تعاون کی وزارت
امداد باہمی کے شعبے میں تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ریاستوں کے مخصوص عملی منصوبوں کی تیاری پر زور، بستر میں نویں قومی جائزہ ورکشاپ اختتام پذیر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو آگے بڑھانے اور مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ امداد باہمی جناب امت شاہ کی قیادت میں، امدادی اصلاحات کو زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے پر زور
ریاستوں کو واضح ذمہ داریوں اور باقاعدہ نگرانی کے نظام کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر وقت کی پابندی والے عملی منصوبے تیار کرنے چاہئیں: سکریٹری، وزارتِ امداد باہمی ، ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی
تمام ریاستوں کی متنوع ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوآپریٹو ترقی کا کوئی ایک نمونہ کافی نہیں ہو سکتا؛ ضلع اور ریاستی سطح پر کامیاب اختراعی اقدامات کو دستاویزی شکل دے کر دوسری جگہوں پر بھی اپنانا اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنا ضروری ہے: ڈاکٹر بھوٹانی
این سی ای ایل، این سی او ایل اور بی بی ایس ایس ایل پیداوار کو یکجا کرنے، منڈیوں تک بہتر رسائی اور منافع بخش قیمتیں دلانے کے ذریعے بنیادی سطح کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں
کوآپریٹو بینکوں کو مسابقت برقرار رکھنے اور نوجوان صارفین کو راغب کرنے کے لیے سائبر تحفظ، جدید بنیادی بینکاری نظام اور ڈیجیٹل خدمات کو ترجیح دینی چاہیے
ریاستوں پر زور دیا گیا کہ وہ نئی بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے قیام میں تیزی لائیں، رکنیت میں اضافہ کریں اور قابلِ عمل ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں کی بنیاد مضبوط بنائیں
پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائز کرنے کے پہلے مرحلے کو دسمبر 2026 تک مکمل کیا جانا چاہیے، جب کہ 2024-25 اور 2025-26 کے آڈٹ اکتوبر 2026 تک مکمل کیا جانا چاہیے: ڈاکٹر بھوٹانی
غیر مرکزی اناج ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور کسانوں پر مرکوز متبادل مارکیٹنگ و مالیاتی ماڈل تلاش کرنے پر زور دیا گیا، جن میں گودام میں رکھے گئے زرعی پیداوار کے عوض قرض کی سہولت بھی شامل ہے
وزارت، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو اپنی پیداوار کی منافع بخش قیمتیں دلانے کے لیے پائیدار اور مقامی ضروریات کے مطابق ماڈل تیار کرنے کی غرض سے آزمائشی منصوبوں پر غور کرے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 3:34PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اور مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ امداد باہمی جناب امت شاہ کی قیادت میں، وزارتِ امداد باہمی ہندوستان کے کوآپریٹو شعبے کو ایک مضبوط، زیادہ جامع، شفاف اور معاشی طور پر فعال نظام میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کوششوں کے تحت، وزارتِ امداد باہمی کے زیرِ اہتمام دو روزہ نویں قومی جائزہ ورکشاپ 8 اور 9 اکتوبر 2026 کو چھتیس گڑھ کے بستر میں منعقد ہوئی۔ ’سہکار سے سمردھی - آگے کا راستہ: کوآپریٹو شعبے میں تبدیلی کے ذریعے اثرات کو وسیع کرنا‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی یہ ورکشاپ آج اس نئے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ کوآپریٹو شعبے کے کامیاب اقدامات کو زمینی سطح پر عملی شکل دینے کے لیے مقررہ مدت میں قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
اس ورکشاپ میں مختلف ریاستوں کے سینئر افسران، کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹرار، قومی کوآپریٹو اداروں اور وفاقوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کوآپریٹو شعبے سے وابستہ اہم فریقوں نے شرکت کی۔ دو روزہ ورکشاپ کے دوران شرکاء نے وزارت کی اہم پہلوں کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، ریاستی سطح پر کامیاب تجربات کا تبادلہ کیا اور بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس)، کوآپریٹو بینکاری، ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں، ڈیجیٹلائزیشن، کاروباری سرگرمیوں میں تنوع، کوآپریٹو مارکیٹنگ اور غیر مرکزی اناج ذخیرہ کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے کی حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس دوران شمال مشرقی ریاستوں اور مشرقی سرحدی علاقوں میں کوآپریٹو شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی گئی، جن میں چھتیس گڑھ اور اڈیشہ کے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع بھی شامل ہیں۔
اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے، وزارتِ امداد باہمی کے سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار بھوٹانی نے تبادلۂ خیال کو نہایت دلچسپ اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ میں اختراعی، عملی اور ضلع کی مخصوص ضروریات کے مطابق تیار کیے گئے مختلف اقدامات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ سے حاصل ہونے والے اہم نتائج میں سے ایک یہ احساس تھا کہ کوآپریٹو ترقی کے کسی ایک نمونے کو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ریاست کے اپنے حالات، چیلنجز، روایات اور ادارہ جاتی تقاضے ہوتے ہیں، اس لیے بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے مقامی ضروریات کے مطابق حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ورکشاپ میں پیش کیے گئے کئی کامیاب طریقے دوسری جگہوں پر بھی اپنانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے لائق ہیں، اور ریاستوں کو اپنی حکمت عملی تیار کرتے وقت ان تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
عمل درآمد پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ڈاکٹر بھوٹانی نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ورکشاپ کے فوراً بعد ترجیحی بنیادوں پر عملی منصوبے تیار کریں، ان پر عمل درآمد کے لیے ذمہ دار افسران اور اداروں کی واضح طور پر نشاندہی کریں، حقیقت پسندانہ مدت مقرر کریں اور باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقۂ کار سے ورکشاپ میں ہونے والے تبادلۂ خیال اور پیش کی گئی سفارشات کو کوآپریٹو اداروں کے کام کاج اور کارکردگی میں ٹھوس بہتری میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض انتہائی اہم اختراعی اقدامات چھوٹی ریاستوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی ریاستیں دوسری ریاستوں میں تیار کیے گئے کامیاب طریقوں کو اپنا کر خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
قومی کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل)، قومی کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ (این سی او ایل) اور بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ (بی بی ایس ایس ایل) کے کام کاج سے متعلق پیشکشوں کا ذکر کرتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ کئی ریاستوں نے بنیادی سطح پر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ان قومی کوآپریٹو اداروں سے مؤثر استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ادارے زرعی پیداوار کو یکجا کرنے، وسیع تر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور کسانوں و کوآپریٹو سوسائٹیوں کے اراکین کے لیے منافع بخش قیمتیں یقینی بنانے کے اہم مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے ان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے وزارت کی مسلسل کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے دیگر ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ورکشاپ میں پیش کیے گئے کامیاب نمونوں کا مطالعہ کریں اور انہیں اپنائیں۔
ڈاکٹر بھوٹانی نے کھاد کے کاروباری منصوبوں پر ہونے والے تبادلۂ خیال کو بھی سراہا اور ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جہاں ممکن ہو، اس شعبے میں بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے کردار کو وسعت دینے کے طریقے تلاش کریں۔ انہوں نے بنیادی کوآپریٹو اداروں کے لیے قابلِ عمل کاروباری مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ وہ اپنی سرگرمیوں میں تنوع لا سکیں، اپنی مالی خود انحصاری کو مضبوط بنا سکیں اور اپنے اراکین کو اضافی خدمات فراہم کر سکیں۔
کوآپریٹو بینکاری کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے سکریٹری نے کئی ریاستوں کی جانب سے کیے گئے اختراعی اقدامات کو سراہا اور کہا کہ وزارتِ امداد باہمی ، کوآپریٹو بینکوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وزارتِ خزانہ اور ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سائبر تحفظ کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کوآپریٹو بینکاری کے شعبے میں سائبر دھوکہ دہی کے واقعات نے مضبوط ڈیجیٹل حفاظتی انتظامات اور تکنیکی طور پر بہتر تیاری کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے اور دوسرے بینکوں کے ساتھ مؤثر طور پر مسابقت کرنے کے لیے کوآپریٹو بینکوں کو محفوظ اور جدید بینکاری بنیادی ڈھانچے سے لیس ہونا چاہیے۔
قومی زرعی و دیہی ترقیاتی بینک (نابارڈ) کی جانب سے ایک مضبوط اور یکساں بنیادی بینکاری حل (سی بی ایس) پلیٹ فارم کی تیاری سے متعلق پیشکش کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ اس اقدام سے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی جو بعض کوآپریٹو بینکوں میں فی الحال استعمال ہونے والے منتشر اور ناقابلِ اعتماد تکنیکی نظاموں کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کے قیام کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور ٹینڈر کا عمل تکمیل کے قریب ہے۔ جدید اور معیاری بینکاری پلیٹ فارم تک رسائی سے کوآپریٹو بینکوں کو دوسرے بینکوں کے ہم پلہ خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ سائبر تحفظ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بینکاری اور موبائل بینکاری کو وسعت دینا بھی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے، موجودہ صارفین کو برقرار رکھنے اور بالخصوص نسلِ زی کے نوجوان صارفین کو راغب کرنے کے لیے نہایت اہم ہوگا۔ انہوں نے بعض کوآپریٹو بینکوں کی جانب سے اس ابھرتے ہوئے صارف طبقے سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔
ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں، دودھ یکجا کرنے کے مراکز اور دودھ جمع کرنے کے مراکز سے متعلق تبادلۂ خیال کو اجاگر کرتے ہوئے سکریٹری نے غیر رسمی گاؤں کی سطح پر دودھ جمع کرنے کے انتظامات کو منظم کوآپریٹو نظام کے دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مدر ڈیری اور امول جیسے اداروں کے لیے دودھ جمع کرنے والے گاؤں کی سطح کے نظاموں کو باقاعدہ کوآپریٹو اداروں کی شکل اختیار کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، تاکہ دودھ پیدا کرنے والے کسان کوآپریٹو نظام کے فوائد سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیری اور ماہی پروری سے متعلق کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام کے معاملے میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور ان کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے قیام کو وسعت دینے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے نئی سوسائٹیاں قائم کرنے میں ریاستوں کو درپیش چیلنجوں کو تسلیم کیا، تاہم ان پر عمل درآمد میں تیزی لانے کی اپیل کی۔ انہوں نے آئندہ دو سے تین برسوں کے دوران تقریباً 95,000 ایسی سوسائٹیاں قائم کرنے کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پی اے سی ایس کو تقسیم کرکے نئی سوسائٹیاں قائم کرنے اور ان کی رکنیت بڑھانے کے لیے خصوصی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ پی اے سی ایس کے لیے مناسب آبادی کے دائرے سے متعلق نابارڈ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رکنیت میں اضافے اور مزید پی اے سی ایس کے قیام سے کوآپریٹو قرض کی فراہمی کے لیے مضبوط ادارہ جاتی بنیاد تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں (ڈی سی سی بیز) کو قابلِ عمل بنانے کے لیے پی اے سی ایس اور ان کے اراکین کا وسیع نیٹ ورک ضروری ہے۔
سکریٹری نے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، جموں و کشمیر، گجرات، بہار اور پڈوچیری سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کیے گئے کامیاب طریقوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستیں اپنی اپنی صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مقامی ضروریات کے مطابق کوآپریٹو ماڈل تیار کر رہی ہیں۔ یہ اقدامات دوسری ریاستوں کے لیے بھی مفید نمونے ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ورکشاپ کی کارروائی اور تفصیلات میں ایسے موزوں اور قابلِ تقلید ماڈلوں کی نشاندہی کی جائے گی جنہیں ریاستیں عمل درآمد کے لیے اپنا سکتی ہیں۔
بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کو کمپیوٹرائز کرنے کے کام میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر بھوٹانی نے کہا کہ یہ اسکیم وزارت کی اہم مرکزی مالی اعانت سے چلنے والی پہل قدمیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ زیرِ التوا کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا یقینی بنائیں۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ موجودہ اسکیم مارچ 2027 میں ختم ہونے والی ہے اور جاری اہداف کی تکمیل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اسے بغیر کسی اضافی مالی بوجھ کے توسیع دینے کی تجویز طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائز کرنے کے پہلے مرحلے کے تمام اجزا دسمبر 2026 تک مکمل کر لیے جائیں، جب کہ 2024-25 اور 2025-26 کے مالی برسوں کا آڈٹ اکتوبر 2026 تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے حسابات کی بروقت تطبیق اور ریکارڈ کو باقاعدگی سےاپڈیٹ کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی، تاکہ عمل درآمد میں تاخیر سے بچا جا سکے، خصوصاً مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں۔
کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ اس پہل سے وابستہ ابتدائی چیلنجوں سے نمٹنے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ کئی ریاستوں نے گوداموں کے لیے مقامات کی نشاندہی کرنے، قرض کی منظوری حاصل کرنے اور تعمیراتی کام شروع کرنے کی سمت میں اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کا ایک جامع نظام تیار کرنے کے لیے ان کوششوں میں تیزی لانے اور انہیں بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر بھوٹانی نے غیر مرکزی ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کیا کہ اس کے ذریعے زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ اور مالی اعانت کے متبادل انتظامات وضع کیے جا سکتے ہیں، جن سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی منافع بخش قیمتیں حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ محکمۂ اقتصادی امور کے ساتھ حالیہ تبادلۂ خیال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت متبادل طریقوں پر غور کر رہی ہے، جن میں گودام میں ذخیرہ شدہ زرعی پیداوار کو رہن رکھ کر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی شامل ہے۔ اس کے لیے مناسب طور پر تیار کردہ ذخیرہ گاہوں کا مضبوط نیٹ ورک درکار ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے نظام کی جگہ لینا نہیں، بلکہ زرعی اجناس، خصوصاً گندم اور دھان کے علاوہ دیگر اناج کے لیے اضافی، پائیدار اور مقامی ضروریات کے مطابق ایسے طریقوں کا جائزہ لینا ہے، جہاں ایم ایس پی کے تحت سرکاری خریداری تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
سکریٹری نے کہا کہ وزارت آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران ایسے ماڈل ریاستوں کے ساتھ مشترک کرے گی اور ملک گیر سطح پر توسیع پر غور کرنے سے پہلے منتخب اضلاع میں آزمائشی منصوبے نافذ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان مواقع کا جائزہ لیں اور کسانوں پر مرکوز ایسے ماڈل تیار کرنے کے لیے عملی تجاویز پیش کریں، جن سے پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے، مقامی زرعی منڈیوں کو مضبوط بنانے اور کوآپریٹو اداروں کی معاشی عملداری بڑھانے میں مدد مل سکے۔
اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر بھوٹانی نے ورکشاپ کے خوش اسلوبی سے انعقاد کے لیے امداد باہمی اور انتظامات پر چھتیس گڑھ کے چیف سکریٹری، حکومتِ چھتیس گڑھ، بستر کے کلکٹر اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مختلف ریاستوں اور کوآپریٹو اداروں کے نمائندوں کی فعال شرکت کو بھی سراہا اور کہا کہ تبادلۂ خیال سے کوآپریٹو تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی معلومات اور رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اگلی قومی جائزہ ورکشاپ جنوری 2027 میں تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں منعقد کرنے کی تجویز ہے۔
***
ش ح ۔ ش ت۔ ر ب
U. No.4906
(ریلیز آئی ڈی: 2321423)
وزیٹر کاؤنٹر : 7