بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے تیسرے ساگرمنتھن ڈائیلاگ کے پیغام میں قواعد پر مبنی سمندری نظام پر زور دیا


وزیرِ اعظم نے تھنک لیڈرشپ کانفرنس میں عالمی رہ نماؤں کا خیرمقدم کیا، بندرگاہوں کی ترقی اور نئے سمندری قوانین کا حوالہ دیا

بھارت کا سمندری وژن خطوں اور سمندروں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ تعاون، اعتماد، باہمی احترام اور باہمی فائدے پر مبنی ہے: وزیرِ اعظم مودی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 OCT 2026 7:18PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کو ساگرمنتھن: دی گریٹ اوشینز ڈائیلاگ کے تیسرے ایڈیشن میں دنیا بھر سے پالیسی سازوں، سمندری رہ نماؤں اور ماہرین کا خیرمقدم کیا، اور ایک ”آزاد، کھلے، محفوظ اور قواعد پر مبنی سمندری نظام“ پر زور دیا جو تمام اقوام کے لیے امن اور خوشحالی لائے۔

”ہمارا وژن ایک آزاد، کھلے، محفوظ اور قواعد پر مبنی سمندری نظام کا ہے جو سب کے لیے زیادہ امن، خوشحالی اور ترقی لائے۔ مجھے یقین ہے کہ ساگرمنتھن اس بڑے وژن کو مزید تقویت دے گا،” وزیرِ اعظم مودی نے کانفرنس کو ایک تحریری پیغام میں کہا، جسے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) نئی دہلی میں منعقد کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ دنیا کے ایک حصے میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کے ساحلوں سے بہت دور کی جگہوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے سمندروں پر عالمی مکالمہ اور تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مودی نے کہا کہ ساگرمنتھن نام، جس کا مطلب ”سمندر کا منتھن“ ہے، بھارتی روایت میں خاص معنی رکھتا ہے، جہاں منتھن کا تعلق نئی امکانات کی دریافت سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ سمندر دنیا کی معیشتوں، لوگوں اور سیارے کے لیے ”بے پناہ امکانات“ رکھتے ہیں۔

”بھارت کا سمندر کے ساتھ تعلق ذمہ داری کے بارے میں بھی ہے۔ جیسے جیسے ہم ایک مضبوط سمندری معیشت کی تعمیر کر رہے ہیں، ہم اپنے سمندروں اور ساحلی ایکو سسٹم کی صحت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ بھارت کا سمندری وژن خطوں اور سمندروں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ تعاون، اعتماد، باہمی احترام اور باہمی فائدے پر مبنی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ سمندروں کو مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بننا چاہیے، جہاں ہر ملک کو آواز اور ترقی کا موقع ملے،” وزیرِ اعظم نے لکھا۔

مودی نے بھارت کی سمندری تاریخ کو قدیم بندرگاہی شہر لوتھل سے چولا خاندان اور مراٹھا حکم ران چھترپتی شیواجی مہاراج کے بحری وژن تک بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی ملاحوں اور تاجروں نے سامان، خیالات، کہانیاں اور ثقافت دور دراز کی سرزمینوں تک پہنچائی۔ وزیرِ اعظم مودی نے ملک کی سمندری امنگوں کو وِکست بھارت سے جوڑا، جو 2047 تک بھارت کو ایک وِکست قوم بنانے کا بھارت سرکار کا ہدف ہے۔

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ بھارت کی بڑی بندرگاہوں نے اپنی صلاحیت کو تقریباًًً دوگنا کر دیا ہے جب کہ ٹرن اراؤنڈ کے اوقات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ”بھارت سمندر کو ایک نئے مقصد کے احساس کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ 2047 تک وِکست بھارت کی طرف سفر ایک مضبوط اور زیادہ قابل سمندری بھارت کی طرف بھی سفر ہے۔ ہم جہاز سازی اور گرین شپنگ کے ایک نئے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہماری بڑی بندرگاہوں نے اپنی صلاحیت کو تقریباًًً دوگنا کر دیا ہے، جب کہ ٹرن اراؤنڈ کے اوقات میں نمایاں کمی آئی ہے،” وزیرِ اعظم مودی نے کہا۔

بھارت سرکار سمندروں کو بہتر طور پر سمجھنے اور انھیں ذمہ داری سے استعمال کرنے کے لیے سمندری سائنس اور تحقیق میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ”بھارت نے اس شعبے کے لیے ایک جدید فریم ورک بنانے کے لیے نئی نسل کے سمندری قوانین بھی متعارف کرائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ہم سمندری سائنس اور تحقیق میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنے سمندروں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کی بے پناہ صلاحیت کا ذمہ دارانہ استعمال کر سکیں،” وزیرِ اعظم مودی نے مزید کہا۔

مودی نے کہا کہ بھارتی ملاح اب دنیا کی دوسری سب سے بڑی سمندری افرادی قوت بن چکے ہیں، جس میں نوجوان بھارتی دنیا بھر کے سمندروں میں احترام حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سمندری صحت اور ساحلی ایکو سسٹم کی حفاظت کر رہا ہے کیوں کہ وہ ایک مضبوط سمندری معیشت کی تعمیر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کا سمندری وژن تعاون، اعتماد، باہمی احترام اور باہمی فائدے پر مبنی ہے۔

”ہمارا ماننا ہے کہ سمندروں کو مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بننا چاہیے، جہاں ہر ملک کو آواز اور ترقی کا موقع ملے،” وزیرِ اعظم مودی نے کہا۔ انھوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ساگرمنتھن اس وژن کو مضبوط کرے گا اور کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ مکالمہ آنے والی نسلوں کے لیے نئے خیالات، گہری شراکت داری اور مواقع لائے گا۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 4798


(ریلیز آئی ڈی: 2320396) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati