صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے نوجوانوں کی قیادت میں تپِ دق کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ،جے او ایس ایچ (جوش)ٹیموں کا آغاز کیا


جے او ایس ایچ (جوش) ٹیمیں نوجوانوں کی قیادت میں برادری کی سطح پر کارروائی کے ذریعے ہندوستان کی تپِ دق کے خاتمے کی مہم کو نئی رفتار  عطا کریں گی: جناب جے پی نڈا

ہندوستان میں تپِ دق کے معاملات میں 21 فیصد کمی، علاج کی کوریج بڑھ کر 92 فیصد ہوئی، جو عالمی رجحانات سے نمایاں طور پر بہتر ہے: مرکزی وزیر صحت

نوجوانوں کو صفِ اول میں رکھتے ہوئے’’ہندوستان میں تپِ دق کے خاتمے کی کوششوں کو عوامی تحریک کی شکل میں مزید مضبوط بنانا ہوگا‘‘

جے او ایس ایچ (جوش) ٹیمیں 2030 سے پہلے تپِ دق کے خاتمے کے لیے ہندوستان کے نوجوانوں کی توانائی کو بروئے کار لائیں گی: نوجوانوں کے امور اورکھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ

2026 میں 697 اضلاع کی 67,933 پنچایتوں کو تپ دق سے پاک قرار دیا گیا، جو ہندوستان میں تپ دق کے خاتمے کی جانب سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے

پہلے مرحلے میں 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 55 اضلاع میں   جے او ایس ایچ (جوش) ٹیموں کا  آغاز؛ اس پہل کو ملک بھر میں وسعت دی جائے گی

جے او ایس ایچ (جوش) ٹیموں کے ذریعے ریئل ٹائم  رپورٹنگ کے لیے نئی  آئی ای سی یعنی معلومات، تعلیم اور مواصلات مواد اور موبائل ایپلی کیشن کا آغاز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 1:54PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جناب  جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایک قومی تقریب میں ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت جے او ایس ایچ(جوش) (صحت کے لیے مشترکہ دستہ) ٹیموں کا آغاز کیا۔ یہ  مذکورہ پہل ہندوستان میں تپِ دق کے خاتمے کی کوششوں میں نوجوانوں کی قیادت میں برادری کی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کی توانائی، رسائی اور عزم کو بروئے کار لاتے ہوئے تپِ دق سے بچاؤ، بروقت تشخیص، وقت پر علاج اور اس بیماری سے وابستہ بدنامی کے خاتمے کا پیغام ملک بھر کی برادریوں تک پہنچانا ہے۔

 اجتماع  سے خطاب کرتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈانے جوش ٹیموں کے آغاز کو ہندوستان میں تپِ دق کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔  وزیر موصوف نے کہا کہ  تپِ دق سے پاک ہندوستان کے لیے ملک کی کوششیں روایتی صحت پروگرام سے آگے بڑھ کر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس میں عوامی شراکت داری اور برادری کی ذمہ داری قومی ردِعمل کے بنیادی ستون بن کر سامنے آئے  ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تپِ دق کے خاتمے کا ہدف صرف حکومتی اقدامات کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے برادریوں، شہریوں، منتخب نمائندوں، صفِ اول کے کارکنوں اور بالخصوص ملک کے نوجوانوں کی سرگرم  شراکت ضروری ہے۔

نوجوانوں کی قیادت میں کارروائی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا  نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی، عزم اور عوام تک رسائی تپِ دق کے خاتمے کی تحریک کو نئی رفتار عطا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے مہم میں منتخب نمائندوں اور برادری کی قیادت کو بتدریج شامل کیا ہے، تاہم چیلنج کی وسعت اور پیچیدگی کے پیش نظر پُرعزم رضاکاروں کے ایک بہت وسیع نیٹ ورک کی ضرورت ہے، جو براہِ راست برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ اسی تناظر میں انہوں نے جوش پہل کو زمینی سطح تک پہنچانے کے لیے نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت کے تعاون کو  سراہا۔

 اس کے علاوہ ، جناب نڈا نے کہا کہ جوش ٹیمیں حکومت، برادریوں اور شہریوں کو منظم اور مسلسل انداز میں ایک ساتھ لانے کی کوشش کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وزیرموصوف نے زور دے کر کہا کہ  اس پہل کا مقصد محض معلومات پہنچانا نہیں، بلکہ برادریوں کے اندر بامعنی گفتگو کو فروغ دینا، اعتماد پیدا کرنا، خدشات کو دور کرنا اور لوگوں کو بروقت جانچ اور علاج کے لیے آگے آنے کی ترغیب دینا ہے۔

مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا  نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی تپِ دق کے خاتمے کی حکمت عملی کو بیداری اور جانچ سے آگے بڑھاتے ہوئے نگہداشت کے پورے سلسلے کا احاطہ کرنا چاہیے۔  وزیر موصوف نے کہا کہ ، ’’بیداری اہم ہے، جانچ اہم ہے، لیکن ہماری ذمہ داری یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ہمیں تشخیص، علاج اور علاج کی تکمیل کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے سرگرم طور پر مریضوں کی تلاش کے عمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ایسے افراد کی ابتدائی مرحلے میں شناخت کی جا سکے جو تپِ دق کی علامات سے ناواقف ہونے کے باعث اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں اور انہیں مناسب طبی نگہداشت سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مزید منتقلی کو روکنے اور کنبوں اور برادریوں کی صحت  کے تحفظ کے لیے بھی بروقت تشخیص یکساں طور پر اہم ہے۔

سرگرم طور پر مریضوں کی تلاش کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو تپِ دق کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اپنی بیماری سے آگاہ نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ  باقاعدہ صحت خدمات کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ ایسے افراد کی ممکنہ حد تک ابتدائی مرحلے میں شناخت نہ صرف بروقت علاج  کویقینی بنانے بلکہ  کنبوں  اور برادریوں میں بیماری کی منتقلی کا سلسلہ توڑنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے جوش ٹیموں پر زور دیا کہ وہ کمزور اور خطرے سے دوچار آبادی کی شناخت، برادری کی سطح پر رسائی کو آسان بنانے اور علامات یا خدشات رکھنے والے لوگوں کو جانچ کے لیے آگے آنے کی ترغیب دینے میں اہم رول  ادا کریں۔

تپِ دق کے خلاف جنگ میں ہندوستان کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے  صحت کے عالمی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ہندوستان میں تپِ دق کے واقعات میں 21 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی 12 فیصد رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہندوستان میں تپِ دق کے علاج کی کوریج بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی ہے، جو عالمی سطح پر 78 فیصد کی علاج کوریج کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔جناب نڈا نے کہا کہ تپِ دق کے معاملات میں کمی لانے اور علاج تک رسائی کو وسعت دینے، دونوں  ہی معاملوں میں  ہندوستان کی پیش رفت عالمی رجحان سے آگے ہے، جو قومی تپِ دق خاتمہ پروگرام کے تحت مسلسل اور مزید تیز کی گئی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کے لیے  خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کی وجہ سے اطمینان کی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن اس رفتار کو برقرار رکھنے اور کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ تپِ دق میں مبتلا ہر فرد کی تشخیص ہو، اسے بروقت علاج فراہم کیا جائے اور علاج کے پورے عمل کے دوران ضروری مدد  فراہم کی جائے ، جس سے تپِ دق سے پاک ہندوستان کے اجتماعی عزم کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

