بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم روزگار پیداوار پروگرام: ملک بھر میں کاروباری افراد کو بااختیار بنانا اور جامع ترقی کو فروغ دینا


کامیابی کی کہانیاں روزگار اور کاروبار کی ترقی پر پی ایم ای جی پی کے انقلابی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 OCT 2026 7:53PM by PIB Delhi

پی ایم ای جی پی، بھاری صنعتوں کی وزارت کے تحت ایک اہم منصوبہ ہے، جسے کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ بالخصوص دیہی اور نیم شہری علاقوں میں غیر زرعی شعبے میں نئی مائیکرو صنعتیں قائم کرنے کے مواقع فراہم کرکے خود روزگاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ممکنہ کاروباری افراد کو بینک سے منظور شدہ قرضوں پر مارجن منی (ایم ایم) سبسڈی کی شکل میں مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، جس سے نئے کاروباری ادارے قائم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ضروری تقویت ملتی ہے۔

مالی سال 2014-15 سے اب تک، پی ایم ای جی پی کے تحت تقریباً 8.12 لاکھ مائیکرو کاروباری افراد کو 24,398.61 کروڑ روپے کی مارجن منی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 73.08 لاکھ افراد کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

امنگوں کو کاروباری کامیابی میں بدلتا پی ایم ای جی پی: نچلی سطح پر تبدیلی کا محرک

پی ایم ای جی پی مارجن منی (ایم ایم) سبسڈی کے ذریعے معاون قرض تک آسان رسائی فراہم کرکے عام لوگوں کی خواہشات کو کامیاب کاروباری اداروں میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ پہلی نسل کے کاروباری افراد کو مستحکم اور قابلِ عمل کاروبار قائم کرنے کے قابل بناتا ہے اور یوں روزگار کے متلاشی افراد کو روزگار فراہم کرنے والے بننے کا موقع دیتا ہے۔

پی ایم ای جی پی کی کامیابی اس کے مستفیدین کے حوصلہ افزا سفر سے بخوبی عیاں ہوتی ہے، جنہوں نے اپنی کاروباری خواہشات کو کامیاب اور فروغ پاتے کاروباری اداروں میں تبدیل کیا ہے:

اسکن کانتی آیوروید – مائیکرو انٹرپرائز سے قومی لیڈر تک

ہماچل پردیش کے پروانو میں مقیم محترمہ پوجا شرما کے قائم کردہ اسکن کانتی آیوروید نے ایک معمولی مائیکرو انٹرپرائز سے ترقی کرکے بھارت کی سب سے بڑی ہاتھ سے تیار صابن بنانے والی یونٹ بننے کی نمایاں مثال قائم کی ہے۔ 25 لاکھ روپے کی منصوبہ جاتی لاگت سے شروع ہونے والے اس ادارے کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی معاونت حاصل رہی۔ آج اس ادارے کا سالانہ کاروبار 30 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے اور یہ 300 افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، جن میں 95 فیصد خواتین ہیں۔ آیوروید کے اصولوں کو جدید سائنسی تکنیکوں کے ساتھ یکجا کرکے اس یونٹ نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں پیداواری کارکردگی میں بہتری اور لاگت میں کمی شامل ہے۔ یہ ادارہ مختلف خوردہ اور ادارہ جاتی ذرائع کے ذریعے ملک بھر میں اپنی مصنوعات فراہم کر رہا ہے۔

 

A group of boxes on a tableAI-generated content may be incorrect.

A group of boxes on a tableAI-generated content may be incorrect.

 

ایم/ایس ایس پی کوالٹی پروڈکٹس – پی ایم ای جی پی کی معاونت سے عالمی شناخت تک

پنجاب کے موہالی میں جناب سریندر پال سنگھ ناگی کے قائم کردہ ایم/ایس ایس پی کوالٹی پروڈکٹس نے ترقی کرتے ہوئے عالمی سطح پر مسابقت کی حامل فوڈ پروسیسنگ صنعت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ 21 لاکھ روپے کی ابتدائی  لاگت سے شروع ہونے والے اس یونٹ کو بینک آف بڑودہ نے مالی معاونت فراہم کی۔ آج یہ ادارہ 38 کروڑ روپے کے سالانہ کاروبار تک پہنچ چکا ہے اور تقریباً 130 افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ یہ ادارہ شہد، کوکیز اور پھلوں کے جام تیار کرتا ہے اور امریکہ، آسٹریلیا اور فرانس سمیت 26 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ باوقار اے اے پلس بی آر سی جی ایس سرٹیفیکیشن کا حصول عالمی معیار اور تحفظ کے ضوابط پر اس کی سختی سے عمل داری کا مظہر ہے۔

 

A collage of men in a roomAI-generated content may be incorrect.

 

پی ایم ای جی پی کے تحت کاروباری افراد کی کامیابی کی یہ کہانیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ یہ اسکیم ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، مائیکرو انٹرپرائزز کو وسعت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جامع ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ممکنہ مستفیدین اسکیم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور درخواست جمع کرانے کے لیے پی ایم ای جی پی کے سرکاری پورٹل سے رجوع کر سکتے ہیں: پی ایم ای جی پی کا سرکاری پورٹل :https://pmegp.msme.gov.in/

***********

ش ح۔ رک۔

U No. 4745


(ریلیز آئی ڈی: 2319950) وزیٹر کاؤنٹر : 5