ٹیکسٹائلز کی وزارت
بھارت اور مالی نے نیویارک کے اقوام متحدہ صدر دفتر میں کپاس کا عالمی دن منایا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 8:10AM by PIB Delhi
اقوام متحدہ میں ہندوستان اور مالی کے مستقل مشنز نے 7 اکتوبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ’’پائیداری کے لیے کپاس: روزگار، قدر میں اضافے اور شراکت داری‘‘ کے موضوع پر مشترکہ طور پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب کپاس کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 75/318 کے ذریعے 7 اکتوبر کو کپاس کا عالمی دن قرار دیا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشی ترقی، بین الاقوامی تجارت اور غربت کے خاتمے میں کپاس کے کردار کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے، خصوصاً ترقی پذیر اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک میں۔ اس تقریب میں ہندوستان کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر روزگار کے مواقع، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کپاس کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سفیر ہریش پروتھنینی نے کپاس اور چرخے کو خود کفالت، وقار اور ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی سے جوڑنے کے مہاتما گاندھی کے تصور کو یاد کیا۔ انہوں نے چار ترجیحات کو اجاگر کیا: کپاس پیدا کرنے والوں کے ذریعۂ معاش کی حمایت، قدر میں اضافے اور مارکیٹوں تک رسائی کو وسعت دینا، پائیداری کو فروغ دینا اور ٹیکنالوجی و شراکت داری کو مضبوط بنانا۔انہوں نے سستے زرعی وسائل اور مالی وسائل کی دستیابی، چھوٹے کاروباری اداروں کی مدد اور جنوب۔جنوب تعاون نیز سہ رخی تعاون کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ کپاس پیدا کرنے والے ممالک اس کی پیداوار سے حاصل ہونے والی قدر کا زیادہ حصہ اپنے پاس رکھ سکیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں پیش رفت کر سکیں۔

اقوام متحدہ میں مالی کے مستقل نمائندے سفیر عیسیٰ کونفورو نے مالی کی معیشت اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے ذریعۂ معاش کے لیے کپاس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کپاس کی پروسیسنگ کی محدود صلاحیت، پیداواری وسائل کی لاگت، منڈیوں تک رسائی اور تجارت کو متاثر کرنے والی امداد سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کپاس کی مقامی پروسیسنگ کو وسعت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مالی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے جنوب۔جنوب تعاون سمیت باہمی فائدے پر مبنی شراکت داریوں کا خیرمقدم کیا اور ہندوستان کو ایک اہم شراکت دار قرار دیا۔
رکن پارلیمنٹ اسیت کمار مال نے مغربی بنگال کے بول پور میں کانتھا کڑھائی کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ روایتی دست کاری کس طرح کپاس کی قدر میں اضافہ کرتی ہے، خواتین کے ذریعۂ معاش کو سہارا دیتی ہے اور اشیا کے دوبارہ استعمال اور وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے دست کاروں کو مناسب معاوضہ دینے، سستے قرضوں کی فراہمی، ڈیزائن کے سلسلے میں معاونت اور مارکیٹوں تک رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔
رکنِ پارلیمنٹ ایل کے سدھیش نے تمل ناڈو میں کپاس کے دھاگے سے بنے ملبوسات اور کپڑوں کی تیاری کے شعبے میں حاصل ہونے والے تجربات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس شعبے میں چھوٹے کاروباری اداروں، مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور ہنرمند مزدوروں کے تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے پی ایم مترا (وزیر اعظم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل) پہل کے تحت تیار کیے جا رہے مربوط ٹیکسٹائل پارک اور کپڑا سازی کے عمل میں گندے پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے کے اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔

حکومت ہند کی ٹیکسٹائل کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ پدمنی سنگلا نے کپاس کے ایک بڑے پیداوار کنندہ اور صارف کے طور پر ہندوستان کے کردار اور چھوٹے و حاشیائی کسانوں کے لیے اس شعبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کپاس کی پیداوار میں اضافے کے مشن اور کستوری کاٹن بھارت پہل کے بارے میں بتایا اور پیداوار، معیار اور کپاس کی شناخت و سراغ رسانی کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، دست کاروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کی مدد، نیز کپاس کی پائیدار ویلیو چینز کے لیے کھلی اور متوقع تجارت اور مارکیٹوں تک رسائی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اس موقع پر کوٹ ڈی آئیور، ازبکستان، چاڈ، نیدرلینڈز، برکینا فاسو اور مصر کے مستقل نمائندوں، کیمرون اور پیرو کے نائب مستقل نمائندوں، نیویارک میں اقوام متحدہ کے ساتھ خوراک و زراعت کی تنظیم کے رابطہ دفتر کی ڈائریکٹر محترمہ انجلیکا جاکومے، اور بین الاقوامی کپاس مشاورتی کمیٹی کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر کیشو آر کرانتی نے بھی خطاب کیا۔ تبادلۂ خیال میں کپاس کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے، چھوٹے کسانوں اور دست کاروں کی مدد کرنے، پروسیسنگ کی صلاحیت اور مارکیٹوں تک رسائی بہتر بنانے، اس شعبے میں ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
شرکاء نے ہندوستان کے ایک ماہر دست کار کی رہنمائی میں کپڑے پر قلم کاری کی عملی مشق میں بھی حصہ لیا، جس کے ذریعے ہندوستان کی مالا مال دست کاری کی روایات کو اجاگر کیا گیا۔
***
ش ح۔ ش آ۔رض
4883U-No.
(ریلیز آئی ڈی: 2321203)
وزیٹر کاؤنٹر : 6