 اس کے علاوہ ، وزیر موصوف نے ملک میں تپِ دق کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانے میں ٹیکنالوجی اور اختراع کے بڑھتے ہوئے رول کو  اجاگر کیا۔ جناب نڈا نے کہا کہ ہندوستان تپِ دق کی جانچ اور تشخیص کو برادریوں کے مزید قریب لانے اور اسے تیز تر اور زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات سے لیس  پورٹ ایبل  ایکس رے مشینوں کے استعمال کا حوالہ دیا، جو ان افراد کی شناخت میں مدد کر سکتی ہیں جن میں تپِ دق کی علامات پائی جاتی ہوں اور یہ تعین کرنے میں بھی معاون ہو سکتی ہیں کہ آیا مزید طبی جانچ ضروری ہے یا نہیں۔  وزیر موصوف نے  تیز رفتار  مولیکولر ڈائگونوسٹک ٹیکنالوجیز کے استعمال کو بھی اجاگر کیا، جس سے تپِ دق کی بروقت تصدیق اور ادویات کے خلاف مزاحمت کی شناخت میں مدد ملتی ہے، اور اس طرح مریضوں کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر مناسب علاج کی طرف لایا جاسکتا ہے۔

برادریوں کے اندر بامعنی گفتگو قائم کرنے کے لیے رضاکاروں سے اپیل کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش  نڈا نے جوش ٹیموں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی بات سنیں، ان کے خدشات کو دور کریں اور تپِ دق سے وابستہ خوف اور بدنامی کے تاثر کو ختم کرنے میں مدد کریں۔ وزیرموصوف نے زور دے کر کہا کہ تپِ دق سے بچاؤ ممکن ہے اور اس کا علاج کیا جا سکتا ہے، اور اس بیماری سے متاثرہ کسی بھی شخص کو امتیازی سلوک یا سماجی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے رضاکاروں سے صحت مند عادات کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی، جن میں صفائی ستھرائی، صحت مند طرزِ زندگی اور تمباکو اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری شامل ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تشخیص علاج کے سفر کا صرف آغاز ہے، جناب نڈا نے کہا کہ تپِ دق کی تشخیص ہونے والے ہر فرد کو مناسب علاج سے جوڑنا اور صحت یابی تک اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔  وزیر موصوف نے  ادویات، غذائی معاونت اور علاج پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ہندوستان نے اپنے علاج کے اختیارات کو بھی مضبوط کیا ہے، جن میں ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے تپِ دق کے لیے کم مدت کے علاج کے طریقے بھی شامل ہیں۔

جوش ٹیموں کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ پہل 11 ریاستوں میں شروع کی جا رہی ہے اور بتدریج زمینی سطح پر اس کی موجودگی کو وسعت دی جائے گی۔ یہ ٹیمیں ضلع اور بلاک سطح پر کام کریں گی اور نگرانی اور عمل درآمد کے لیے ڈیجیٹل نظام سے انہیں تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار  کیا کہ نوجوانوں کی قیادت میں شروع کی گئی یہ پہل خامیوں کی نشاندہی کرنے، عوام تک رسائی مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے گی کہ تپِ دق سے متعلق خدمات ان لوگوں تک بھی پہنچیں جو باقاعدہ صحت نظام کے دائرے سے باہر ہیں۔

صحت کے مرکزی وزیر نے 2026 میں 697 اضلاع کی 67,933 پنچایتوں کو تپِ دق سے پاک قرار دیے جانے پر بھی مبارک باد پیش کی اور اسے عوامی شراکت داری اور مقامی قیادت کی طاقت کا مظہر قرار دیا۔ وزیر موصوف نے ان  منتخب نمائندوں، صحت کارکنوں، رضاکاروں اور برادری کے ارکان کی ستائش کی، جنہوں نے قومی تپِ دق خاتمہ ایجنڈے کو زمینی سطح پر عملی شکل دینے میں اہم  رول ادا کیا ہے۔

 اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ ہندوستان اب اپنے ہدف کے مزید قریب پہنچ چکا ہے، جناب نڈا نے ملک کو منزل تک پہنچانے کے لیےپرعزم اور مسلسل آخری مرحلے کی کوششوں پر زور دیا۔ این سی سی کیڈٹس اور مائی بھارت رضاکاروں سے تپِ دق سے پاک ہندوستان کی تحریک کے سفیر بننے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر موصوف نے  ان پر زور دیا کہ وہ بچاؤ، ابتدائی جانچ، بروقت علاج اور تپِ دق سے وابستہ بدنامی کے خاتمے کا پیغام ہر گھر اور ہر برادری تک پہنچائیں۔

اپنی تقریر کے اختتام پر جناب نڈا نے تمام متعلقہ فریقوں سے یہ  اپیل کی کہ وہ عزم مصمم، ہمدردی اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ تپِ دق سے پاک ہندوستان کے مقصد کے لیے کام کریں۔ انہوں نے جوش ٹیموں کے آغاز پر انہیں مبارک باد دی اور ہر رضاکار، صحت کارکن، برادری کے رکن اور متعلقہ فریق پر زور دیا کہ وہ تپِ دق سے پاک ہندوستان کی جانب آخری مرحلے کی کوششوں میں اپنا  رول اداکریں۔

اس موقع پر  اظہار خیال کرتے ہوئے نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ’’صحت مند شہری، صحت مند معاشرہ، صحت مند ملک‘‘ کے تصور کو اسی وقت حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے جب شہری صحت مند معاشرے کی تشکیل میں  سرگرم طور پر  اپنا کردار ادا کریں۔ صحت کے مرکزی وزیر نے قومی صحت مشنوں میں عوام کی شمولیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی مسلسل اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں کہ برادریاں بیداری پھیلائیں، ضرورت مند افراد کی مدد کریں اور لوگوں کو بروقت علاج کرانے کی ترغیب دیں۔

انہوں نے مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا کی جانب سے تپِ دق سے پاک ہندوستان کے تصور کو عملی جامہ پہنانے اور جوش ٹیموں کی پہل کے ذریعے نوجوانوں کے مختلف نیٹ ورکس کو ایک ساتھ لانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

 صحت کے عالمی ادارۂ کے 2030 تک تپِ دق کے خاتمے کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ ہندوستان اس مقصد کے حصول کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے اور عالمی مقررہ مدت سے پہلے یہ ہدف حاصل کرنے کے  تئیں  پُرعزم ہے۔ صحت کے وزیر نے زور دے کر کہا کہ  دنیا کے بڑے ممالک میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی رکھنے والے ملکوں میں شامل ہندوستان نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیت اور قوم کی تعمیر میں ان کے  رول کے لیے مناسب رہنمائی، سرپرستی اور مواقع فراہم کرنے کی اہمیت کو بھی  بخوبی سمجھتا ہے۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مائی بھارت کو نوجوانوں کی رہنمائی، شمولیت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر فراہم کیا ہے، جہاں وہ قوم کی تعمیر کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی کے لاکھوں کیڈٹس اور این ایس ایس کے رضاکاروں کو ملک کی خدمت اور سماجی مقاصد میں اپنا  رول  ادا کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوان رضاکاروں کو قومی تپِ دق خاتمہ پروگرام سے جوڑنے اور جناب جے پی نڈا کی حمایت و قیادت نے جوش ٹیموں کی پہل کو ممکن بنایا ہے۔

زمینی سطح پر جوش ٹیموں کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے صحت کے مرکزی وزیر  ڈاکٹر  منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ رضاکار ،تپِ دق کے ممکنہ مریضوں کی شناخت، بیماری سے بچاؤ اور غذائیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، مریضوں کو علاج اور ادویات باقاعدگی سے لینے کے لیے مشورہ دینے اور بیماری سے وابستہ بدنامی کو کم کرنے میں اہم  رول  ادا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے  اس اعتماد  کا بھی اظہار  کیا کہ تمام سطحوں پر مسلسل کوششوں کے ساتھ ہندوستان 2030 سے پہلے تپِ دق سے پاک ملک بننے کی اپنی خواہش کو حقیقت میں بدل دے گا اور دنیا کو تپِ دق کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کی طاقت دکھائے گا۔

جوش (صحت کے لیے مشترکہ دستہ) ٹیموں کے قومی آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئےدلی کی وزیراعلی محترمہ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ پہل مہم کو براہِ راست برادریوں تک پہنچا کر ہندوستان میں تپِ دق کے خاتمے کی کوششوں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے صحت و خاندانی بہبود کی  وزارت کی جانب سے نوجوانوں کے امور اور کھیل کو دکی  وزارت  اور دفاع  کی وزارت کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی صلاحیتوں کا باہمی اشتراک تپِ دق کے خاتمے کی مہم کی رسائی کو نمایاں طور پر وسیع کر سکتا ہے۔

دلی کی وزیراعلی   محترمہ ریکھا گپتا نے  زور دے کر کہا کہ نوجوانوں کی توانائی، لگن اور عوام تک رسائی جوش ٹیموں کو تپِ دق کے خلاف جنگ میں ایک مؤثر قوت بنا سکتی ہے۔ محترمہ گپتا نے  نوجوان رضاکار بیماری سے بچاؤ، ابتدائی تشخیص اور علاج کے بارے میں بیداری کو برادریوں تک پہنچانے اور لوگوں کو بروقت طبی نگہداشت حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ بیماری سے وابستہ بدنامی کے تاثر کو دور کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نےاس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ  جوش ٹیمیں تپِ دق کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کی قیادت میں ایک مضبوط قوت بن کر ابھریں گی اور ملک بھر کی برادریوں تک بیماری سے بچاؤ، ابتدائی تشخیص اور علاج کا پیغام پہنچانے میں مدد کریں گی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  دفاع کے وزیر مملکت جناب سنجے سیٹھ نے کہا کہ تپِ دق کے خلاف جنگ ہر گاؤں، بستی اور گھر تک پہنچنی چاہیے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں خوف اور بیماری سے وابستہ بدنامی لوگوں کو بروقت طبی نگہداشت حاصل کرنے سے روک سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تپِ دق سے بچاؤ ممکن ہے اور اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جوش ٹیموں سے اپیل کی کہ وہ برادریوں میں اعتماد پیدا کریں، لوگوں کو جانچ کے لیے آگے آنے کی ترغیب دیں اور مریضوں کو اپنا علاج مکمل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی علامات چھپانے یا بیماری کا مقابلہ اکیلے کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

’خوشی اوتار‘، جو ’ای-سنگینی‘ پہل کا حصہ ہے، کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس کے ذریعے تپِ دق کی علامات اور علاج کے دستیاب طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی، تپِ دق سے متعلق عام شکوک و شبہات اور سوالات کا ازالہ کیا جائے گا اور مریضوں کو وقت پر اپنی دوائیں لینے کی یاد دہانی کرائی جائے گی۔ یہ خدمت 12 ہندوستانی زبانوں میں دستیاب ہے، جس سے معلومات کو وسیع پیمانے پر اور زیادہ آسانی سے لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

تقریب کے دوران ’ٹی بی مکت بھارت ایپ‘ پر ’جوش ٹیموں‘ کے لیے ایک مخصوص سہولت کا بھی آغاز کیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں کی قیادت میں کام کرنے والی ان ٹیموں کی سرگرمیوں کو مزید تعاون اور سہولت فراہم کرنا ہے۔

قومی سطح پر منعقدہ اس افتتاحی تقریب میں ملک کے تمام 804 اضلاع نے آن لائن شرکت کی، جو اس پہل کی وسیع پیمانے پر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 55 اضلاع میں ’جوش ٹیموں‘ کو تعینات کیا گیا ہے۔ باقی اضلاع میں بعد  میں’جوش ٹیموں‘ کے لیے واقفیت اور متحرک کاری کا عمل شروع کیا جائے گا، جس سے ملک بھر میں اس پہل کو وسعت دینے کی راہ ہموار ہوگی۔

 

تقریب میں ضلعی سطح پر ’ٹی بی مکت پنچایت‘ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر 2026 میں 697 اضلاع کی 67,933 پنچایتوں کو تپِ دق سے پاک قرار دیے جانے کے اعتراف میں انہیں سراہا گیا۔ یہ کامیابی صحت کارکنوں، منتخب نمائندوں، پنچایتی راج اداروں، برادری کے ارکان اور رضاکاروں کی اجتماعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، جنہوں نے مقامی سطح پر تپِ دق کے بارے میں بیداری، اس سے بچاؤ، تشخیص اور علاج کو مضبوط بنانے میں اپنا تعاون دیا ہے۔

’جوش‘ پہل کے بارے میں

’جوش‘ پہل کو صحت و خاندانی بہبود کی وزارت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں  کی وزارت اور دفاع کی وزارت کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں قومی راجدھانی خطہ دہلی کی حکومت بھی شرکت کر رہی ہے۔ یہ پہل تپِ دق کے خاتمے کے لیے ’حکومت کی مکمل شمولیت اور پورے معاشرے کی شرکت‘ کے طریقۂ کار کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے تحت حکومت کی ادارہ جاتی قوت، نوجوانوں کے نیٹ ورک کی عوامی رسائی اور برادریوں کی شراکت داری کو یکجا کرتے ہوئے نچلی سطح پر تپِ دق کے خلاف کارروائی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ہر ’جوش ٹیم‘ میں پانچ مائی بھارت رضاکار اور پانچ این سی سی کیڈٹس شامل ہوں گے اور بلاک/وارڈ کی سطح پر ایک نامزد درجہ اوّل کے افسر اس کی قیادت کریں گے۔ ان ٹیموں کو تپِ دق کے خاتمے کے پروگرام کے لیے برادری کی سطح پر ایک اہم رابطہ نظام کے طور پر کام کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں باقاعدگی سے عوامی رابطہ اور زمینی سطح کی سرگرمیاں انجام دیں گی تاکہ تپِ دق کے بارے میں عوامی سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا جا سکے، بروقت تشخیص اور علاج کو فروغ دیا جا سکے، غلط تصورات اور گمراہ کن باتوں کا ازالہ کیا جا سکے اور برادری کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

گھروں اور برادریوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے یہ ٹیمیں تپِ دق کی عام علامات، احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص کے فوائد اور تجویز کردہ علاج مکمل کرنے کی اہمیت کے بارے میں بیداری کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کریں گی۔ وہ اہل خانہ اور برادریوں کے ساتھ بھی رابطہ کریں گی تاکہ تپِ دق سے وابستہ بدنامی اور امتیازی سلوک کا مناسب طور پر مقابلہ کیا جا سکے اور اس بیماری سے متاثرہ افراد کو علاج حاصل کرنے اور علاج کے نظام سے مسلسل جڑے رہنے کی ترغیب دی جا سکے۔

’جوش ٹیموں‘ کا آغاز اجتماعی کارروائی کے اسی جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کو ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ میں سرگرم شراکت دار بننے کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ حکومت کے  اہلکاروں، مائی بھارت رضاکاروں، این سی سی کیڈٹس، صحت کارکنوں، پنچایتی راج اداروں اور برادریوں کی مشترکہ شرکت کے ذریعے یہ پہل عوامی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور تپِ دق کے خلاف آخری سرے تک مؤثر کارروائی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے، جس سے ایک صحت مند اور تپِ دق سے پاک بھارت کی تعمیر کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ ہوتا ہے۔

دلی کے این سی ٹی حکومت کے صحت کے وزیر جناب پنکج سنگھ،  جناب منوج تیواری، جناب ہرش ملہوترا، جناب یوگیندر چندولیا اور جناب رام ویر سنگھ بدھوری، اراکین پارلیمنٹ (لوک سبھا)؛ محترمہ سواتی مالیوال، رکن پارلیمنٹ (راجیہ سبھا)؛ محترمہ پونیا سلیلہ سری واستو، سکریٹری، صحت و خاندانی بہبود کی وزارت؛ محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر، قومی صحت مشن؛ اور قومی راجدھانی خطہ دہلی کی حکومت، مائی بھارت اور نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کے نمائندے تقریب میں موجود تھے۔

***

ش ح۔ش  م۔ م ذ

U N-4840

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2320893) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil