PIB Backgrounder
بھارت میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ
اگلی نسل کی ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ کے ذریعے بھارت کا مستقبل سنوارنے کی سمت پیش رفت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 12:05PM by PIB Delhi

بھارت کی ٹیکنالوجی کی کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک سے ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ملک کی جانب سفر کیا ہے۔ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے نے دنیا کو پہلے ہی دکھا دیا ہے کہ بھارت بڑے پیمانے پر، پوری آبادی تک رسائی رکھنے والے ڈیجیٹل نظام تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب یہی اعتماد ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر طبعی دنیا تک پھیل رہا ہے اور اس کا اثر اس بات پر بھی پڑ رہا ہے کہ بھارت اشیا کو کس طرح ڈیزائن، تیار اور مینوفیکچر کرتا ہے۔ اسی مرحلے پر ایڈیٹو مینوفیکچرنگ (اے ایم) اہمیت اختیار کرتی ہے۔ یہ ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور اختراع ہے، جو خاموشی سے ڈیجیٹل ڈیزائن کو حقیقی اور طبعی اشیا میں تبدیل کرنے کا کام کر رہی ہے۔
ایڈیٹو مینوفیکچرنگ بھارت کے مینوفیکچرنگ کے سفر میں انجینئرنگ کے جدید ترین شعبوں میں سے ایک بنتی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر اے ایم مشینوں کی مارکیٹ 2035 تک 149 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اے ایم الیکٹرانکس کی سپلائی چین 18 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے بھارت کے لیے پولیمر، دھاتوں، مرکبات، سیرامکس اور سیمی کنڈکٹر گریڈ کے مواد سمیت مختلف شعبوں میں اے ایم پلیٹ فارمز کا مسابقتی مینوفیکچرر بننے کا ایک حقیقی موقع پیدا ہوتا ہے۔

تخلیقی ذہن، سائنس کو نئی رفتار، ٹیکنالوجی کو بااختیار بنانا
ابھرتے ہوئے سائنسی علوم، ٹیکنالوجی اور اختراعی کانکلیو (ایسٹک)-2026 کا دوسرا ایڈیشن 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگا۔ یہ تقریب نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’’تخلیقی ذہن، سائنس کو نئی رفتار، ٹیکنالوجی کو بااختیار بنانا‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد کی جائے گی۔ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کے زیرِ اہتمام ایسٹک-2026 کے ذریعے ابھرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ ان میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ (اے ایم) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے والی ایپلی کیشنز کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ کانکلیو اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینے اور وِکسِت بھارت 2047 کے وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
12 موضوعاتی شعبوں پر مشتمل اس تقریب میں مکمل اجلاس، تکنیکی مباحثے اور نمائشیں منعقد کی جائیں گی۔ ایجنڈے کی مزید تفصیلات کے لیے ’’ایسٹک 2026‘‘ ملاحظہ کریں۔
ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو سمجھنا
ایڈیٹو مینوفیکچرنگ محض مینوفیکچرنگ کا ایک اور طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ڈیجیٹل انجینئرنگ کی ایک شکل ہے، جس میں ایک ڈیجیٹل فائل کے ذریعے کسی شے کی تہہ در تہہ مواد کی تہہ چڑھانے کے پورے عمل اور بعض اوقات مواد کی ساخت کو بھی مکمل طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے، تاکہ مطلوبہ شے تیار کی جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی میں کمپیوٹنگ، الیکٹرانکس، ڈیزائن سافٹ ویئر اور علم مواد ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ ایڈیٹو مینوفیکچرنگ سے تیار ہونے والی ہر شے کی ابتدا ایک ڈیجیٹل فائل سے ہوتی ہے، اسی لیے یہ ٹیکنالوجی کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (سی اے ڈی)، مصنوعی ذہانت اور پیٹرن کی شناخت جیسے جدید ٹولز سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ایک سادہ مگر مؤثر اصول پر کام کرتی ہے—کسی شے کو کاٹ کر گھٹانے کے بجائے اسے تہہ در تہہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ڈیزائن کس طرح مرحلہ وار ایک حقیقی اور طبعی شے میں تبدیل ہوتا ہے، آئیے اسے سمجھتے ہیں:

- ورچوئل ڈیزائن: یہ عمل سی اے ڈی (کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن) فائل میں تیار کیے گئے ڈیجیٹل ڈیزائن سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائن یا تو ابتدا سے تیار کیا جاتا ہے، یا 3ڈی اسکینر کی مدد سے کسی موجودہ شے کا ڈیجیٹل ماڈل بنایا جاتا ہے، یا آج کل موبائل فون سے لی گئی تصاویر کی مدد سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔
- ایس ٹی ایل فائل: اس ٹی ایل (اسٹینڈرڈ ٹیسلیشن لینگویج) فائل کسی 3ڈی ماڈل کو تکونی سطحوں کے مجموعے کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ یہ اے ایم کے لیے ماڈل تیار کرنے میں استعمال ہونے والے عام فائل فارمیٹس میں سے ایک ہے۔ یہ فائل مشین کو ہدایات دیتی ہے کہ کیا چیز تیار کرنی ہے۔
- سلائسنگ :سلائسنگ سافٹ ویئر اس ڈیجیٹل ماڈل کو سیکڑوں یا ہزاروں افقی تہوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس عمل کے بعد سافٹ ویئر مشین کو ہدایات دیتا ہے کہ شے کو تہہ در تہہ کس طرح تیار کرنا ہے۔
- پرنٹنگ: سلائس کی گئی فائل اے ایم مشین میں منتقل کی جاتی ہے، جو ہر تہہ کو پڑھ کر مرحلہ وار شے تیار کرتی ہے۔
- ایڈیٹو عمل :اے ایم میں کسی شے کو مواد کی یکے بعد دیگرے تہیں بچھا کر تیار کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے مواد کی تہہ چڑھانے اور اس کی ترکیب کو کنٹرول کرنے میں اتنی زیادہ درستگی پیدا کر دی ہے کہ ڈیجیٹل ہدایات کے بغیر پرنٹنگ کا عمل شے کو درست طور پر تیار نہیں کر سکتا۔ اس وقت مارکیٹ اور تحقیق و ترقی کے مرحلے میں ایسے 40 سے زائد ایڈیٹو مینوفیکچرنگ عمل موجود ہیں۔

- حتمی شے: پرنٹر مواد کی یکے بعد دیگرے تہوں کو باہم جوڑ کر ایک مکمل اور یکجا تھری ڈی شے تیار کرتا ہے۔ پرنٹنگ مکمل ہونے کے بعد اسے قابل استعمال اور مارکیٹ میں پیش کرنے کے قابل بنانے کے لیے بعد از پروسیسنگ کا عمل کیا جاتا ہے۔
ہندوستانی معیشت کے اہم شعبوں میں نئی جہتیں پیدا کرنا
اے ایم اب صرف لیبارٹریوں اور تجرباتی نمونوں تک محدود نہیں رہا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے زمینی سطح پر جاری منصوبوں کی حمایت کے ساتھ اسے ہندوستانی معیشت کے اہم اور اسٹریٹجک شعبوں میں بڑے پیمانے پر اپنایا جا رہا ہے۔
خلاء اور ایرو اسپیس
ہندوستان کا خلائی پروگرام ہلکے اور تیز رفتار ہارڈویئر کی تیاری کے لیے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کو اپنا رہا ہے۔ مئی 2024 میں آئی آئی ٹی مدراس سے وابستہ اسٹارٹ اَپ اگنیکُل کاسموس نے ’اگنی بان – ایس او آر ٹی ای ڈی ‘ لانچ کیا، جس میں اے ایم کے ذریعے تیار کیا گیا ایک ہی ٹکڑے پر مشتمل نیم کرائیوجینک راکٹ انجن نصب تھا۔ اس مشن نے یہ ثابت کیا کہ ایڈیٹو مینوفیکچرنگ پیچیدہ انجن ڈیزائن تیار کرنے اور خلائی ہارڈویئر کی تیز رفتار مقامی تیاری میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ این ایس اے ایم مزید ایسے اسٹارٹ اَپس کو اے ایم کے ذریعے اہم انجن پرزوں کی تیاری کے لیے تحقیق و ترقی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
دفاع
مسلح افواج تیز رفتار اور قدرتی آفات سے بہتر طور پر نمٹنے والی تعمیرات کے لیے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کا رخ کر رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج نے احمد آباد میں اے ایم کے ذریعے تیار کردہ اپنی پہلی دو منزلہ رہائشی یونٹ کا افتتاح کیا، جسے محض 12 ہفتوں میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد سے لداخ جیسے عملی اور دشوار گزار علاقوں میں پری کاسٹ دفاعی ڈھانچوں کی تعمیر کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ این ایس اے ایم تینوں مسلح افواج کو ایم آر او ایپلی کیشنز کے لیے ورکشاپ کی سطح کی سہولیات قائم کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

حفظان صحت
ہندوستان اے ایم کے ذریعے درآمد شدہ طبی ٹیکنالوجی کے ملک میں ہی متبادل تیار کر رہا ہے۔ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے اے ایم پر مبنی طبی آلات کی تیاری میں معاونت فراہم کی ہے، جبکہ این ایس اے ایم کے تحت OsteoForge جیسے اسٹارٹ اَپس قدرتی ریشم پر مبنی امپلانٹس کی تیاری کے لیے اے ایم پرنٹنگ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈملک میں تیار کردہ بایوسیرامک مواد والے 3ڈی پرنٹ شدہ ہڈیوں کے گرافٹس کی تیاری میں معاونت کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مریض کی مخصوص ضروریات اور جسمانی ساخت کے مطابق گرافٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے درآمدات میں کمی، طبی آلات کی ملک میں تیاری کو تقویت دینے اور زیادہ ذاتی نوعیت کی صحت خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔
الیکٹرانکس
ہندوستان میں قائم اے ایم مراکز کا نیٹ ورک الیکٹرانکس کے معیار کے مطابق مصنوعات کی تیاری میں ملکی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ این ایس اے ایم نے بیٹریوں، اینٹینا، وریسٹرز، کیپیسٹرز اور دیگر کئی الیکٹرانک پرزوں کی اے ایم پرنٹنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال کے طور پر، آئی آئی ایس سی نے اے ایم پرنٹنگ کے ذریعے فوٹونک انٹیگریٹڈ سرکٹ کے بلاکس تیار کرنے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا ہے۔
تعمیرات
ہندوستان تیز رفتار اور زیادہ پائیدار تعمیرات کے لیے 3ڈی پرنٹنگ کو ایک ممکنہ حل کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ ’Kelvin 6K Pro‘ نامی سائٹ پر ہی 3ڈی تعمیراتی پرنٹر نے کم کاربن والے جیوپولیمر مواد کا استعمال کرتے ہوئے 30 دن سے بھی کم عرصے میں 2,500 مربع فٹ کے مکانات تعمیر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں مواد اور نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے، کاربن اخراج میں کمی لانے اور تعمیراتی عمل کی کارکردگی بہتر بنانے کی صلاحیت ہے۔ ابتدائی استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیمنٹ پر مبنی تعمیرات کے مقابلے میں مواد اور نقل و حمل کے اخراجات میں 30 فیصد تک کمی اور کاربن کے اخراج میں 90 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس بڑھتی ہوئی پیش رفت کے پیچھے حکومت کی واضح سرپرستی کارفرما ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے الگ تھلگ آزمائشی منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے لیے ایک منظم اور مہم کی طرز پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا ہے، جسے خصوصی فنڈنگ، ادارہ جاتی تعاون اور قومی حکمت عملی کا تعاون حاصل ہے۔ این ایس اے ایم اب شمسی توانائی کے ذخیرے کے لیے کنکریٹ پر مبنی سپر کیپیسٹرز تیار کر رہا ہے۔
حکومتی پالیسی اقدامات: ہندوستان میں اے ایم کا مضبوط ماحولیاتی نظام تشکیل دینا

اے ایم کو ایک اسٹریٹجک اور نئی نسل کی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، حکومتِ ہند ایک منظم قومی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہے۔ اس کوشش کی بنیاد ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کی قومی حکمتِ عملی (این ایس اے ایم) پر ہے۔ اسے ملک بھر میں تیزی سے فروغ پانے والے پلیٹ فارمز، اداروں اور اقدامات سے تعاون حاصل ہو رہا ہے، جو اس ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
قومی ایڈیٹو مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی (این ایس اے ایم)
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے فروری 2022 میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کی قومی حکمتِ عملی (این ایس اے ایم) جاری کی۔ این ایس اے ایم ہندوستان میں 3ڈی پرنٹنگ اور ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے لیے رہنما پالیسی فریم ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔ ’میک اِن انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے عین مطابق، اس حکمتِ عملی میں واضح اور مقررہ مدت کے اندر حاصل کیے جانے والے قومی اہداف طے کیے گئے ہیں۔ ان اہداف کے حصول کے لیے مرکز، ریاستوں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون سے کام کیا جا رہا ہے۔
قومی حکمتِ عملی کا مقصد عالمی ایڈیٹو مینوفیکچرنگ مارکیٹ میں 5 فیصد حصہ حاصل کرنا اور ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، مواد، مشینوں، عمل اور سافٹ ویئر سمیت ہندوستان کی ضروریات کے مطابق 50 ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز تیار کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اس حکمتِ عملی کا مقصد 100 نئے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ اسٹارٹ اَپس کو فروغ دینا اور 500 نئی مصنوعات تیار کرنا بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے شعبے کے لیے ایک لاکھ ہنرمند کارکنوں کو تربیت دینے کا ہدف ہے۔ ایک اور اہم مقصد مینوفیکچرنگ کے 10 موجودہ اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے۔

ان اہداف کو مزید آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے سات خصوصی ترقی و تعیناتی مراکز قائم کیے ہیں۔ یہ مراکز تحقیق و ترقی، ہنرمندی کے فروغ اور ٹیکنالوجی تک عملی رسائی فراہم کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔

ین ایس اے ایم کے تحت پیش رفت
قومی ایڈیٹو مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی (این ایس اے ایم) کے آغاز کے چار سال سے زائد عرصے بعد اس کے تحت مسلسل اور نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ حکومت کی حمایت سے جاری اقدامات نے ہنرمندی کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور مختلف شعبوں میں اس کے استعمال کے ذریعے ہندوستان کے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو تقویت فراہم کی ہے۔
اب تک 1,54,000 سے زائد افراد کو ایڈیٹو مینوفیکچرنگ سے متعلق مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے، جس سے ہنرمند افرادی قوت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے 56 اسٹارٹ اَپس کو بھی معاونت فراہم کی گئی ہے، جس سے ہندوستان میں اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ قومی مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے ہندوستانی ضروریات کے مطابق65 ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں، جن میں مواد، مشینیں، ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے لیے ڈیزائن (ڈی ایف اے ایم) اور 3ڈی پرنٹ شدہ مصنوعات شامل ہیں۔ یہ صلاحیتیں ایرو اسپیس، طبی آلات، الیکٹرانکس، توانائی، فوڈ پروسیسنگ اور فوٹونکس سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعات اور تجرباتی نمونوں کی تیاری میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
این ایس اے ایم2.0
ہندوستان میں اے ایم مارکیٹ کی رفتار تیز کرنے کے عزم کو آگے بڑھانے کے لیے این ایس اے ایم 2.0 کا تصور پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے اگلے مرحلے میں دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کے حصول میں تیزی لانے، ڈیجیٹل انضمام کے ذریعے اے ایم نیٹ ورک کو وسعت دینے اور تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے عالمی معیار کی مسابقتی ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، کلسٹرز کے ذریعے مشینوں اور مواد کو مزید سستا اور قابلِ رسائی بنانے اور ایڈیٹو مینوفیکچرنگ سے متعلق الیکٹرانکس کی ویلیو چین کو مضبوط کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
این ایس اے ایم2.0 کے تحت ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے اسٹارٹ اَپس کی بنیاد کو وسعت دینے، ہندوستانی دفاعی شعبے کو وسیع پیمانے پر معاونت فراہم کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی ایس) پر مبنی پائلٹ پروگراموں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ اس میں معیارات، مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی تجویز بھی ہے۔ یہ ترجیحات ہندوستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اقتصادی، صنعتی اور سماجی شعبوں میں ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کے وسیع پیمانے پر استعمال کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

وکست بھارت کی جانب سفر
اے ایم بتدریج ہندوستان کی تحقیقی لیبارٹریوں سے نکل کر کارخانوں، دفاعی اداروں اور اسپتالوں تک پہنچ رہا ہے۔ مرکوز حکومتی پالیسیوں کی حمایت سے یہ مقامی مینوفیکچرنگ کو مستحکم بنانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید بہتربنا کر ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو بھی تقویت دے رہا ہے۔ ہندوستان اپنے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو وسعت دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ملک کی تکنیکی بنیاد مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ڈیجیٹل پیداوار، جدید خودکاری، تقسیم شدہ اور لچکدار مینوفیکچرنگ کے ذریعے ’انڈسٹری 5.0‘ کو بھی فروغ دیتی ہے۔ وسائل کے مؤثر استعمال، مقامی سطح پر پیداوار اور پائیدار حل کے ذریعے اس کے استعمال سے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی ایس) کے حصول میں بھی مزید مدد مل سکتی ہے۔ یہ تمام کوششیں مل کر اے ایم کو ’وکست بھارت‘ کی جانب ہندوستان کے سفر میں ایک ابھرتے ہوئے اہم معاون کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔
حوالہ جات:
NCAM
Atal Innovation Mission
Ministry of Electronics & IT
NIST
Others
Additive Manufacturing in India
********
(ش ح ۔ش ب ۔ص ج )
U. No.4768
(ریلیز آئی ڈی: 2320237)
وزیٹر کاؤنٹر : 11