لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا کے اسپیکر نےاپنے پیشرو سابق اسپیکرجناب بالی رام بھگت کو خراجِ عقیدت پیش کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 OCT 2026 5:05PM by PIB Delhi

نئی دہلی؛ 7 اکتوبر 2026: لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج اپنے پیشرو سابق اسپیکر، لوک سبھا، جناب بالی رام بھگت کے یومِ پیدائش پرسمویدھان سدن کے سینٹرل ہال میں ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت نذر کیے۔

لوک سبھا کے سکریٹری جنرل جناب اتپل کمار سنگھ نے بھی بالی رام بھگت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بالی رام بھگت ایک بزرگ مجاہدِ آزادی تھے اور انہیں پارلیمانی امور کا وسیع تجربہ اور پارلیمانی طریقۂ کار اور ضوابط کا گہرا علم حاصل تھا۔ وہ 5 جنوری 1976 کو لوک سبھا کے پانچویں اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ عبوری پارلیمنٹ اور پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں، ساتویں اور آٹھویں لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

مرکزی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے خزانہ، منصوبہ بندی، دفاع، خارجہ امور، بیرونی تجارت و رسد، اسٹیل اور بھاری انجینئرنگ سمیت اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے فروری 1993 سے چار ماہ تک ہماچل پردیش کے گورنر اور 30 جون 1993 سے یکم مئی 1998 تک راجستھان کے گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

مورخہ2 جنوری 2011 کو نئی دہلی میں بالی رام بھگت کا انتقال ہوا۔

لوک سبھا کے سابق اسپیکر اور راجستھان کے سابق گورنر آنجہانی بالی رام بھگت کے یومِ پیدائش کے موقع پر سمویدھان سدن کے سینٹرل ہال میں ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔

بالی رام بھگت کی عوامی زندگی جنگ آزادی، پارلیمانی جمہوریت، انتظامیہ اور سماجی خدمت سے وابستہ طویل اور ہمہ جہت سفر پر مشتمل ہے۔ تقریباً چار دہائیوں پر محیط اپنے قانون ساز کریئر کے دوران بالی رام بھگت نے پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سال 1950 میں وہ عبوری پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1952 سے 1977 کے درمیان پہلی سے پانچویں لوک سبھا اور پھر 1980 سے 1989 تک ساتویں اور آٹھویں لوک سبھا کے رکن رہے۔ انہوں نے سات مرتبہ لوک سبھا میں نمائندگی کی۔

مورخہ5 جنوری 1976 کو بالی رام بھگت پانچویں لوک سبھا کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ یہ ان کی پارلیمانی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اسپیکر کا عہدہ سنبھالتے وقت انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اسپیکر ایوان کا خادم ہوتا ہے اور ایوان کے تمام ارکان سے یکساں طور پر وابستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے غیر جانب داری اور منصفانہ طرزِ عمل کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے طرزِ صدارت میں پارلیمانی طریقۂ کار کی گہری سمجھ، تحمل اور نظم و ضبط کے تئیں پختہ عزم نمایاں تھا۔ ان کی پارلیمانی مہارت، طریقۂ کار سے متعلق علم، بصیرت اور جامع نقطۂ نظر کے باعث ایوان کے مختلف طبقوں میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

پالی رام بھگت پارلیمانی نظم و ضبط اور ایوان کے وقار کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔ وہ پارلیمانی روایات اور مناسب پارلیمانی طرزِ عمل کے حامی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ پارلیمانی کارروائی اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب قواعد، وقت اور طریقۂ کار کا احترام کیا جائے۔ ان کے طرزِ صدارت میں یہ بات خاص طور پر نمایاں تھی کہ مشکل حالات میں بھی وہ پرسکون اور پُرعزم رہتے ہوئے ایوان کے قواعد کی پابندی یقینی بنانے کی کوشش کرتے تھے۔

بالی رام بھگت کی پارلیمانی وراثت کا ایک اہم پہلو ادارہ سازی کے حوالے سے ان کا نقطۂ نظر تھا۔ مارچ 1976 میں ان کے دورِ صدارت میں سرکاری یقین دہانیوں سے متعلق چیئرمین کی کمیٹی کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایوان میں حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کی مناسب تکمیل اور عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اسی سال پارلیمانی تحقیق و تربیتی ادارہ برائے جمہوریت (پی آر آئی ڈی ای) (سابقہ بی پی ایس ٹی) قائم کیا گیا، جو آج لوک سبھا سکریٹریٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ پارلیمانی مطالعے اور تربیت کا یہ اقدام عوامی نمائندوں اور پارلیمانی امور سے وابستہ افراد کی صلاحیت سازی کی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ یہ ان کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں پارلیمنٹ کو محض بحث اور قانون سازی کا فورم نہیں، بلکہ علم، تربیت، طریقۂ کار سے متعلق مہارت اور ادارہ جاتی صلاحیت کےلحاظ سے مضبوط ہونے والے جمہوری ادارے کے طور پر دیکھا گیا۔

بالی رام بھگت کی زندگی تحریکِ آزادی سے شروع ہوکر آزاد ہندوستان کے جمہوری اداروں کی ترقی کے لیے وقف رہی۔ وہ راجستھان اور ہماچل پردیش کے گورنر اور مرکزی وزیر خارجہ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا، پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کی، مرکزی حکومت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے اہم ذمہ داری ادا کی اور لوک سبھا کے اسپیکر کی حیثیت سے پارلیمانی وقار اور طریقۂ کار کو اہمیت دی۔

بالی رام بھگت کی پارلیمانی وراثت، جمہوری وابستگی، سماجی خدمت اور ملک کی خدمت کا جذبہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ باعث تحریک بنا رہے گا۔

********

) ش ح ۔ م ش ع۔اش ق)

U.No. 4779


(ریلیز آئی ڈی: 2320295) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी