سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت اور سوئزرلینڈ نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کیا؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی سوئزرلینڈ صدر گائے پارمیلن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات
ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور سوئزرلینڈ صدر گائے پارمیلن نے سائنس، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں طویل مدتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی مصنوعی ذہانت، کوانٹم، بایوٹیکنالوجی، خلائی اور گہرے سمندر سے متعلق تحقیق میں مشن موڈ اپروچ نے دوطرفہ تعاون کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں
بھارت-سوئزرلینڈ تحقیقی فریم ورک، مشترکہ سائنسی بورڈ اور نئے ادارہ جاتی معاہدوں سے تحقیقی ماحول مزید مستحکم ہوگا
سوئزرلینڈ نے بھارت-سوئزرلینڈ تحقیقی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 4.5 کروڑ سوئس فرانک مختص کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 OCT 2026 3:47PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نئی دہلی میں سوئزرلینڈ کنفیڈریشن کے صدر عالی جناب گائے پارمیلن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی۔ ملاقات میں سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں بھارت اور سوئزرلینڈ کے دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس دوران دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی کی شراکت داری کو زیادہ منظم اور طویل مدتی مرحلے میں لے جانے، ادارہ جاتی سطح پر زیادہ روابط اور باہمی دلچسپی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے بین شعبہ جاتی اور مشن موڈ اپروچ اختیار کر رہا ہے، جس کے تحت قومی پروگراموں میں مختلف شعبوں اور وزارتوں کی مہارتوں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو ایک الگ شعبے کے بجائے ایک معاون ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔
بھارت کی سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق بڑھتی ہوئی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بایوٹیکنالوجی، ویکسین کی تیاری، جینوم سیکوینسنگ، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلائی اور گہرے سمندر سے متعلق تحقیق کے شعبوں میں ملک کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی اور بایو اکانومی کے ابھرتے ہوئے مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت-سوئزرلینڈ تحقیقی فریم ورک(آئی ایس آر ایف) اور بھارت-سوئزرلینڈ مشترکہ سائنسی بورڈ کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جو دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی تعاون کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی فریم ورک کی سمت میں آگے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے سوئزرلینڈ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (ایس این ایس ایف)اور سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی ایس ٹی)کے درمیان ارادے کے خط اور زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز(زیڈ ایچ اے ڈبلیو)اورڈ ی ایس ٹی کے درمیان عمل درآمد کے معاہدےکا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور سوئزرلینڈ کے درمیان خوشگوار تعلقات دونوں ممالک کے لیے مختلف سطحوں پر تعاون کو آسان بناتے ہیں۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مسلسل روابط اور مؤثر پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ عملی طریقۂ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ دونوں ممالک تحقیق، اختراع اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
صدر گائے پارمیلن نے کہا کہ سوئزرلینڈ بھارت کو تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی تحقیقی و ترقیاتی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور تعلیم، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں خود کو ایک ترجیحی طویل مدتی شراکت دار کے طور پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ 2003 میں دستخط کیے گئے دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری مسلسل مضبوط ہوئی ہے اور سوئزرلینڈ تعاون کے لیے زیادہ منظم اور طویل مدتی فریم ورک تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر پارمیلن نے کہا کہ سوئزرلینڈ نے اس شراکت داری کے لیے مزید 4.5 کروڑ سوئس فرانک مختص کیے ہیں اور مشترکہ بھارت-سوئزرلینڈ تحقیقی فریم ورک کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے عزم کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک اپنی دیرینہ سائنسی شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اور قریبی تعاون کے ذریعے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت اور اس کے وسیع تر اطلاق پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ صدر پارمیلن نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مصنوعی ذہانت سے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بھی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے آئندہ جنیوا اے آئی سمٹ میں بھارت کو شرکت کی دعوت بھی دی، جو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور عالمی اہمیت کے حامل شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں دونوں ممالک کی مشترکہ دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
بھارت اور سوئزرلینڈ نے 2003 میں بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کے بعد سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط تعاون قائم کیا ہے۔ بھارت-سوئزرلینڈ مشترکہ تحقیقی پروگرام کے ذریعے اس شراکت داری میں پیش رفت ہوئی ہے اور اب یہ کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کلین ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، سمندری تحقیق اور بلیو اکانومی، جدید مواد، ادویہ سازی، بایومیڈیکل تحقیق، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور خلائی ٹیکنالوجیز سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
بھارت-سوئزرلینڈ تحقیقی فریم ورک کا مقصد اب اس تعاون کو منصوبوں پر مبنی ماڈل سے آگے بڑھا کر زیادہ اسٹریٹجک اور نظام کی سطح کی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے، جس میں افراد کی آمدورفت، معلومات اور علم کے تبادلے اور طویل مدتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
ملاقات میں سوئزرلینڈ فریق کی جانب سے ڈاکٹر مارٹینا ہیرایاما، ریاستی سکریٹری برائے تعلیم، تحقیق و اختراع(ایس ای آرآئی)؛ عالی جناب مایا تیسافی، بھارت اور بھوٹان میں سوئزرلینڈ کی سفیر؛ کیتھرین فان وائل، سائنسی مشیر، ایس ای آرآئی؛ پروفیسر ڈاکٹر ٹورسٹن شویڈے، صدر، سوئزرلینڈ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن؛ تھامس گفیلر، چیف ایگزیکٹو آفیسر، فاؤنڈیشن سوئزرلینڈ انوویشن؛ پروفیسر ڈاکٹر ریگولا ژوہل، صدر، زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز؛ ژوئل فرانسوا میزو، صدر، ای ٹی ایچ زیورخ؛ اور لینا اروڑا ککریجا، سائنس و ٹیکنالوجی مشیر، سفارت خانہ سوئزرلینڈ نے شرکت کی۔
بھارتی فریق کی جانب سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ہمراہ پروفیسر امیش وی. واگھمرے، سکریٹری، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی ؛ ڈاکٹر راجیش سدھیر گوکھلے، سکریٹری، محکمہ بایوٹیکنالوجی ؛ ڈاکٹر پروین کمار سوماسندرم، سربراہ، آئی سی ڈی، ڈی ایس ٹی؛ اور ڈاکٹر رام کرشنا ساہو، نوڈل افسر، سوئزرلینڈ ڈیسک، ڈی ایس ٹی موجود تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور سوئزرلینڈ اپنے خوشگوار اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر باہمی روابط کو برقرار رکھنے اور دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی اقدامات پر مسلسل پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ عملی طریقۂ کار وضع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مل کر کام کرتے ہوئے اپنی شراکت داری کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
***********
ش ح۔ رک۔
U No. 4704
(ریلیز آئی ڈی: 2319669)
وزیٹر کاؤنٹر : 9