جل شکتی وزارت
جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل نے گنگا کی بحالی سے متعلق بااختیار ٹاسک فورس کے 20ویں اجلاس کی صدارت کی
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے پانی سے متعلق محکمہ جاتی سربراہ اجلاس کے دوران اجاگر کیے گئے تعلیم میں پانی کو شامل کرنے کے وژن کو جناب سی آر پاٹل نے 20ویں ای ٹی ایف اجلاس میں آگے بڑھایا، اسکولوں میں پانی سے متعلق نصاب، انجینئرنگ اور تکنیکی یونیورسٹیوں میں پانی سے متعلق مخصوص مضامین اور اعلی تعلیمی اداروں میں آبی انتظام و حکمرانی سے متعلق کورسز شروع کرنے پر زور
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 12:41PM by PIB Delhi
جامع انداز میں دریاؤں کی بحالی کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہوئے بااختیار ٹاسک فورس (ای ٹی ایف) کا 20واں اجلاس نئی دہلی میں جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نمامی گنگے پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دریاؤں کی بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔ ان اقدامات میں سیوریج کے بہتر بنیادی ڈھانچے، سائنسی بنیادوں پر آبی انتظام، صاف کیے گئے گندے پانی کا محفوظ طریقے سےدوبارہ استعمال، ماحولیاتی بحالی، زیر زمین پانی کا بندوبست، فطرت پر مبنی حل اور متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل شامل ہیں۔


اجلاس میں جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راج بھوشن چودھری کے علاوہ مختلف وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کے اہم متعلقہ فریقوں نے بھی شرکت کی۔ ان میں محکمۂ آبی وسائل کی سکریٹری محترمہ ارچنا ورما، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کےمحکمے کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا، نیشنل مشن فار کلین گنگا (این ایم سی جی) کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجیو کمار متل، محکمہ آبی وسائل کے جوائنٹ سکریٹری اور مالیاتی مشیر جناب گورو مسلڈان کے علاوہ این ایم سی جی اور شریک ریاستوں کے اعلی افسران شامل تھے۔
اجلاس میں سیوریج کے بنیادی ڈھانچے، تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری اور جانچ، زمین کی دستیابی، صاف کیے گئے گندے پانی کے محفوظ طریقے سے دوبارہ استعمال (ایس آر ٹی ڈبلیو)، آبی ذخائر کی نقشہ سازی، دلدلی زمینوں، شہری صفائی ستھرائی کے عملی منصوبوں (سی ایس اے پی)، فضائی سروے کے ذریعے نکاسی آب کی نقشہ سازی اور ریاستی گنگا کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاسوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ برونی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی نظرثانی شدہ ڈی پی آر موصول ہوگئی ہے اور اسے جانچ کے لیے آئی آئی ٹی، بی ایچ یو بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مغربی بنگال میں شانتی پور کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ڈی پی آر کو ایگزیکٹو کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ بہار اور مغربی بنگال نے صاف کیے گئے گندے پانی کے دوبارہ استعمال سے متعلق اپنی پالیسیاں نافذ کردی ہیں، جبکہ جھارکھنڈ میں ریاستی کابینہ کی منظوری حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔


اجلاس میں نمامی گنگے پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی مجموعی صورتحال اور مالی سال 2025-26 کے دوران پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اگست 2026 تک 43,266 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت والے 527 منصوبوں کو منظوری دی جاچکی ہے، جن میں سے 368 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کے تحت 219 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن کے ذریعے 6,603 ایم ایل ڈی کی گنجائش کے حامل ٹریٹمنٹ پلانٹس اور 5,245 کلومیٹر طویل سیوریج نیٹ ورک قائم کیا جارہا ہے۔ ان میں سے 147 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، جن سے 4,339 ایم ایل ڈی سیوریج ٹریٹمنٹ کی گنجائش پیدا ہوئی ہے اور 4,615 کلومیٹر طویل سیوریج نیٹ ورک مکمل کیا جاچکا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام میں حیاتیاتی طریقے سے آلودہ پانی کی صفائی اور جدید سیوریج ٹریٹمنٹ، ٹھوس کچرے کا بندوبست، صنعتی کچرے کی صفائی، نگرانی اور جائزہ، تحقیق و ترقی، حیاتیاتی تنوع اور شجرکاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، عوامی بیداری اور معلومات کے انتظام سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ اداروں اور ریاستی حکومتوں کو جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور زیر التوا ڈی پی آر، زمین سے متعلق مسائل اور عمل درآمد میں حائل دیگر رکاوٹوں کو جلد دور کرنے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں ریور سٹی الائنس کے تحت تیار کیے گئے تعلیمی کورسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ اقدام پانی سے متعلق کورسز تیار کرنے اور اعلی تعلیم کے نصاب میں آبی حکمرانی اور انتظام کو شامل کرنے کی ہدایت کے مطابق ہے۔ این ایم سی جی اور این آئی یو اے نے دو کورسز — شہری دریائی انتظام کے اصول اور ماحول دوست دریائی کناروں کی ترقی — تیار کیے اور انہیں متعارف کرایا ہے۔ پہلا کورس متراج سرواجَنک، جو پہلے ایس سی ای ٹی سورت کے نام سے جانا جاتا تھا اور او پی جندل گلوبل یونیورسٹی میں کرایا جارہا ہے، جبکہ دوسرا کورس اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر، بھوپال میں کرایا جارہا ہے۔ ان کورسز میں آبی علاقوں، نکاسی آب کے طاس، دریاؤں کی ساخت، بارش کے پانی کی نکاسی کا انتظام، ماحولیاتی بہاؤ، ماحول دوست دریائی کناروں کے ڈیزائن، دریائی طاس اور شہر کے باہمی تعلق، سیلابی میدانوں کے ضوابط، دریائی کناروں کے ماحولیاتی نظام، پانی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اجلاس میں اتر پردیش کے پیلی بھیت میں واقع گومتی ادگم استھل کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ گومتی ادگم استھل کی بحالی اور مربوط ترقی سے متعلق ماسٹر پلان کو دسمبر 2025 میں این ایم سی جی کی 68ویں ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں منظوری دی گئی تھی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جھیل کی بحالی اور فطرت پر مبنی حل کے تحت 1 ایم ایل ڈی گنجائش والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے سیوریج کی صفائی سے متعلق ڈی پی آر کو منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ انتظامی منظوری اور اخراجات کی منظوری 17 ستمبر 2026 کو جاری کردی گئی تھی۔ کچھوؤں کی رہائش گاہ اور پنچ واٹیکا کی بحالی سے متعلق ڈی پی آر 74ویں ایگزیکٹو کمیٹی میں زیر غور ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق ڈی پی آر کی جانچ کی جارہی ہے۔ وزیر موصوف نے ہدایت دی کہ منظور شدہ اقدامات پر بلا تاخیر عمل درآمد شروع کیا جائے اور ٹینڈر کے عمل کو بروقت مکمل کرنے اور ریاستی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں بہار میں نیرنجنا/پھلگو ندی کی مجوزہ بحالی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے تحت جنگلات میں اضافہ، زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور پانی کو زمین میں جذب کرنے کے لیے ریچارج ٹرینچز سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ندی کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے اور پانی کی دستیابی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ بہار حکومت کے چیف سکریٹری کو خط جاری کیے جانے کے بعد بہار کے محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری کو نیرنجنا ندی کی بحالی کے اقدام کے لیے ریاستی سطح کا نوڈل افسر نامزد کیا گیا ہے۔ این ایم سی جی نے ریاستی سطح کے نوڈل افسر سے درخواست کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ ریاستی محکموں سے مشاورت کرتے ہوئے کام کی مقدار کی فہرست (بی او کیو) اور تفصیلی لاگت کے تخمینے کی جانچ کرکے تصدیق کریں۔ اس میں تازہ ترین قابل اطلاق شرحوں کے شیڈول (ایس او آر) کے مطابق مقدار، اشیا اور شرحوں کی بھی تصدیق کی جائے گی۔ ریاست سے درخواست کی گئی ہے کہ مزید منظوری اور منصوبے پر عملی طور پر کام شروع کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے یہ تصدیق جلد از جلد فراہم کی جائے۔ جناب سی آر پاٹل نے دریاؤں کی بحالی کے لیے مربوط طریقہ کار اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں ماحولیاتی بحالی کے ساتھ زیر زمین پانی کا انتظام اور پانی کی دستیابی بڑھانے کے اقدامات کو بھی شامل کیا جائے۔
اجلاس میں دریائے یمنا کی بحالی کے لیے این ایم سی جی سے متعلق اقدامات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اتر پردیش میں این ایم سی جی نے متھرا-ورنداون، کوسی-چھاتا، آگرہ، فیروزآباد اور اٹاوہ میں منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن کا مقصد سیوریج جمع کرنے، اسے منتقل کرنے، صفائی اور انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور یمنا و اس سے منسلک آبی گزرگاہوں میں بغیر صفائی یا ناکافی طور پر صاف کیے گئے سیوریج کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ دہلی میں گندے پانی کے انتظام سے متعلق اقدامات کے علاوہ یمنا ماحولیاتی ٹاسک فورس کی تشکیل، آبی علاقوں سے متعلق اقدامات، دہلی کے لیے شہری دریائی انتظامی منصوبے کی تیاری، نالوں کا ڈرون کے ذریعے سروے، فطرت پر مبنی حل، آلودگی سے متعلق پانی کے بہاؤ کی نگرانی، شدید آلودگی پھیلانے والی صنعتوں اور انٹرسیپٹر سیوریج پروجیکٹ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کورونیشن پلر اور اوکھلا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے دریائے یمنا میں ماحولیاتی بہاؤ میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔
وزیرموصوف نے زور دے کر کہاکہ اس طرح کے تعلیمی اقدامات دریاؤں کے انتظام کے ماحولیاتی، سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور پالیسی سے متعلق پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد تیار کرنے اور اس شعبے کے ماہرین کی ایک ایسی ٹیم تیار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں جو ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کورسز کو شہر اور ریاستی سطح پر دریاؤں سے متعلق کام کرنے والے ماہرین اور طلبہ کے لیے فروغ دیا جاسکتا ہے اور یہ کورسز کرنے والے طلبہ کو شہروں میں دریاؤں سے متعلق ذمہ داریاں سونپنے کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے۔
اجلاس میں 19ویں ای ٹی ایف اجلاس کے بعد سے عوامی رابطے اور عوامی شرکت کے لیے کیے گئے اہم اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سوچھتا ہی سیوا 2026 کے تحت مختلف مقامات پر صفائی مہم، بیداری مہم اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ جل شکتی کے مرکزی وزیر نے ملک بھر کے پانی کے تحفظ اور دریاؤں کی بحالی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں سے بھی بات چیت کی اور پانی کے تحفظ، ماحولیات کے تحفظ، دریاؤں کی بحالی اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کے لیے نچلی سطح پر ان کی کوششوں کو تسلیم کیا۔ وزیر نے ان کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دریاؤں کی بحالی کی کوششوں کو طویل مدتی اور کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والی کارروائی میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل اور مرکوز عوامی شرکت ضروری ہے۔
اجلاس میں چھوٹی ندیوں کی بحالی کے فریم ورک سے متعلق قومی سطح کی مشاورتی ورکشاپس کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کا انعقاد جولائی اور اگست 2026 کے دوران نئی دہلی، پونے اور گوہاٹی میں کیا گیا تھا۔ ان ورکشاپس میں سائنسی منصوبہ بندی، فطرت پر مبنی حل، زیر زمین پانی کی سطح میں اضافے، ماحولیاتی بہاؤ اور عوامی شرکت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ورکشاپس کا مقصد چھوٹی ندیوں اور آبی گزرگاہوں کی بحالی کے لیے منظم اور سائنسی طریقہ کار کو مضبوط بنانا تھا، ساتھ ہی مقامی ماحولیاتی حالات اور کمیونٹی کے علم کو بھی اس میں شامل کرنا تھا۔
9ویں انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کے دوران پائیدار شہری دریائی انتظام (ایس یو آر ایم) فریم ورک اور دریاؤں میں مائیکرو پلاسٹک کی نگرانی سے متعلق پروٹوکول بھی جاری کیے گئے۔ ان کا مقصد پائیدار دریائی اور شہری انتظام کو مضبوط بنانا اور دریاؤں کی آلودگی کی سائنسی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے شہروں اور دریاؤں سے متعلق اداروں کو شہری دریاؤں کے انتظام کے لیے پائیدار طریقے اپنانے اور مائیکرو پلاسٹک سمیت آلودگی کے ابھرتے ہوئے چیلنجز کی سائنسی نگرانی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر 137 سی ای ٹی ایف بٹالین (ٹی اے) کی 39ویں گنگا ٹاسک فورس نے پریاگ راج، وارانسی، کانپور، لکھنؤ اور دہلی میں دریاؤں کے کنارے اہم مقامات پر بیداری مہم اور صفائی مہم چلائی، جس سے دریاؤں کے تحفظ میں عوامی شرکت کو مزید تقویت ملی۔ بااختیار ٹاسک فورس کے 20ویں اجلاس میں دریاؤں کی بحالی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، شہری مقامی اداروں، سائنسی اداروں اور مقامی برادریوں کے درمیان مسلسل تال میل کی اہمیت پر دوبارہ زور دیا گیا۔
جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ دریاؤں کی بحالی کے لیے ایک جامع طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جو صرف آلودگی کم کرنے تک محدود نہ ہو بلکہ اس میں پانی کی دستیابی، ماحولیاتی صحت، زیر زمین پانی کا تحفظ، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، پائیدار شہری ترقی اور عوامی شرکت بھی شامل ہو۔ انہوں نے زمینی سطح پر اقدامات کے قابل پیمائش نتائج کو یقینی بنانے کے لیے تمام سطحوں پر مسلسل تال میل اور قریبی نگرانی پر زور دیا۔
بااختیار ٹاسک فورس کے 20ویں اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ گنگا طاس میں مسلسل اور مربوط کوششیں ’’اویرل و نرمل گنگا‘‘ کے وژن کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دریائی طاس میں طویل مدتی آبی تحفظ، ماحولیاتی لچک اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
*****
ش ح۔ ک ح۔ ج
uno-4834
(ریلیز آئی ڈی: 2320754)
وزیٹر کاؤنٹر : 4