بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے عالمی شراکت داری، نوجوانوں اور خواتین کو ہندوستان کے سمندری مستقبل کے مرکز میں رکھا


مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے سعودی عرب، بیلجیم اور بھوٹان کے ساتھ بندرگاہی سرمایہ کاری، گرین شپنگ اور علاقائی رابطے کو فروغ دینے کے لیے دو طرفہ بات چیت کی

مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان کا سمندری مستقبل اس کے نوجوان تشکیل دیں گے

وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر نے یونان، لتھوانیا، موزمبیق اور میانمار کے ساتھ بندرگاہوں، جہاز سازی اور سمندری شعبے میں مہارت کے تبادلے کے امور پر دو طرفہ بات چیت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 7:58PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے ’ساگر منتھن: دی گریٹ اوشین ڈائیلاگ 2026‘ کے دوسرے روز سعودی عرب، بیلجیم اور بھوٹان کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں، جن میں خلیج، یورپ اور پڑوسی خطے میں ہندوستان کی سمندری شراکت داری کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے ہندوستان کی سمندری ترقی کے سفر میں نوجوانوں اور خواتین کو بھی مرکزی حیثیت دینے پر زور دیا۔

سعودی پورٹس اتھارٹی (موانی) کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں جناب سربانند سونووال نے وادھون اور گلاتھیا بے جیسے ہندوستانی بندرگاہی منصوبوں میں سعودی عرب کی شرکت کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے جہاز سازی، بحری جہازوں کے عملے کی تربیت اور لچکدار سپلائی چین کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات چیت کی۔ سعودی عرب نے ہندوستان کے بندرگاہی منصوبوں اور میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ (ایم ڈی ایف) میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔

فلیمش وزیر برائے موبلٹی، پبلک ورکس، پورٹس اینڈ اسپورٹ، محترمہ اینک ڈی رڈر کے ساتھ ملاقات میں جناب سونووال نے ہندوستانی بندرگاہوں کو اینٹورپ-بروجز سے جوڑنے والے گرین شپنگ کوریڈور کے قیام کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز پیش کی۔ دونوں فریقوں نے سبز ایندھن، اسمارٹ پورٹ ٹیکنالوجی اور ڈریجنگ پر تبادلۂ خیال کیا۔ وی او سی پورٹ نے گرین شپنگ اور گرین فیول کے شعبوں میں صلاحیت سازی کی تربیت کے لیے پورٹ آف اینٹورپ-بروجز کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بھوٹان کے انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے وزیر لیونپو چندر بہادر گرونگ کے ساتھ ملاقات میں جناب سونووال نے قومی آبی گزرگاہ-2 اور جوگیگھوپا ٹرمینل کو بھوٹان کے لیے عالمی تجارت کے گیٹ وے کے طور پر اجاگر کیا۔ وزرا نے مانس اور سنکوش دریاؤں کی صلاحیت اور کارگو کی بہتر نقل و حرکت کے لیے قومی آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرا نے ڈبرو گڑھ میں زیرِ تعمیر سینٹر آف ایکسی لینس میں بھوٹانی نوجوانوں کے لیے سمندری تربیت فراہم کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

جناب سربانند سونووال نے کہا، ’’سعودی عرب، بیلجیم اور بھوٹان کے ساتھ ہماری بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی سمندری شراکت داری مختلف خطوں میں کس طرح وسعت اختیار کر رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہم بندرگاہوں، جہاز سازی اور لچکدار سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے ساتھ ہم گرین شپنگ کوریڈور اور بہتر بندرگاہی روابط کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بھوٹان کے ساتھ ہم برہم پترا کو اپنے پڑوسی کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی اور اس کے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے مواقع فراہم کرنے والے گیٹ وے کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔ ہمارے دور اندیش وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک مربوط، سبز اور خوشحال سمندری مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔‘‘

’اٹ دی فیوچر از بلیو: دی نیکسٹ میری ٹائم جنریشن اینڈ اوشین چینج میکرز: ویمن، یوتھ اینڈ انڈیاز میری ٹائم جرنی‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں جناب سربانند سونووال نے نوجوان ہندوستانیوں اور خواتین سے سمندری شعبے کے حوالے سے ان کی امنگوں اور توقعات کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ اس سیشن میں خواتین کی تینوں افواج کی سیلنگ مہم کی شرکت بھی شامل تھی، جس نے خواتین کیڈٹس کو متاثر کیا۔

ہندوستانی ملاحوں کی تعداد گزشتہ بارہ برسوں میں 1.27 لاکھ سے بڑھ کر 3.23 لاکھ ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان 2015 کے پانچویں مقام سے ترقی کرکے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندری افرادی قوت فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے، جہاں عالمی افرادی قوت میں ہندوستان کا حصہ 12 فیصد سے زیادہ ہے۔ ’ساگر میں سمان‘ پہل کی مدد سے فعال خواتین ملاحوں کی تعداد 2021 میں 1,599 سے بڑھ کر 2025 میں 7,033 ہو گئی ہے۔ ہندوستان کا مقصد مشن 20% کے تحت 2030 تک اس حصے میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ شپ یارڈ-آئی ٹی آئی شراکت داری کے تحت اب 150 گھنٹے کی ملازمت پر مبنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ جی پی ریٹنگ اور میری ٹائم کیٹرنگ کے زیرِ تربیت افراد کے لیے چھ ماہ کا منظم آن بورڈ پروگرام سمندر میں جانے سے قبل تربیت اور سمندر میں زندگی کے لیے ان کی تیاری کو مکمل کرتا ہے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان کا سمندری مستقبل نوجوانوں کے ذریعے تشکیل پائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہمارے ملاح ہر سمندر میں قابلِ اعتماد اور قابلِ احترام مقام رکھتے ہیں، اور پہلے سے کہیں زیادہ خواتین سمندر میں کیریئر کا انتخاب کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی متحرک قیادت میں ہم مہارتوں، اداروں اور مواقع کو فروغ دے رہے ہیں، تاکہ سمندر کا خواب دیکھنے والا ہر نوجوان ہندوستانی دنیا کی سمندری معیشت کی قیادت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔‘‘

دوسرے روز عالمی تجارتی چوک پوائنٹس کو محفوظ بنانے، سمندری امور میں گلوبل ساؤتھ کے کردار، سمندری اور گرین بندرگاہوں میں مصنوعی ذہانت، سمندری مستقبل میں مساوات، برکس پلس کنیکٹیویٹی اور گرین شپ بلڈنگ کے موضوعات پر مکمل اجلاس بھی منعقد ہوئے۔

ایم او پی ایس ڈبلیو کے مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر نے ’ساگر منتھن 2026‘ کے موقع پر یونان، لتھوانیا، موزمبیق اور میانمار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ جناب ٹھاکر نے ہندوستان-یونان سمندری تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہیلینک جمہوریہ (یونان) کے سمندری امور اور جزیرہ نما پالیسی کے نائب وزیر اسٹیفانوس گیکیکاس کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی۔

لتھوانیا کے وزیر ٹرانسپورٹ اور مواصلات جراس تامنسکاس کے ساتھ ملاقات میں وزیر نے جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی اور پورٹ آف کلیپیڈا کے درمیان مفاہمت نامے کے لیے ورک پلان تیار کرنے کی تجویز پیش کی اور براہِ راست شپنگ روابط اور گرین پورٹ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔

موزمبیق کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے وزیر جواؤ جارج میٹلومبے کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے بندرگاہوں، جہاز سازی، جہازوں کی مرمت اور سمندری تربیت کے شعبوں میں ہندوستان کی مہارت اور تعاون کی پیشکش کی۔

میانمار کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ یو ٹن لو کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے ستوے بندرگاہ کے اگلے مرحلے، سرحد پار اندرونِ ملک آبی تجارت اور خلیجِ بنگال میں سمندری تحفظ کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

جناب شانتنو ٹھاکر نے کہا، ’’بحیرۂ بالٹک سے لے کر خلیجِ بنگال تک، ہندوستان بندرگاہوں، جہاز سازی اور سمندری شعبے میں اپنی مہارت اور صلاحیتیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے، تاکہ ہم مل کر ترقی کر سکیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان خطے کے ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد سمندری شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ گرین شپنگ، کنیکٹیویٹی اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے ہم سب کے لیے محفوظ، کھلے اور خوشحال سمندروں کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘

ساگر منتھن کے دوران منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان سمندری صلاحیت سے آگے بڑھ کر سمندری کارکردگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر اور وزارتِ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے سکریٹری جناب وجے کمار بھی موجود تھے۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہندوستان کی بندرگاہی صلاحیت 1,561 ایم ٹی پی اے سے بڑھ کر 2,817 ایم ٹی پی اے ہو گئی ہے، جبکہ کارگو ہینڈلنگ 1,052 ملین ٹن سے بڑھ کر 1,668 ملین ٹن اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے کارگو کی نقل و حمل 29 ملین ٹن سے بڑھ کر 218 ملین ٹن ہو گئی ہے۔ اس دوران میڈین کنٹینر جہاز کا ٹرن اراؤنڈ ٹائم 35 گھنٹے سے کم ہو کر 23 گھنٹے رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساگر منتھن 2024 میں 61 ممالک کے 1,700 سے زیادہ مندوبین کی شرکت کے مقابلے میں اس سال 70 سے زیادہ ممالک کے مندوبین نے شرکت کی ہے، جن میں 10 وزرا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زیادہ اشاعتیں تیار کی گئی ہیں، جو عالمی سمندری نظام میں وشو گرو کے طور پر ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔

گرین ہائیڈروجن، امونیا اور میتھانول کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہندوستانی بندرگاہوں کو گرین فیول بنکرنگ ہب میں تبدیل کرنا ہے، جو 2070 تک نیٹ زیرو کے عزم سے ہم آہنگ ہوگا۔ انہوں نے بات چیت کو مشترکہ تحقیق، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔

جناب سونووال نے کہا کہ ہندوستان محفوظ سمندروں، گرین شپنگ اور مشترکہ خوشحالی کے لیے دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

 

***

 

UR-4877

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2321095) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil