مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ہندوستان نے سرحد پار ٹیلی مواصلاتی دھوکا دہی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آزمائشوں کی آئی ٹی یو کی تجویز کا خیرمقدم کیا: مواصلات کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی
اے ایس ٹی آر کے ذریعے 82 لاکھ سے زائد جعلی موبائل کنکشن منقطع؛ سنچار ساتھی ایپ کے تقریباً ڈھائی کروڑ ڈاؤن لوڈ
مالی دھوکا دہی کے خطرے کا اشاریہ 15 ماہ میں 5,000 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ نقصان کو روکنے میں مددگار
دھوکا دہی پر مبنی مواصلات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، ضابطہ کاری اور عالمی تعاون کلیدی اہمیت کے حامل ہیں: ڈاکٹر پیماسانی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 5:32PM by PIB Delhi
مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج ’’دھوکا دہی پر مبنی مواصلات سے نمٹنے کے لیے آئی ٹی یو کے معیارات کا نفاذ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ آئی ٹی یو گول میز اجلاس میں کلیدی خطاب کیا۔ یہ اجلاس جاری انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) 2026 کے موقع پر منعقد کیا گیا۔ انڈیا موبائل کانگریس کا باضابطہ افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 8 اکتوبر 2026 کو یشوبھومی میں کیا تھا۔
ڈاکٹر پیماسانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ایک ارب سے زائد لوگوں کو مواصلات کی سہولت فراہم کی ہے اور اب اگلا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ اس رابطے کے ساتھ اعتماد بھی قائم رہے۔ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’دھوکا دہی ایک نیٹ ورک کا مسئلہ ہے۔ اس کا حل بھی نیٹ ورک کی سطح پر ہونا چاہیے۔ اور چونکہ نیٹ ورک عالمی ہیں، اس لیے اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے۔‘‘
ڈاکٹر پیماسانی نے منظم اور سرحد پار دھوکا دہی کے بڑھتے ہوئے خطرے، جس میں کسی دوسرے کی شناخت اختیار کرنا، ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر دھوکا دینا، مصنوعی ذہانت کے ذریعے آواز کی نقل تیار کرنا اور جعلی ویڈیوز بنانا شامل ہیں، کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں ہندوستانیوں کو اس طرح کی دھوکا دہی کے باعث 22,800 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کون سے اقدامات مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور اب اس نے دفاع کے لیے کئی سطحوں پر مشتمل نظام تیار کر لیا ہے۔
ڈاکٹر پیماسانی نے دھوکا دہی پر مبنی مواصلات سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے پانچ سطحی طریقۂ کار کی وضاحت کی۔ اس میں جعلی شناخت کے ساتھ کی جانے والی بین الاقوامی کالوں کو فوری طور پر روکنا، سی ڈاٹ کے مصنوعی ذہانت پر مبنی اے ایس ٹی آر آلے کے ذریعے جعلی موبائل کنکشن کی شناخت کرنا، سنچار ساتھی کے ذریعے شہریوں کی شمولیت، ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی) کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور دھوکا دہی کے ابھرتے ہوئے ذرائع سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔
مرکزی وزیر مملکت نے بتایا کہ اے ایس ٹی آر کے ذریعے 82 لاکھ سے زائد جعلی موبائل کنکشن منقطع کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ سنچار ساتھی ایپ تقریباً ڈھائی کروڑ بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔ ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم ٹیلی کام آپریٹروں، بینکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت 1,600 سے زائد تنظیموں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ مالی دھوکا دہی کے خطرے کے اشاریے نے 15 ماہ کے دوران 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے ممکنہ مالی نقصان کو روکنے میں مدد کی ہے۔
ڈاکٹر پیماسانی نے سرحد پار دھوکا دہی سے نمٹنے میں قومی سطح کے حل کی محدود صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے بین الاقوامی نیٹ ورکس پر کال کرنے والے کی شناخت کی ڈیجیٹل تصدیق کے لیے آئی ٹی یو کے معیارات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے حکومتوں، ضابطہ کار اداروں، آپریٹروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شمولیت کے ساتھ مشترکہ آزمائشیں کرنے کی آئی ٹی یو کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور اس میں تعاون کے لیے ہندوستان کی تیاری کا یقین دلایا۔
مرکزی وزیر مملکت نے تجویز پیش کی کہ اس مقصد کے لیے آمادہ ممالک کے درمیان منتخب بین الاقوامی راستوں پر آزمائشیں شروع کی جائیں، ان میں نیٹ ورک کی مختلف ٹیکنالوجیز کی شمولیت یقینی بنائی جائے اور ان آزمائشوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو آئی ٹی یو کے معیارات میں مسلسل بہتری لانے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ 6جی نیٹ ورکس تیار کرتے وقت ابتدا ہی سے اعتماد کو ان کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر پیماسانی نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ دھوکا دہی پر مبنی مواصلات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، ضابطہ کاری اور باہمی تعاون کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان نے ملک کے اندر ردعمل پر مبنی طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر روک تھام کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اب آئی ٹی یو کے ساتھ مل کر ہمیں قومی حل سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد قائم کرنا چاہیے۔‘‘
***
ش ح۔ض ر ۔ م الف
U. No- 4919
(ریلیز آئی ڈی: 2321484)
وزیٹر کاؤنٹر : 6