سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنس کو سب کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے مقصد سے ڈی ایس ٹی اور ایم او ایس ٹی کی شہریوں کو ترجیح دینے والی کثیر لسانی ویب سائٹس کا افتتاح کیا


 نوتشکیل شدہ  پورٹلز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے شہریوں کو ترجیح دینے والی حکمرانی کے وژن اور ’’عوام کے ذریعے سائنس، عوام کے لیے سائنس‘‘ کے اصول کی عکاسی کرتی ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

 ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق، نئی ویب سائٹس تحقیقاتی گرانٹس، فیلوشپس، سائنسی اسکیموں اور طلبہ، محققین، اسٹارٹ اَپس اور عام شہریوں کے لیے دستیاب مواقع تک رسائی کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں

 ڈی بی آئی ایم 3.0 کے مطابق تیار کردہ یہ پورٹلز 22 زبانوں میں سہولت، عالمی سطح پر قابل رسائی ٹولز اور مختلف  ڈیوائسز پر بلا رکاوٹ استعمال کی سہولت فراہم کرتے ہیں

 ویب سائٹس کی ازسرِنو تشکیل کا مقصد سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو برانڈنگ، رسائی، سلامتی اور شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کے مشترکہ معیارات کے مطابق بنانا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 OCT 2026 4:55PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیر اعظم  کےدفتر (پی ایم او)، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج شروع کی گئی محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کی   نوتشکیل  شدہ ویب سائٹس وزیراعظم جناب نریندر مودی کے شہریوں کو ترجیح دینے والی حکمرانی کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا مقصد ملک بھر کے لوگوں کے لیے سائنسی معلومات کو قابل رسائی،  شمولیت پر مبنی اور مفید بنانا ہے۔

اس اقدام کی عوامی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا رہنما اصول ’’عوام کے ذریعے سائنس، عوام کے لیے سائنس‘‘ ہے، جس کے تحت سائنس کو سب کے لیے دستیاب، قابل رسائی اور کم خرچ  والابنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سائنسی شعبوں اور صنعتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ صارفین ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی ضروریات کے مطابق معلومات اور مواقع تلاش کر سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ڈی ایس ٹی کی سرکاری ویب سائٹس، www.dst.gov.in اور www.most.gov.in کی  نوتشکیل شدہ ورژن کا افتتاح کیا۔ یہ ویب سائٹس ڈیجیٹل برانڈ  آئیڈنٹیٹی مینوئل (ڈی بی آئی ایم) 3.0 اور بھارتی سرکاری ویب سائٹس و ایپس کے رہنما اصولوں (جی آئی جی ڈبلیو) 3.0 کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ اس موقع پر محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے، ڈی ایس ٹی کے سینئر افسران اور ویب سائٹس کی تیاری کے منصوبے سے وابستہ نمائندے بھی موجود تھے۔ ویب سائٹس کی ازسرنو تشکیل کا کام ڈی ایس ٹی، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی)، پروجیکٹ مینیجمنٹ ٹیم اور ترقیاتی ایجنسی نے مشترکہ طور پر انجام دیا، جبکہ مواد(کنٹینٹ) کو محکمہ کے داخلی شعبوں نے مرتب کیا اور اس کی توثیق کی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم طلبہ، تحقیقی رفقا، محققین، تعلیمی اداروں، اختراع کاروں، اسٹارٹ اَپس، کاروباری افراد، میڈیا کے پیشہ ور افراد اور عام شہریوں کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ اس کے ذریعے ڈی ایس ٹی کی اسکیموں، گرانٹس، فیلوشپس، سائنسی پروگراموں اور دیگر مواقع تک ایک ہی پلیٹ فارم سے رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

نئے سرے سے ترتیب دیے گئے معلوماتی نظام کے ذریعے صارفین متعلقہ معلومات زیادہ آسانی اور تیزی سے تلاش کر سکیں گے۔ ان معلومات میں اہلیت کے معیار، درخواست دینے کے رہنما اصول، تجاویز طلب کرنے کے اعلانات، ایوارڈز، نتائج اور سرکاری نوٹیفکیشن شامل ہیں۔ ان تمام وسائل کو ایک منظم انداز میں یکجا کرکے ان ویب سائٹس کا مقصد سرکاری معلومات تک رسائی کے لیے درکار محنت کو کم کرنا اور بھارت کے سائنس و ٹیکنالوجی کے نظام میں عوامی شرکت کو مضبوط بنانا ہے۔

ان ویب سائٹس میں معلومات کا ایک معیاری ڈھانچہ شامل کیا گیا ہے، جس میں محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا تعارف، مختلف شعبے، پروگرام اور اسکیمیں، خدمات، مواقع، دستاویزات، خبریں اور تازہ ترین معلومات جیسے اہم حصے شامل ہیں۔ اسکیموں اور مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک منظم نظام فراہم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تحقیق و ترقی کے لیے مالی معاونت، تجاویز طلب کرنے کے اعلانات، ایوارڈز اور درخواست فارم تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دستاویزات کے ایک مرکزی ذخیرے کے ذریعے رہنما اصولوں، پالیسی دستاویزات، نوٹیفکیشن، رپورٹس اور انتظامی فارموں تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔

ڈی ایس ٹی کے مختلف شعبوں، تنظیمی ڈھانچے اور افسران  سے رابطہ کرنے  کی تفصیلات کو نئے سرے سے منظم کیا گیا ہے، تاکہ صارفین آسانی سے متعلقہ معلومات تک پہنچ سکیں۔ یہ پلیٹ فارم بین الاقوامی متعلقہ فریقوں کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوطرفہ اور کثیرجہتی تعاون سے متعلق مخصوص معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔

نئی ویب سائٹس کی ایک اہم خصوصیت ’بھاشنی‘ کا انضمام ہے، جس کے ذریعے 22 زبانوں میں مواد(کنٹینٹ) تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ اس سے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک سائنسی معلومات کی رسائی ممکن ہوگی۔ ان پورٹلز میں ہر فرد کے لیے قابل رسائی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں فونٹ کا سائز تبدیل کرنے، زیادہ تضاد والے ڈسپلے موڈ، لنکس کو نمایاں کرنے، حروف کے درمیان فاصلہ اور سطروں کی اونچائی تبدیل کرنے، نیز اسکرین ریڈر کے ساتھ مطابقت کی سہولت شامل ہے۔

ان ویب سائٹس کا رسپانسیو ڈیزائن ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، ٹیبلٹس اور موبائل فونز پر رسائی کو ممکن بناتا ہے، جبکہ مواد(کنٹینٹ) کوپڑھنے کی سہولت اور استعمال میں آسانی برقرار رہتی ہے۔ ان سہولیات کا مقصد مختلف ضروریات رکھنے والے طلبہ، محققین، اختراع کاروں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات کو زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔

ویب سائٹس کی ازسرنو تشکیل، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت ( ایم ای آئی ٹی وائی) کی جانب سے مارچ 2025 میں ڈیجیٹل برانڈ آئیڈینٹیٹی مینوئل (ڈی بی آئی ایم) 3.0 کے اجرا کے بعد کی گئی ہے۔ یہ مینوئل سرکاری وزارتوں اور محکموں کی بصری شناخت(و یژ وئل آئیڈینٹیٹی)، معلوماتی ڈھانچے، مواد(کنٹینٹ) کی پیشکش اور مجموعی ڈیجیٹل موجودگی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس فریم ورک کی تکمیل کے لیے بھارتی سرکاری ویب سائٹس اور ایپس کے رہنما اصول (جی آئی جی ڈبلیو) 3.0 ویب سائٹس کے معیار، رسائی، سائبر سکیورٹی، استعمال میں آسانی اور ان کے پورے دور حیات (لائیو سائیکل)کے انتظام سے متعلق تقاضے متعین کرتے ہیں۔

یہ اقدام حکومت ہند کی جانب سے اپنے ڈیجیٹل نظام کو ہم آہنگ بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت معیاری برانڈنگ، نیویگیشن اور مواد کی پیشکش کے ذریعے سرکاری ویب سائٹس میں زیادہ یکسانیت لائی جا رہی ہے۔ اس طرح ویب سائٹس کی ازسرِنو تشکیل محض ظاہری تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مواد کی تنظیم نو، صارفین کے بہتر تجربے اور ڈیجیٹل مواد کے مؤثر و پائیدار انتظام کے نظام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ان ویب سائٹس کو ایک ماڈیولر  کنٹینٹ مینیجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس) کی مدد حاصل ہے، جو مواد کو اپ ڈیٹ کرنے، مستقبل میں توسیع اور سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق بیرونی ایپلی کیشنز کے ساتھ انضمام کو آسان بناتا ہے۔ سکیورٹی کے اقدامات میں ایس ایس ایل/ٹی ایل ایس انکرپشن، سائبر سکیورٹی کے جائزے اور سی ای آر ٹی – اِن  کےقابل اطلاق رہنما اصولوں کی پابندی شامل ہے۔ کنٹینٹ ڈیلوری نیٹ ورک (سی ڈی این) کے انضمام سے ویب سائٹس تیزی سے لوڈ ہوتی ہیں، نظام کا استحکام برقرار رہتا ہے اور زیادہ ٹریفک کے دوران بھی خدمات کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں اسکیموں کے نتائج کے اعلانات اور درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخوں کے دوران بڑھنے والی ٹریفک بھی شامل ہے۔ خبروں اور تازہ ترین معلومات کے نئے حصے میں پریس ریلیز، تجاویز طلب کرنے کے اعلانات، نتائج اور دیگر اہم اعلانات کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے صارفین متعلقہ سائنسی معلومات اور مواقع تک زیادہ آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

معلومات کی بہتر تلاش، کثیر لسانی رسائی، ہر فرد کے لیے قابل رسائی سہولیات اور ایک معیاری ڈیجیٹل فریم ورک کے ذریعے،  از سرنوتشکیل شدہ ویب سائٹس کا مقصد شفافیت کو مضبوط بنانا اور سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق سرکاری وسائل تک عوام کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔یہ اقدام ایک زیادہ جامع اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دیتا ہے، جہاں طلبہ، محققین، ادارے، کاروباری افراد اور عام شہری سائنسی پروگراموں، تحقیقی مواقع اور تکنیکی پیش رفت سے زیادہ آسانی کے ساتھ مستفید ہو سکتے ہیں۔

***

) ش ح –    م م- ش ب ن  )

U.No. 4916


(ریلیز آئی ڈی: 2321485) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi