جل شکتی کی وزارت
ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے آئی آئی ایم بنگلور میں جل جیون مشن 2.0 کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی علاقائی جائزہ میٹنگ کا انعقاد کیا
ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری نے ریاستوں سے جے جے ایم 2.0 کے تحت پانی کے ذرائع کی پائیداری، پانی کے معیار کی نگرانی اور خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 7:00PM by PIB Delhi
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کی وزارت جل شکتی نے آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلور (آئی آئی ایم بنگلور) میں جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی علاقائی جائزہ میٹنگ کا انعقاد کیا۔ میٹنگ کی صدارت ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی۔ اس موقع پر نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون بھی موجود تھے، جبکہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جے جے ایم 2.0 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور پانی کے ذرائع کی پائیداری، پانی کے معیار کی نگرانی، ڈیجیٹل گورننس، کمیونٹی کی شرکت اور دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری سے متعلق اہم اصلاحاتی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں جناب اشوک کے کے مینا نے اس بات پر زور دیا کہ جل جیون مشن 2.0 بنیادی ڈھانچے کی تخلیق سے پائیدار اور جواب دہ خدمات کی فراہمی کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ منظور شدہ اسکیموں کے نفاذ میں تیزی لائیں، دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرمایہ کاری ایسی مکمل طور پر فعال اسکیموں کی جانب کی جائے جو دیہی گھرانوں کو قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی خدمات فراہم کریں۔ نتائج پر مبنی عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخراجات کو فعال بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کیا جانا چاہیے، جس کے لیے پانی کے ذریعے گھر تک مکمل رابطے، مضبوط ڈیجیٹل ریکارڈ اور مؤثر نگرانی کے نظام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
سکریٹری جناب مینا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ جل جیون مشن نے ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی تک رسائی میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ اگست 2019 میں مشن کے آغاز کے وقت صرف 3.27 کروڑ دیہی گھرانوں کے مقابلے میں اب 15.96 کروڑ سے زیادہ دیہی گھرانوں میں نل کے پانی کے کنکشن موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے جے ایم 2.0 کا مقصد پانی کے ذرائع کی پائیداری، مالی اور عملیاتی کارکردگی، پانی کے معیار کی یقین دہانی اور شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کے ذریعے ان فوائد کو برقرار رکھنا ہے۔
جناب مینا نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ، خاص طور پر معیار سے متاثرہ علاقوں میں، سنگل ولیج اور ملٹی ولیج پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے نفاذ میں تیزی لائیں اور دستیاب وسائل کے بروقت استعمال کو یقینی بنائیں۔ واٹر گورننس سے متعلق حالیہ شعبہ جاتی بات چیت کے دوران کیے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ جے جے ایم 2.0 کے تحت خدمات کی فراہمی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے متفقہ اصلاحاتی اقدامات کی نگرانی اور ان کے نفاذ کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کریں۔
جل سیوا ادھیان سے سامنے آنے والے نتائج کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں میں رساو اور ان کا ٹوٹنا پانی کی فراہمی میں خلل کی سب سے بڑی وجوہات ہیں، جس کے بعد بجلی کی کٹوتی اور کم وولٹیج سے متعلق مسائل کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی بہتر بنانے اور دیہی گھرانوں کو پینے کے پانی کی بلاتعطل خدمات فراہم کرنے کے لیے فوری اور طویل مدتی، دونوں طرح کے حل اختیار کریں۔
سکریٹری نے دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے حل تلاش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں پینے کے پانی کے اثاثوں کو شمسی توانائی سے آراستہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے استفادہ کرنے والے اختراعی طریقۂ کار عملیاتی لاگت کو کم کر سکتے ہیں، خدمات کی قابلِ اعتماد فراہمی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور دیہی پینے کے پانی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب کمل کشور سون، اے ایس اینڈ ایم ڈی، این جے جے ایم نے دیہی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کو متاثر کرنے والے عملیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ جل سیوا ادھیان اور متعلقہ جائزوں سے سامنے آنے والے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم وولٹیج اور بجلی کا ناقص معیار کئی علاقوں میں خدمات کی فراہمی کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بجلی سے متعلق لاگت کو کم کرنے سے عملیاتی پائیداری میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے اور بار بار آنے والے آپریشن و دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے عملی حل تلاش کرنے کی غرض سے اجتماعی طور پر کام کریں۔
پروفیسر گوپال نائک، جے جے ایم پروفیسر چیئر، آئی آئی ایم بنگلور نے ’’جے جے ایم اسکیم میں بجلی کی لاگت کو بہتر بنانا‘‘ کے عنوان سے ایک مطالعہ پیش کیا۔ اس مطالعے میں دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے لیے توانائی کے مختلف انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جن میں گرڈ پر مبنی اور شمسی توانائی سے چلنے والے ماڈل شامل ہیں، اور ان کے عملیاتی اور لائف سائیکل اخراجات پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ پریزنٹیشن میں بار بار آنے والے آپریشن و دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے، پانی کی خدمات کو زیادہ کفایتی بنانے اور جدید توانائی کے حل کے ذریعے دیہی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی مالی پائیداری بہتر بنانے کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔
پروگرام کے دوران واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ڈبلیو کیو ایم آئی ایس) کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی اور انتظام سے متعلق تحقیق پر مبنی پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ جل جیون مشن کے نفاذ کے بعد کئی پیمانوں پر پینے کے پانی کے معیار کے معیارات کی تعمیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، لیبارٹری کے ماحولیاتی نظام، آزاد نگرانی کے طریقۂ کار اور کمیونٹی کی قیادت میں پانی کے معیار کے انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع کو بھی اجاگر کیا گیا۔
بات چیت کے دوران ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری نے دیہی پانی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو مضبوط بنانے کے لیے پانی کے معیار کی نگرانی کا ایک آزاد طریقۂ کار قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے گرام پنچایتوں اور برادریوں کو پانی کے معیار سے متعلق معلومات دستیاب کرانے کی ضرورت پر زور دیا اور پانی کے معیار کے نتائج کا جائزہ لینے اور تدارکی اقدامات کی نشاندہی کرنے میں گرام سبھاؤں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جے جے ایم 2.0 کے تحت طویل مدتی خدمات کی فراہمی کے نتائج کو بہتر بنانے میں کمیونٹی کی شرکت اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی اہم کردار ادا کرے گی۔
جائزہ میٹنگ کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے جے جے ایم 2.0 کی کلیدی ترجیحات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جن میں ریاستی نفاذ کے منصوبے، مالیاتی مفاہمت، پی ایم-جنمن دیہات میں ہر گھر جل سرٹیفیکیشن، جل ارپن، ڈیجیٹل گورننس کے اقدامات اور پانی کے معیار کا انتظام شامل ہیں۔ میٹنگ کا اختتام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے پیش رفت، چیلنجوں اور بہترین طریقوں کا اشتراک کرنے اور تعاون پر مبنی وفاقیت، ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ حکمرانی اور جن بھاگیداری کے ذریعے پائیدار آبی تحفظ کے مشن کے وژن کو آگے بڑھانے کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔
اپنے اختتامی کلمات میں جناب کمل کشور سون، اے ایس اینڈ ایم ڈی، این جے جے ایم نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ جے جے ایم 2.0 کے تحت اہم اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ میں تیزی لائیں۔ جل ارپن کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کے تحت اسکیموں کی باضابطہ حوالگی جی پی اور وی ڈبلیو ایس سی کو کی جاتی ہے، انہوں تمام ہر گھر جل دیہاتوں میں یہ عمل مکمل کرنےاور منظور شدہ علاقائی زبانوں میں سرٹیفکیٹ تیار کرنے کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
جناب سون نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ پانی کے معیار کی جانچ میں تیزی لائیں، خاص طور پر آنگن واڑی مراکز اور دیگر سرکاری اداروں میں، اور مقررہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹیسٹ کے نتائج بروقت اپ لوڈ کرنا یقینی بنائیں۔ انہوں نے گرام پنچایت کی سطح پر او اینڈ ایم دستی کو عملی جامہ پہنانے، پانی کے ذرائع کی پائیداری کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے لیے ڈیسیژن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) کا فعال طور پر استعمال کرنے اور دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے مؤثر انتظام کے لیے پنچایتی راج اداروں کے ساتھ ہم آہنگی مضبوط کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے ڈی ایس ایس پر مطلوبہ معلومات بروقت فراہم کرنے، صلاحیت سازی کی سرگرمیوں کو مکمل کرنے، فنانس کمیشن کی تعمیل سے متعلق تقاضوں پر عمل درآمد کرنے اور جے جے ایم 2.0 اصلاحات کے سنگ میل حاصل کرنے کے لیے واضح نفاذ کے منصوبے تیار کرنے پر بھی زور دیا۔
***
UR-4801
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2320438)
وزیٹر کاؤنٹر : 13