سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ٹی ڈی بی-ڈی ایس ٹی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ادویات کی دریافت اور تیاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پیپٹریس کے ساتھ 86 کروڑ روپے کی تحقیق، ترقی اور اختراع سے متعلق مالی معاونت کے معاہدے پر دستخط کیے
وی آئی جی او آر پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کی گئی ادویات کے چار امیدواروں کو طبی آزمائش کے مرحلے تک پہنچایا جائے گا، جس سے ہندوستان میں ادویات کی تیاری اور اختراع کے نظام کو مزید مضبوطی ملے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 10:52AM by PIB Delhi
مصنوعی ذہانت کے ذریعے اگلی نسل کی ادویات کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، حکومتِ ہند کی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے کرناٹک کے شہر بنگلورو میں واقع پیپٹریس ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) فنڈ کے تحت 86 کروڑ روپے کی مالی معاونت کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس پروجیکٹ کا نام وی آئی جی او آر:مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کیے گئے سالمات کو تجربہ گاہ سے طبی استعمال تک پہنچانا کے عنوان سے اس منصوبے کی مجموعی لاگت 172 کروڑ روپے ہے۔ اس کا مقصد طبی استعمال سے قبل ادویات کی تیاری، توثیق اور طبی آزمائشوں کی تیاری کے ذریعے ادویات کے چار امیدواروں کو ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح (ٹی آر ایل)-4 سے ٹی آر ایل-6 تک پہنچانا ہے۔ یہ مالی معاونت اختیاری طور پر قابلِ تبدیل قرض (او سی ڈی) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
مصنوعی ذہانت ادویات کی دریافت کے شعبے میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ اس کی مدد سے محققین امید افزا سالمات کی شناخت، بیماریوں کے اسباب اور طریقۂ کار کی تحقیق اور ممکنہ علاج کی تلاش کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔ تاہم، کمپیوٹر پر مبنی تحقیق کے ذریعے حاصل ہونے والی دریافتوں کو قابلِ استعمال ادویاتی امیدواروں میں تبدیل کرنے کے لیے وسیع تجرباتی توثیق، طبی استعمال سے قبل مطالعات اور طبی ترقی کے مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔
پیپٹریس کا وی آئی جی او آر پروگرام مصنوعی ذہانت پر مبنی اپنی ملکیت والی ادویاتی دریافت کے پلیٹ فارم سے استفادہ کرتے ہوئے سالمات کے ایک مجموعے کو طبی ترقی کے مراحل تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ اس اہم عبوری مرحلے کے چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔ اس پروگرام میں علاج کے ایسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جہاں طبی ضروریات نمایاں طور پر پوری نہیں ہو پا رہی ہیں۔ اس کے تحت کمپیوٹر پر مبنی صلاحیتوں، سائنسی توثیق اور ادویات کی تیاری کے مستحکم طریقۂ کار کو یکجا کرتے ہوئے نئے علاج دریافت کرنے اور انہیں تیار کرنے پر زور دیا جائے گا۔
اس پروگرام میں ادویات کے چار امیدوار شامل ہیں: پی ای پی آر 111، جس کا ہدف اعصابی و عضلاتی عوارض اور سرطان کا علاج ہے؛ پی ای پی آر ایکس 101، جس کی توجہ بالوں کے جھڑنے کے علاج پر مرکوز ہے؛ پی ای پی آر 202، جس کا ہدف اعصابی نقصان سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ہے؛ اور پی ای پی آر 112، جو عضلاتی ڈسٹروفی کی ایک قسم ڈی ایم ڈی پر مرکوز ہے۔ فی الحال ان تمام امیدواروں کی ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح ٹی آر ایل-4 ہے، جبکہ اس منصوبے کے تحت انہیں ٹی آر ایل-6 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ترقیاتی پروگرام میں تین برس کے دوران مرحلہ وار پیش رفت کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس میں طبی استعمال سے قبل جدید مطالعات، نئی تحقیقاتی دوا (آئی این ڈی) کے لیے درکار مطالعات، دوا کی تیاری اور اس کی موزوں شکل وضع کرنا، طبی آزمائشوں کی تیاری اور ان کے آغاز سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں۔ یہ تمام مراحل متعلقہ سائنسی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔
وی آئی جی او آر پروگرام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ پیپٹریس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ادویات کی دریافت کی صلاحیتوں اور اپنے موجودہ پلیٹ فارم کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے علاج کے امیدواروں کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس طریقۂ کار میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ادویات کی دریافت کو ادویات کی تیاری کے مستند تجربے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں تیاری اور توثیق کے عمل میں معاونت کے لیے عالمی سطح پر کام کرنے والے معاہداتی تحقیقی اداروں (سی آر او) کے نیٹ ورک سے استفادہ بھی شامل ہے۔ ایک مربوط پروگرام کے تحت متعدد ادویاتی امیدواروں کو ترقی کے اگلے مراحل تک پہنچانے میں معاونت کے ذریعے اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیق کو ممکنہ علاج کی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے عمل کو مضبوط بنانا ہے۔ اس پروگرام میں مخصوص بیماریوں کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا اس امکان کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ اختراع کو ان بیماریوں کے علاج کی جانب موڑا جا سکتا ہے، جن کے لیے مؤثر علاج کے متبادل اب بھی محدود ہیں۔
ٹی ڈی بی کے سکریٹری جناب راجیش کمار پاٹھک نے کہا،‘‘ادویات سے متعلق تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال نئی ادویات کے امیدواروں کی شناخت اور ان کی تیاری کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، امید افزا دریافتوں کو توثیق شدہ ادویاتی امیدواروں میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، سخت سائنسی جانچ اور ترقی کے ایک منظم طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) فنڈ کے ذریعے ٹی ڈی بی ٹیکنالوجی پر مبنی ایسے پروگراموں کی معاونت کر رہا ہے، تاکہ اختراع اور طبی ترقی کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے میں مدد ملے اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ادویات سازی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کی اختراع کے شعبوں میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔’’
پیپٹریس ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک نمائندے نے کہا، ‘‘آر ڈی آئی فنڈ کے تحت ٹی ڈی بی کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت سے ہمیں اپنے اس پروگرام کو آگے بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کیے گئے سالمات کو طبی استعمال سے قبل تیاری کے اہم مراحل سے گزارنے میں مدد ملے گی۔ ہمارا طریقۂ کار مصنوعی ذہانت پر مبنی دریافت، تجرباتی توثیق اور ادویات کی تیاری کے مستند طریقۂ کار کو یکجا کرتا ہے، تاکہ طبی ضروریات کی عدم تکمیل کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ یہ شراکت داری امید افزا کمپیوٹر پر مبنی دریافتوں کو ایسے ادویاتی امیدواروں میں تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں میں معاون ثابت ہوگی، جنہیں طبی ترقی کے اگلے مراحل تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل ہو۔’’

*******
) ش ح – رک )
U.NO- 4991
(ریلیز آئی ڈی: 2322106)
وزیٹر کاؤنٹر : 10