سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے صنعتوں  پر زور دیا کہ  وہ  2047   ء تک اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے بھارتی اختراعات کو تجارتی شکل دیں اور صلاحیتوں کو وسعت دینے میں تیزی لائیں


مرکزی وزیر نے سائنسی تحقیق کو تجارتی منصوبوں اور عالمی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجیز میں تبدیل کرنے کے لیے صنعتوں کی زیادہ فعال شرکت پر زور دیا

بھارت نے کوانٹم محفوظ مواصلات کے شعبے میں   ایک ہزار   کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا، جب کہ ہدف آٹھ برس میں دو ہزار  کلومیٹر کا ہے :  ڈاکٹر جتیندر سنگھ

بھارت کی بایو اکانومی کا حجم 195 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ 2030 ء  تک اسے 300 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر  :  ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے 121ویں سالانہ اجلاس میں وزیر  موصوف نے بھارت کے تکنیکی اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان مضبوط تال میل پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2026 4:04PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنا لوجی اور ارضیاتی سائنسز  کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج  ) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی  کے محکمے اور  خلاء کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا  کہ صنعتوں کو اختراعات کے عمل میں تیزی لانی چاہیئے  نیز  سائنسی تحقیق کو تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنے اور بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے آگے آنا چاہیے، تاکہ  2047 ء  کے لیے مقررہ قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔

آج نئی دلّی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( پی ایچ ڈی سی سی آئی )  کے 121ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  ، وزیر  موصوف نے  ، اس بات پر زور دیا کہ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور اسٹارٹ اَپس کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، تاکہ سائنسی صلاحیتوں کو مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنا لوجیز، تجارتی طور پر قابلِ عمل کاروباری اداروں اور عالمی سطح پر مسابقتی حل میں تبدیل کیا جا سکے۔ نئی دلّی میں منعقدہ اس اجلاس میں صنعتوں کے رہنماؤں، کاروباری افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی اور بھارت کی ترقی و اختراعات سے متعلق ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی تکنیکی ترقی کے اگلے مرحلے میں دیگر ممالک میں تیار کردہ ٹیکنا لوجیز کو اپنانے سے آگے بڑھ کر ایسی مقامی ٹیکنالوجیز اور حل تیار کرنے پر توجہ دینی ہوگی، جن کی عالمی سطح پر بھی اہمیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اصلاحات کے بعد خلائی شعبے کے پورے نظام میں ہونے والی توسیع، نیز اسٹریٹجک ٹیکنا لوجی کے شعبوں میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت، ان مواقع کی عکاسی کرتی ہے  ، جو سائنسی صلاحیتوں کو ساز گار پالیسی ماحول اور کاروباری اقدامات کی حمایت حاصل ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔

قومی کوانٹم مشن کے تحت ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے  ، وزیر  موصوف نے کہا کہ بھارت نے کوانٹم محفوظ مواصلات کے لیے آٹھ برس میں 2,000  کلومیٹر کا ہدف مقرر کیا تھا، جب کہ ان کے خطاب کے مطابق  ، ملک نے صرف تین برسوں میں 1,000  کلو میٹر کا سنگِ میل حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کوانٹم مواصلات کی اسٹریٹجک اور سلامتی کے نقطۂ نظر سے اہمیت کو اجاگر کیا اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ملک کی اپنی صلاحیتیں فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر  موصوف نے  ، بھارت کی بایو اکانومی کی ترقی کا بھی ذکر کیا، جس کا حجم 2014 ء  میں تقریباً 10  ارب امریکی ڈالر تھا اور اب بڑھ کر تقریباً 196 ارب امریکی ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2030 ء  تک اسے 300  ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بایو ٹیکنا لوجی کے شعبے میں اسٹارٹ اَپس کے نظام کی توسیع کو لائف سائنسز اور جدید تحقیق کے  شعبے میں پیدا ہونے والے مواقع کا ثبوت قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سائنسی اختراعات میں نئے کاروباری ادارے قائم کرنے، ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اقتصادی قدر پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ تحقیقی منصوبوں کے ابتدائی مرحلے ہی سے صنعتوں کی شمولیت ہونی چاہیے، تاکہ سائنسداں بازار کی ضروریات کو سمجھ سکیں، تکنیکی تقاضوں کی نشاندہی کر سکیں اور ایسے حل تیار کر سکیں  ، جنہیں تجارتی سطح پر متعارف کرانے کا واضح راستہ موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی سی سی آئی جیسے صنعتی ادارے محققین اور کاروباری اداروں کے درمیان رابطہ قائم کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ایسی شراکت داریاں تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو اختراعات کو تجربہ گاہوں سے نکال کر ابتدائی نمونوں اور بازار میں پیش کیے جانے کے لیے تیار مصنوعات تک پہنچانے میں مدد دیں۔

حکومت کے تحقیق، ترقی اور اختراع  ( آر ڈی آئی ) اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے  ، وزیر  موصوف نے کہا کہ سائنسی دریافتوں کو تجارتی استعمال میں لانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی زیادہ شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تحقیق پر مبنی اختراعات میں زیادہ فعال کردار ادا کریں اور ایسا نظام تشکیل دینے میں مدد دیں، جس میں سائنسی  شعبے میں عمدہ کارکردگی  ، پائیدار کاروباری اداروں اور عالمی سطح پر مسابقتی مصنوعات کی شکل اختیار کرے۔

وزیر  موصوف نے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کے بنیادی ڈھانچے اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھارت کے اہداف کے حصول کے لیے مقامی ٹیکنالوجیز اور توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینا، نیز صنعتوں اور سائنسی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنا، بھارت کے  تکنیکی اعتبار سے  خود  کفیل بننے اور اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہوگا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی ترقی کے  اگلے بڑے  سنگِ میل کا انحصار نئی سوچ کو تیز رفتار عمل درآمد اور کامیاب اختراعات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی صلاحیت کے ساتھ جوڑنے پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اَپس کے درمیان مضبوط شراکت داری سے اختراعات کو تجارتی شکل دینے کے عمل میں تیزی آئے گی، ملک میں اختراعات کی بنیاد وسیع ہوگی اور 2047 ء  کے لیے  ، بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے درکار تکنیکی صلاحیتیں فروغ پائیں گی۔

 

 

 

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )

U.No. 4953


(ریلیز آئی ڈی: 2321749) وزیٹر کاؤنٹر : 20