مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
نئی دہلی میں آئی ایم سی 2026 کے موقع پر زرعی و غذائی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر عالمی پہل (جی آئی – اے آئی 4 ایف ایس) کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا
اجلاس کی توجہ زرعی و غذائی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال پر مرکوز ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2026 6:55PM by PIB Delhi
ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر (ٹی ای سی)، محکمہ مواصلات (ڈی او ٹی)، وزارت مواصلات، حکومتِ ہند نے انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی)2026 کے ساتھ ساتھ زرعی و غذائی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر اقوامِ متحدہ کی عالمی پہل (جی آئی – اے آئی 4 ایف ایس) کے دوسرے اجلاس کی میزبانی کی۔ اس اجلاس کی مشترکہ میزبانی انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)، وزارت زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود، حکومتِ ہند کے ساتھ مل کر کی گئی۔ جی آئی – اے آئی 4 ایف ایس اقوامِ متحدہ کا ایک عالمی اقدام ہے، جس کا تال میل انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے قریبی تعاون سے کیا جاتا ہے۔

اس اجلاس میں تقریباً 70 مندوبین نے بالمشافہ اور 25 شرکاء نے آن لائن سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس نے بین الاقوامی تنظیموں، سرکاری محکموں، زرعی تحقیقی اداروں، تعلیمی اداروں، صنعت اور معیارات وضع کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کیا، تاکہ زراعت اور غذائی نظام میں انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر عالمی تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔
افتتاحی سیشن کا آغاز جی آئی- اے آئی 4 ایف ایس کے چیئرمین ڈاکٹر سیبسٹین بوس کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد کلیدی خطاب پیش کیے گئے۔ ان خطابات میں مسٹر کرشنن پالاسانا، سینئر اسپیشلسٹ – اسٹریٹجی، انوویشن اینڈ پارٹنرشپس، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن آف دی یونائیٹڈ نیشنز (ایف اے او)؛ ڈاکٹر بلال جاموسی، ڈپٹی ڈائریکٹر، ٹیلی کمیونیکیشن اسٹینڈرڈائزیشن بیورو (ٹی ایس بی)، آئی ٹی یو؛ ڈاکٹر اے کے نائک، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (نیچرل ریسورس مینجمنٹ)، آئی سی اے آر، محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای)، وزارت زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود؛ اور مسٹر سید توصیف عباس، سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور سربراہ، ٹی ای سی، محکمہ مواصلات، ہندوستان شامل تھے۔

اجلاس میں زرعی طریقوں کو تبدیل کرنے اور زرعی و غذائی نظام کو مضبوط بنانے میں مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور ڈیجیٹل رابطے کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ آپس میں منسلک سینسرز، موسمیاتی مراکز، ڈرونز، سیٹلائٹ پر مبنی نظاموں اور اے آئی سے لیس تجزیاتی آلات کا ملاپ درست اور سائنسی زراعت کو فروغ دے سکتا ہے، وسائل کے استعمال کو بہتر بنا سکتا ہے، فصلوں کی بیماریوں کی بروقت نشاندہی کو ممکن بنا سکتا ہے اور کسانوں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز زرعی سپلائی چینز میں شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کو بہتر بنانے، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور مجموعی کارکردگی کو بڑھانے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔
اس اجلاس سے قبل 8 اور 9 اکتوبر 2026 کو 'ایگری-فوڈ سسٹمز کے لیے مصنوعی ذہانت' پر دو روزہ بین الاقوامی ہیکاتھون کا انعقاد کیا گیا، جس کی مشترکہ میزبانی بھی ٹی ای سی ، محکمہ مواصلات اور آئی سی اے آر نے آئی سی اے آر کیمپس، نئی دہلی میں کی۔ اس ہیکاتھون نے طلبہ، محققین، ڈیولپرز اور نئی ایجادات کرنے والوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ وہ زراعت اور غذائی نظام میں درپیش حقیقی چیلنجوں کے حل کے لیے عملی تکنیکی حل تیار کر سکیں۔

جی آئی-اے آئی فور ایف ایس کے اجلاس میں 'لچکدار زرعی و غذائی نظام کے لیے اے آئی ایجادات' پر مبنی اس بین الاقوامی ہیکاتھون کے نتائج کی نمائش بھی کی گئی۔ شارٹ لسٹ کی گئی ٹیموں نے اپنے تیار کردہ حل پیش کیے اور ہیکاتھون کے دوران بنائی گئی مصنوعی ذہانت کی جدید ایپلی کیشنز کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس پروگرام میں فاتح ٹیموں کے حل کی پیشکش اور شاندار ایجادات کی پذیرائی کی گئی، اور ساتھ ہی ایک تقریبِ تقسیمِ انعامات بھی منعقد کی گئی جس میں حصہ لینے والی ٹیموں، شراکت داروں، رہنماؤں اور دیگر تعاون کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
اجلاس میں جی آئی-اے آئی فور ایف ایس کے انتظامی ڈھانچے اور تنظیمی ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایجنڈے میں مجوزہ گورننس اور کوآرڈینیشن کے ڈھانچے پر غور و خوض، ورکنگ گروپس کے چیئرز، کو-چیئرز اور ممبران کی نامزدگی و توثیق، ورکنگ گروپس کے دائرہ کار اور ترجیحی شعبوں و ابتدائی کام کے طریقہ کار کا تعین شامل تھا۔

مجموعی طور پر، جی آئی-اے آئی فور ایف ایس کے دوسرے اجلاس نے قابلِ اعتماد اور باہم مربوط کسان دوست اے آئی حلوں کو فروغ دے کر، گورننس اور معیارات پر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنا کر اور نئی ایجادات کو عملی شکل دینے کے مواقع کی نشاندہی کر کے زراعت اور غذائی نظام میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4961
(ریلیز آئی ڈی: 2321814)
وزیٹر کاؤنٹر : 15