی پابندی کی جانچ کر سکتے ہیں، نیز تجزیاتی رپورٹیں بھی تیار کر سکتے ہیں۔

اعداد وشمار سے نگرانی تک

یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم منصوبوں کی پیش رفت پر نظر رکھنے اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات کو تازہ ترین بنانے میں بھی معاون ہے۔ پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے کا ڈیش بورڈ مختلف شعبوں سے متعلق رپورٹیں فراہم کرتا ہے، جن کے ذریعے پیش رفت کی نگرانی اور قابلِ عمل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ معلومات درج کرنے اور ان کے انتظام کا نظام (ڈی یو ایم ایس) معلومات کی غیر مرکزی ملکیت اور حقیقی وقت میں ان کی تازہ کاری کو ممکن بناتا ہے۔

اس مجموعی طریقۂ کار میں جغرافیائی معلومات، سیارچوں سے حاصل کردہ تصاویر اور اطلاقی پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) کے ذریعے مختلف نظاموں کو باہم مربوط کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق منصوبہ بندی، وسائل کے بہتر استعمال اور فیصلہ سازی کو اعداد و شمار پر مبنی بنایا جا سکے۔

پی ایم گتی شکتی کے عملی نمونے

  • پونے–بنگلورو ایکسپریس وے: 699 کلومیٹر طویل اس ایکسپریس وے کی تعمیر28–2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ مہاراشٹر اور کرناٹک میں واقع صنعتی اور اقتصادی مراکز کو آپس میں جوڑے گا۔ ان میں گاڑیوں اور گھریلو استعمال کی پائیدار اشیاء بنانے والے کارخانے، ادویہ سازی کے صنعتی مراکز، خصوصی اقتصادی خطے اور دفاعی راہداریاں شامل ہیں۔ یہ منصوبہ 15 قومی شاہراہوں، 25 ریاستی شاہراہوں اور 6 ریلوے اسٹیشنوں کو آپس میں جوڑ کر نقل و حمل کے مختلف ذرائع کے درمیان رابطے کو ممکن بنائے گا۔ پی ایم گتی شکتی قومی جامع منصوبے کے پلیٹ فارم کے استعمال سے سڑک کے مجوزہ راستے میں تبدیلی کی گئی، جس کے نتیجے میں جنگلاتی اراضی کے ساتھ اس کے تداخل میں19 فیصد کمی آئی۔ اس منصوبے سے سفر کے وقت میں7 سے 8 گھنٹے کی بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، سالانہ تقریباً16 کروڑ لیٹر ایندھن کی بچت اور کاربن کے اخراج میں تقریباً39 کروڑ کلوگرام کمی آنے کی توقع ہے۔
  • جوگی گھوپا کثیر ذرائعی رسدی پارک، آسام: جوگی گھوپا کثیر ذرائعی رسدی پارک آسام میں دریائے برہم پتر کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔ اسے شمال مشرقی خطے میں سڑک، ریل اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے سامان کی بلارکاوٹ نقل و حمل ممکن بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کی مربوط منصوبہ بندی اور طلب کے تجزیے کے لیے پی ایم گتی شکتی کا استعمال کیا گیا۔ دریائے برہم پتر پر دھوبری اور پھلباری کے درمیان زیر تعمیر 4 لین والا پل سفر کی مسافت کو 205 کلومیٹر سے کم کرکے 20 کلومیٹر اور سفر کے وقت کو تقریباً سات گھنٹے سے گھٹا کر 30 منٹ کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
  • سبز توانائی راہداری: لداخ–ہریانہ: پی ایم گتی شکتی کے تحت نیٹ ورک منصوبہ بندی گروپ (این پی جی) کی سفارش کردہ اس اسکیم کے ذریعے5 گیگاواٹ کی ترسیلی صلاحیت کے نظام کے توسط سے 13 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کو ترسیلی نظام میں منتقل کرنے اور قومی بجلی گرڈ سے مربوط کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے میں لداخ کے پانگ سے ہریانہ کے کیتھل تک 480 کلومیٹر طویل ہائی وولٹیج براہِ راست رو (ایچ وی ڈی سی) ترسیلی لائن شامل ہے، جس کے دونوں سروں پر 5 گیگاواٹ صلاحیت کے ایچ وی ڈی سی ٹرمینل نصب کیے جائیں گے۔ یہ ترسیلی نظام ہماچل پردیش اور پنجاب سے گزرتے ہوئے کیتھل میں قومی بجلی گرڈ سے منسلک ہوگا۔ اس منصوبے کو مالی سال 30–2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

باہم مربوط بنیادی ڈھانچے کے مستقبل کی تعمیر

آغاز کے پانچ سال بعد، پی ایم گتی شکتی قومی بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے ایک اقدام سے ترقی کرتے ہوئے ایک وسیع تر ڈیجیٹل منصوبہ بندی کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وزارتوں، ریاستوں، اضلاع اور بنیادی ڈھانچے کے نئے شعبوں تک اس کی توسیع سے ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی اگلی نسل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک زیادہ مربوط طریقۂ کار تشکیل پا رہا ہے۔

 

حوالہ جات

وزیر اعظم کا دفتر

https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1763576&lang=2&reg=48

اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی( سی سی ای اے)

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1968732&lang=2&reg=48

تجارت و صنعت کی وزارت

https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/login

https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/about_pmgati

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2178521&reg=48&lang=2

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2023/apr/doc2023427188001.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1964364&lang=2&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297818&reg=48&lang=1

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2022/nov/doc20221124135401.pdf

https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1988824&lang=2&reg=48

https://www.dpiit.gov.in/offerings/schemes-and-services/details/pm-gati-shakti-kjNyATMtQWa

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2178521&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2178500&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297818&lang=2&reg=48

https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/downloadfilenew/--srv--NMP_Files--1741588112582_PMGatiShakti_Compendium%20Vol-1.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1910456&lang=2&reg=48

سڑک نقل وحمل اور شاہراہوں کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2111288&lang=1&reg=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268357&lang=1&reg=48

ریلوے کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2031049&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286394&lang=1&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206603&lang=1&reg=1

گتی شکتی وشوودیالیہ

https://gsv.ac.in/

https://gsv.ac.in/vice-chancellor/

الیکٹرانک اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2301687&lang=1&reg=3

پی آئی بی آرکائیو

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=153274&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?id=151083&NoteId=151083&ModuleId=16&reg=48&lang=2

 

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

********

) ش ح ۔ا ک۔ش ت)

U.No. 5011


(ریلیز آئی ڈی: 2322294) وزیٹر کاؤنٹر : 6