وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

آیوش خدمات کے شعبے میں مجموعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 43 فیصد ہے جب کہ کئی منظم شعبوں میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد سے زائد ہے


اسپتالوں، دن کے نگہداشت مراکز، تعلیمی اداروں اور فلاحی مراکز میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد سے تجاوز کرگئی

آیوش خدمات کا شعبہ 17.6 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے، روزگار اور معاشی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھر رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 12:33PM by PIB Delhi

حالیہ جائزے کے مطابق، آیوش خدمات کا شعبہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کے لیے ایک اہم شعبے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس شعبے کے کئی منظم حصوں میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ آیوش خدمات کی مجموعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 43 فیصد ہے، جبکہ اسپتالوں، دن بھر نگہداشت فراہم کرنے والے مراکز، تعلیمی اداروں اور فلاح و بہبود کے مراکز میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

آیوش خدمات کی معیشت، جس میں آیوروید، یوگا و نیچروپیتھی، یونانی، سدھا، سووا رگپا اور ہومیوپیتھی شامل ہیں، کی مالیت مالی سال 2024-25 میں 36.92 ارب امریکی ڈالر لگائی گئی ہے۔ مالی سال23-2022 کے بعد سے اس شعبے میں سالانہ اوسطاً 16.91 فیصد کی مضبوط شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ شعبہ صحت، فلاح و بہبود، تعلیم اور متعلقہ خدمات کے شعبوں میں براہِ راست تقریباً 17.6 لاکھ افراد کے روزگار اور ذریعۂ معاش کو سہارا دیتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261008123419_224ef4.gif

اس شعبے میں روزگار کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے، آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہاکہ  ’’آیوش خدمات کے شعبے میں مسلسل توسیع سے صحت خدمات، فلاح و بہبود، تعلیم اور متعلقہ خدمات کے شعبوں میں بامعنی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس شعبے کی توسیع نہ صرف ہندوستان کے صحت خدمات کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ کاروبار شروع کرنے، ہنر مندی کے فروغ اور افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔‘‘

آیوش خدمات کے شعبے سے متعلق رپورٹ کے مطابق، جو 2026 کے یوم آیوروید کے موقع پر حال ہی میں جاری کی گئی اور یہ آر آئی ایس کی جانب سے تیار کردہ ایک مطالعے پر مبنی ہے، منظم آیوش اداروں میں خواتین کی شمولیت خاص طور پر نمایاں ہے۔ اسپاؤں اور فلاح و بہبود کے مراکز میں خواتین کی نمائندگی 60 فیصد سے زیادہ، تعلیمی اداروں میں 58 فیصد، دن کے نگہداشت مراکز میں 57 فیصد اور اسپتالوں میں 53 فیصد ہے۔

رپورٹ کے نتائج صحت خدمات کی فراہمی، تعلیم، فلاح و بہبود اور متعلقہ خدمات سمیت آیوش خدمات کے نظام کے مختلف شعبوں میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔ مقامی اور آزادانہ طور پر چلنے والے کلینکوں میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کے روزگار اور ذریعۂ معاش وابستہ ہیں، جو شہری اور دیہی علاقوں میں اس شعبے کے وسیع روزگار کے دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔

آیوش کی وزارت کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا نے زور دیتے ہوئے کہاکہ  ’’معیاری ضوابط، ہنرمندی کے فروغ، ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے اور مضبوط ادارہ جاتی نیٹ ورک کی مدد سے منظم طور پرآیوش خدمات کے شعبے میں توسیع سے روزگار کے مواقع کی تعداد اور معیار، دونوں میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ منظم آیوش اداروں میں خواتین کی زیادہ شمولیت اس شعبے کی جامع معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔‘‘

آزادانہ طور پر چلنے والے کلینک بدستور آمدنی پیدا کرنے والے سب سے بڑا شعبہ ہیں۔ ان سے تقریباً 16.21 ارب امریکی ڈالر، یعنی شعبے کی مجموعی آمدنی کا 43.9 فیصد حاصل ہوتا ہے، جبکہ دن کے نگہداشت مراکز سے مزید 10.13 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ دونوں شعبے مل کر آیوش خدمات کے شعبے کی 70 فیصد سے زیادہ آمدنی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ آیوروید بدستور سب سے بڑا انفرادی نظام ہے، جس سے 17.73 ارب امریکی ڈالر، یعنی آیوش خدمات کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 48 فیصد حاصل ہوتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261008123429_87ca1e.gif

فلاح و بہبود کے شعبے میں خاص طور پر مضبوط ترقی دیکھی جا رہی ہے اور اس کی مرکب سالانہ شرح نمو 21.29 فیصد رہی ہے۔ اس دوران یوگا مراکز کی آمدنی میں دو برس کے دوران تقریباً 75 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جو احتیاطی صحت اور فلاح و بہبود کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ شعبہ طبی قدر پر مبنی سفر (ایم وی ٹی) کے میدان میں بھی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے اور مالی سال  25-2024 میں اس سے تقریباً 1.77 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ بین الاقوامی مریضوں کی تعداد اگرچہ مجموعی مریضوں کا تقریباً 5 فیصد ہے، تاہم اسپتالوں کے شعبے کی آمدنی میں ان کا حصہ تقریباً 15 سے 25 فیصد ہے۔ علاج سے متعلق پروگراموں میں عموماً 5 سے 11 دن تک قیام شامل ہوتا ہے۔

جائزے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ آیوش خدمات کا شعبہ مالی سال 25-2024 کے   36.92 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2047 تک اندازاً 216 سے 318 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس شعبے میں صحت خدمات کی فراہمی، فلاح و بہبود، تعلیم، طبی سفر، تحقیق، ڈیجیٹل صحت اور متعلقہ خدمات سمیت مختلف شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

منظم آیوش اداروں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے ساتھ ساتھ شعبے کے بڑھتے ہوئے معاشی حجم اور روزگار کے دائرے سے اس کی اس صلاحیت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ یہ خواتین کی معاشی شمولیت، جامع ترقی اور 2047 تک ہندوستان کو ’وکست بھارت‘ بنانے کے وسیع تر ترقیاتی سفر میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

 

************

 

ش ح۔م م ع۔ ج ا

 (U: 4825)


(ریلیز آئی ڈی: 2320627) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी