وزارت آیوش
سائنسی شواہد اور معیاری اصولوں کی بنیاد پر روایتی طریقۂ علاج دنیا بھر میں احتیاطی حفظان صحت اور ہمہ جہت صحت و تندرستی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے: مرکزی وزیر پرتاپ راؤ جادھو
آیوش کے مرکزی وزیر نے ہند-برطانیہ ہیلتھ کانکلیو 2026 کا افتتاح کیا؛ آیوش کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے منظم تربیتی پروگرام کا خیرمقدم کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 6:06PM by PIB Delhi
آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج اس بات پر زور دیا کہ روایتی طریقۂ علاج، اگر سائنسی تحقیق، مناسب طبی شواہد، معیاری اصولوں اور ذمہ دارانہ انضمام پر مبنی ہو، تو دنیا بھر میں احتیاطی حفظان صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ہمہ جہت صحت و تندرستی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے نئی دہلی میں ہند-برطانیہ ہیلتھ کانکلیو 2026 کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس کانکلیو کا اہتمام مارینگو ایشیا ہاسپٹلس اور بیپیو ٹریننگ اکیڈمی نے کیا ہے، جس کا موضوع ’’حفظان صحت ، تعلیم اور اختراع کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا‘‘ہے۔ دو روزہ اس تقریب میں ہندوستان اور برطانیہ کے طبی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور مختلف اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
آیوش کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے منظم تربیت اور صلاحیت سازی کے ایک پروگرام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے، جناب جادھو نے کہا کہ سائنسی تحقیق، مناسب طبی شواہد، معیاری اصولوں اور ذمہ دارانہ انضمام کے ذریعے روایتی طریقۂ علاج احتیاطی حفظان صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ہمہ جہت صحت و تندرستی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس پہل کے تحت آیوش کے فارغ التحصیل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے چھ چھ ماہ کے دو سرٹیفکیٹ کورس شروع کیے گئے ہیں جن کے نام سرٹیفکیٹ اِن اکیوٹ کیئر اینڈ ایمرجنسی سپورٹ (سنگین نوعیت کے طبی حالات میں نگہداشت اور ہنگامی طبی امداد سے متعلق سرٹیفکیٹ کورس)، اور سرٹیفکیٹ اِن لائف اسٹائل ہیلتھ اینڈ ویل-بیئنگ کونسلنگ اینڈ پریکٹس (طرزِ زندگی، صحت و تندرستی سے متعلق مشاورت اور عملی تربیت سے متعلق سرٹیفکیٹ کورس) ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد منظم تدریس اور نگرانی میں عملی تربیت کے ذریعے طبی معاونت سے متعلق مہارتوں اور احتیاطی صحت سے متعلق مشاورتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
دونوں ممالک کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ طبی نظم و نسق، مریضوں کے تحفظ اور معیار کی یقین دہانی کے شعبوں میں برطانیہ کے تجربے کو ہندوستان کی طبی مہارت، تکنیکی اختراع اور صحت خدمات فراہم کرنے کی صلاحیتوں کے ساتھ ملا کر حفظان صحت کے زیادہ مؤثر اور جواب دہ نظام قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جناب جادھو نے منتظمین اور شرکت کرنے والے اداروں کو مبارک باد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کانکلیو بات چیت کو دونوں ممالک کے نظامِ صحت کے لیے پائیدار شراکت داریوں اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
توقع ہے کہ یہ کانکلیو ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ علم کے تبادلے، پیشہ ورانہ ترقی اور صحت خدمات کی فراہمی میں اختراع کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
******
U-NO- 5015
ش ح۔م م ۔ ع د
(ریلیز آئی ڈی: 2322286)
وزیٹر کاؤنٹر : 12