وزارت دفاع
ایچ اے ایل کوراپٹ نے 2,000واں ایرو انجن تیار کیا، پروپلشن مینوفیکچرنگ کے چھ دہائیوں کے سفر کی تکمیل
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے جدید ایرو انجنوں کے دیسی ڈیزائن، تیاری، آزمائش اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا
335 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سےاے ایل- 31 ایف پی کی پیداواری صلاحیت سالانہ 30 سے بڑھا کر 50 انجن کی جائے گی
218 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے شکتی انجنوں کی دوسری پروڈکشن لائن قائم کی جائے گی؛ پیداواری صلاحیت سالانہ 100 انجن تک پہنچ جائے گی
حکومت تقریباً 5,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے اندرون ملک تیار کردہ ہائی تھرسٹ انجن پروگرام پر کام کر رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 OCT 2026 4:57PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 6 اکتوبر 2026 کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے کوراپٹ ڈویژن کی جانب سے 2,000ویں ایرو انجن کی تیاری کا مشاہدہ کیا اور شکتی انجنوں کے لیے دوسری پروڈکشن لائن قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس سنگِ میل کو بھارت کے ایرو اسپیس سفر کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے جدید ایرو انجنوں کے ڈیزائن، تیاری، آزمائش، مینوفیکچرنگ اور رکھ رکھاؤ میں دیسی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرو اسپیس اور دفاعی شعبے میں خود کفالت کے لیے پروپلشن ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔
ایچ اے ایل کوراپٹ کے انجینئروں، ٹیکنیشنز، سائنس دانوں اور ہنرمند افرادی قوت کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 2,000 انجنوں کی تیاری دفاعی افواج کی آپریشنل صلاحیت میں 2,000 اہم شراکت داری کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ 1964 میں ڈویژن کے قیام کے بعد سے چھ دہائیوں کی انجینئرنگ مہارت اور تکنیکی تجربے کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر دفاع نے فوجی ہوابازی میں ایچ اے ایل کوراپٹ کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے انجنوں نے ایم آئی جی-21، ایم آئی جی-27، ایم آئی جی-29 اور ایس یو-30 ایم کے آئی سمیت محاذ پر تعینات طیاروں کو طاقت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پیداوار سے نئی صلاحیت حاصل ہوتی ہے، وہیں اوورہال سے طیاروں کی سروس لائف میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے فوجی تیاری کے لیے دونوں ہی انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے ایچ اے ایل کوراپٹ کی اندرون ملک مرمت اور اوورہال کی صلاحیت کو سراہا، جہاں اب تک 9,000 سے زیادہ انجنوں کا اوورہال کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری اور ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں کمی اہم دفاعی اثاثوں کی آپریشنل تیاری اور ان کی سروس لائف میں اضافے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
ایرو انجن کو طیارے کا ’دل‘ قرار دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دیا کہ جدید ایئر فریم، راڈار، ہتھیاروں اور ایویونکس سے مؤثر طور پر استفادہ کرنے کے لیے قابلِ اعتماد پروپلشن ضروری ہے۔ انہوں نے پریسیژن مینوفیکچرنگ، جدید مواد، دھات کاری، کولنگ ٹیکنالوجیز، آزمائش اور سخت معیار کی یقین دہانی کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرو انجن ٹیکنالوجی جدید سپر الائیز، تھرمل بیریئر کوٹنگز اور جدید کولنگ سسٹمز کو یکجا کرتی ہے، جو انتہائی حالات میں قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس لیے پروپلشن ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا جدید ترین صنعتی صلاحیتوں میں سے بعض پر عبور حاصل کرنے کے مترادف ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ایرو اسپیس کے شعبے میں بالخصوص ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ(اے ایم سی اے) پروگرام کے لیےخود انحصاری کو دیسی ایرو انجن کی صلاحیت تک توسیع دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے تقریباً 5,000 کروڑ روپے کی مجوزہ سرمایہ کاری، مشرا دھاتو نگم لمیٹڈ(ایم آئی ڈی ایچ اے این آئی) کے ساتھ شراکت داری میں خام مال کی مقامی سطح پر تیاری اور بھارت کی پہلی دیسی ہائی تھرسٹ انجن ٹیسٹنگ سہولت کے قیام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ خودمختار ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام کے لیے مواد، ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، آزمائش اور مرمت، رکھ رکھاؤ اوورہال(ایم آر او) سمیت تمام شعبوں میں دیسی صلاحیتیں ضروری ہیں۔
دفاعی افواج کی ضروریات پوری کرنے میں ایچ اے ایل کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے 2024 میں ایس یو-30 ایم کے آئی کے لیے ایچ اے ایل کو 240 اے ایل-31 ایف پی انجنوں کا آرڈر دیا تھا۔ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور خام مال سے متعلق چیلنجوں کے باوجود، ایچ اے ایل نے مقررہ وقت سے پہلے پہلا انجن فراہم کیا اور دوسرے سال کے اختتام تک 60 انجنوں کے ہدف کے مقابلے میں 63 انجن فراہم کیے ہیں۔
وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ایچ اے ایل 335 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے اے ایل-31 ایف پی انجنوں کی سالانہ پیداواری صلاحیت 30 سے بڑھا کر 50 انجن کر رہا ہے۔ انہوں نے 218 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے شکتی انجنوں کی دوسری پروڈکشن لائن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نئی لائن سے سالانہ 100 تک انجن تیار کیے جائیں گے اور اسے 2028-29 تک مکمل طور پر قائم کر دیا جائے گا۔ یہ دیسی ہیلی کاپٹروں، جن میں دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) اور پراچنڈ لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر(ایل سی ایچ) شامل ہیں، کی ضروریات پوری کرے گی۔
بھارت کے ہیلی کاپٹر ماحولیاتی نظام کے لیے قابلِ اعتماد دیسی پروپلشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی افواج کو ایسے انجن درکار ہیں جو ضرورت کے وقت دستیاب ہوں، ان کی پوری سروس لائف کے دوران معاونت حاصل رہے اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ انہیں اپ گریڈ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایرو انجن کی تیاری ایک طویل مدتی کوشش ہے، جس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، خصوصی آزمائشی سہولیات، ہنرمند افرادی قوت اور مضبوط صنعتی ماحولیاتی نظام درکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بار بار یکساں معیار کے ساتھ قابلِ اعتماد اور بڑے پیمانے پر پیداوار، ڈیزائن، اہم مواد اور سپر الائیز پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس، نجی صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی اداروں کو پروپلشن ماحولیاتی نظام میں مزید مربوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ایچ اے ایل سے کہا کہ وہ کوراپٹ کو محض انجنوں کی پیداواری سہولت کے طور پر ترقی دینے کے بجائے اسے وسیع تر ایرو اسپیس پروپلشن ماحولیاتی نظام کے طور پر فروغ دے، جس کے لیے سپلائرز کی حوصلہ افزائی، ایم ایس ایم ایز کی رہنمائی، اسٹارٹ اپس اور نوجوان انجینئروں کی معاونت، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون اور اہم پرزوں کی تیاری کی صلاحیتیں پیدا کرنا ضروری ہے۔
دفاعی اور ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام میں اڈیشہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے ریاست کے تزویراتی محلِ وقوع، طویل ساحلی پٹی، بندرگاہوں، معدنی وسائل، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور ہنرمند افرادی قوت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندی پور میں ڈی آر ڈی او کی انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج سمیت تزویراتی بنیادی ڈھانچہ اور اڈیشہ حکومت کے حالیہ اقدامات ایرو اسپیس اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی کی قیادت میں اڈیشہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈھینک نال کے گجمارا میں ایرو اسپیس اور دفاعی آلات کی مینوفیکچرنگ کمپلیکس کے قیام کی منظوری کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ایچ اے ایل سے کہا کہ وہ سپلائرز تیار کرکے، ایم ایس ایم ایز کی رہنمائی کرکے، جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نوجوان انجینئروں اور اسٹارٹ اپس کو مواقع فراہم کرکے، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کرکے، مقامی ہنرمند نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرکے اور انجن کے اہم پرزوں کی دیسی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں فروغ دے کر کوراپٹ کو وسیع تر ایرو اسپیس پروپلشن ماحولیاتی نظام کے مرکز کے طور پر ترقی دے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے ایچ اے ایل کوراپٹ کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ معیار، پیداواری صلاحیت، مقامی سطح پر تیاری، اختراع اور ترسیل کی مدت کے حوالے سے معیارات کو مزید بلند کرے۔ انہوں نے 2,000ویں انجن کی تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایسے بھارتی ایرو اسپیس صنعت کی تعمیر کی بنیاد بنایا جانا چاہیے جو جدید پروپلشن نظاموں کے ڈیزائن، تیاری، مینوفیکچرنگ اور معاونت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انہوں نے اس موقع پر ایچ اے ایل کوراپٹ کی ٹیم، بھارتی فضائیہ، صنعتی شراکت داروں، ایم ایس ایم ایز، سائنس دانوں، انجینئروں، ٹیکنیشنز اور اڈیشہ کے عوام کو مبارکباد دی۔
اس موقع پر اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی، سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار، ڈپٹی چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر مارشل تیج پال سنگھ، چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر(سی ایم ڈی) ، ایچ اے ایل جناب روی کے، چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) ، مِڈھانی ڈاکٹر ایس وی ایس نارائنا مورتی اور جوائنٹ سکریٹری (ایرو اسپیس وِنگ اورڈی او ایم ڈبلیو محترمہ منیشا چندرا بھی موجود تھیں۔
*****
ش ح۔ ا ع خ۔ ج
uno-4714
(ریلیز آئی ڈی: 2319717)
وزیٹر کاؤنٹر : 8