بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان نے 20ویں ای اے ایس وزرائے توانائی کےاجلاس میں علاقائی توانائی تعاون اور سلامتی کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 1:12PM by PIB Delhi

 بجلی،نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر  جناب شریپد یسو نائک نے آج فلپائن کے شہر منیلا میں منعقدہ 20ویں مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے وزرائے توانائی کی میٹنگ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جناب نائک نے علاقائی توانائی تعاون، توانائی سلامتی اور محفوظ، مضبوط، سستی اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔

WhatsApp Image 2026-10-08 at 12.17.55.jpeg

ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور آسیان کے ساتھ اس کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نےاے ایس ای اے این یعنی آسیان پلان آف ایکشن فار انرجی کوآپریشن2030-2026 کا خیرمقدم کیا اور آسیان انڈیا پلان آف ایکشن2030-2026 کے تحت تعاون پر زور دیا، جس میں آسیان پاور گرڈ، علاقائی بجلی کی ترسیل، کثیر ملکی بجلی کی تجارت، صاف توانائی اور توانائی کی سلامتی شامل ہیں۔ انہوں نے 2025 میں 22ویں آسیان-انڈیا سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس اعلان کا بھی ذکر کیا، جس میں گرڈ کنیکٹیویٹی کے شعبے میں 400 ماہرین کی تربیت کے ذریعے آسیان پاور گرڈ اقدام کی حمایت کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

جناب نائک نے بجلی کے شعبے میں ہندوستان کی نمایاں پیش رفت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا کہ 30 ستمبر 2026 تک ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت 558.8 گیگا واٹ تک پہنچ گئی ہے، جس میں 308 گیگا واٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی صلاحیت شامل ہے، جو مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت کا 55 فیصد ہے۔ انہوں نے پی ایم سوریہ گھر اسکیم کے تحت ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا، جس کے تحت 29 ستمبر 2026 تک تقریباً 50.1 لاکھ گھروں کی چھتوں پر شمسی تنصیبات لگائی جا چکی ہیں، جس سے 59.5 لاکھ گھرانے مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے جون 2025 میں غیر فوسل ذرائع سے مجموعی تنصیب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد حاصل کر لیا تھا، جو اس کے 2030 کے قومی سطح پر طے شدہ تعاون (این ڈی سی) کے ہدف سے پانچ سال پہلےحاصل کی گئی کامیابی ہے۔

علاقائی توانائی رابطے کے حوالے سے جناب نائک نے بتایا کہ ہندوستان اور سنگاپور مجوزہ 2,000 میگاواٹ سرحد پار بجلی رابطے کے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زیر غور ایک تجویز تقریباً 3,000 کلومیٹر طویل زمینی ترسیلی راہداری کی ہے، جو ہندوستان کے امپھال کو میانمار، تھائی لینڈ اور ملیشیا کے راستے سنگاپور سے جوڑے گی۔ مجوزہ رابطہ قابل اعتماد سرحد پار بجلی کی تجارت کو فروغ دینے، صاف توانائی کے انضمام میں معاونت کرنے اور علاقائی توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر موصوف نے ای اے ایس میں شریک ممالک کے ساتھ بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کی تنصیب، گرڈ میں انضمام، بجلی کی ترسیل کی منصوبہ بندی، توانائی ذخیرہ کرنے، گرین ہائیڈروجن اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان کے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آسیان سینٹر فار انرجی اور ہندوستان کے اداروں، بشمول این ٹی پی سی، پاور گرڈ، سی ای اے، این آئی ڈبلیو ای، این آئی ایس ای اور این پی ٹی آئی کے درمیان مزید مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا۔

جناب نائک نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، بجلی کے نظام کو مستحکم بنانے، ایل این جی اور گیس کی محفوظ فراہمی، قابل تجدید توانائی کی پیش گوئی، بیٹری کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنے، گرین ہائیڈروجن اور توانائی کی دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ انہوں نے شریک ممالک کی ترجیحات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سی سی یو ایس اور کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم کے سلسلے میں آسیان کے شراکت دار ممالک کے ساتھ معلومات اور تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون میں ہندوستان کی دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے آسیان پاور گرڈ سے متعلق بہتر مفاہمت نامے کو عملی شکل دینے اور کثیر ملکی بجلی کی تجارت کو مزید فروغ دینے کی آسیان کی کوششوں کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

 

*****

ش ح ۔م ع ن۔  ع د

U. No.4827 


(ریلیز آئی ڈی: 2320633) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: Malayalam , English , हिन्दी