وزارت دفاع
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے وشاکھاپٹنم کے بارہ خانہ میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سمندری طاقت ، مقامی بحری صلاحیت اور اسٹریٹجک طاقت پر زور دیا
ہندوستانی بحریہ کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیت اور ہندوستان کے سمندری مفادات کے تحفظ میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کیا
قومی خوشحالی ، اقتصادی ترقی اور اسٹریٹجک طاقت کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان کی وسیع سمندری صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زوردیا
بحریہ کے اہلکاروں اور کنبوں کو ان کی ہمت ، لگن اور قومی سلامتی میں تعاون کے لیے خراج تحسین پیش کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 10:49PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 5 اکتوبر 2026 کو وشاکھاپٹنم میں ایسٹرن نیول کمانڈ کی جانب سے منعقدہ بارہ خانہ میں شرکت کی اور بھارتی بحریہ کے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کی۔ انہوں نے ملک کے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے بحریہ کے اہلکاروں کی غیر متزلزل وابستگی کو سراہا اور ان کے اہلِ خانہ کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا، جن کی حمایت اور تعاون سے بحری اہلکار پوری لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے پاتے ہیں۔
_20261005225055_0ddbdd.jpeg)
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بارہ خانہ بحریہ برادری سے بات چیت اور ملاقات کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس موقع پر انہوں نے بحریہ کے اہلکاروں کی جانب سے انجام دی جانے والی ڈیڈی کیٹڈ خدمات کے لیے حکومت کی قدردانی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بحریہ کے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے حکومت کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا اور قومی سلامتی کے لیے ان کے عزم اور تعاون کو تسلیم کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارتی بحریہ ایک طاقتور بحری قوت کے طور پر ابھری ہے اور ملک کو درپیش چیلنجوں کا فیصلہ کن انداز میں جواب دینے کی اپنی صلاحیت ثابت کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطے میں بحریہ کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے اور انہوں نے بحریہ کے اہلکاروں کو ہر موسم اور تمام آپریشنل حالات میں ثابت قدم رہتے ہوئے بھارت کی بحری حدود کی سلامتی یقینی بنانے اور ترنگے کو سربلند رکھنے کے لیے سراہا۔ بحریہ کی شاندار تاریخی شجاعت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے 1971 کی جنگ کے دوران اس کے فیصلہ کن کردار، بالخصوص آپریشن ٹرائیڈنٹ، کا حوالہ دیا، جب بھارتی بحری افواج نے کراچی بندرگاہ پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی نے ثابت کیا کہ بحریہ نہ صرف بھارت کی بحری سرحدوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے خلاف جارحانہ کارروائیاں بھی انجام دے سکتی ہے۔ انہوں نے ان اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی بہادری اور قربانیاں آج بھی نسلوں کو تحریک دیتی ہیں۔
_20261005225105_3c33a2.jpeg)
بھارت کو ایک بحری طاقت کے طور پر حاصل ہونے والی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارتی بحریہ نے 21ویں صدی کے بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھا ہے۔ ملک نے مقامی طور پر تیار کردہ جدید پلیٹ فارم تیار کرنے اور انہیں بحریہ میں شامل کرنے میں پیش رفت کی ہے، جن میں مقامی طیارہ بردار بحری جہاز، جوہری آبدوزیں، اسٹیلتھ فریگیٹس اور اسکارپین کلاس آبدوزیں شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بحریہ کی طاقت صرف بحری جہازوں، آبدوزوں اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے، بلکہ بنیادی طور پر اس کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، حب الوطنی، بہادری اور عزم پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ اس کے سمندری علاقے ملک کی بحری طاقت کی عکاسی کریں، اس کے جنگی جہاز بھارتی ٹیکنالوجی کی ترجمانی کریں اور بحریہ کی کارروائیاں ملک کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور خود انحصاری کی عکاس ہوں۔
وسیع تر بحری وژن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ بھارت کو ‘سمندروں سے خوش حالی اور طاقت کی جانب پیش قدمی’ کے فلسفے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ سمندروں کو محض ایسے بحری حدود کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جن کا تحفظ ضروری ہے، بلکہ انہیں اقتصادی ترقی، تزویراتی اثر و رسوخ اور قومی خوش حالی کے لیے ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جانا چاہیے۔
_20261005225116_fd0aa6.jpeg)
بحریہ کے اہلکاروں کو ہیرو اور نوجوانوں کے لیے باعثِ تحریک قرار دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ بھارت کے مستقبل، بھارت کی طاقت اور بھارت کے وقار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی مسلسل لگن اور عزم بھارت کو ایک زیادہ مضبوط، خوشحال اور خود کفیل ملک کے طور پر ابھرنے میں نمایاں طور پر معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے دفاعی افواج کے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ جب بحریہ کے اہلکار ملک کی خدمت میں سمندر میں تعینات رہتے ہیں، تو ان کے اہلِ خانہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے درکار تعاون اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اہلکاروں کی خدمات اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو ایک قیمتی قومی اثاثہ قرار دیا۔
_20261005225125_ff2c81.jpeg)
بارہ خانہ کی غیر رسمی اور خاندانی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایسے مواقع دفاعی افواج کے اہلکاروں، ان کے اہلِ خانہ اور قیادت کے درمیان رشتے کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانا محض بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت اور باہمی تعلق کا ایک سادہ اور گہرا اظہار بھی ہے، کیونکہ لوگ روایتی طور پر اُن افراد کو کھانے پر اپنے گھر مدعو کرتے ہیں جن کے ساتھ ان کا خصوصی تعلق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح بارہ خانہ بھی دفاعی افواج اور قوم کے درمیان گہرے رشتے کی علامت ہے، جہاں سب ایک بڑے دفاعی خاندان کا حصہ بن کر ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔
_20261005225133_e76ac3.jpeg)
وزیردفاع نے زور دے کر کہا کہ یہ موقع اس رفاقت، باہمی میل جول اور احساسِ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے جو دفاعی افواج کے اہلکاروں، ان کے اہلِ خانہ اور قیادت کو آپس میں جوڑتا ہے۔ انہوں نے اہلِ خانہ کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب بحریہ کے اہلکار ملک کی خدمت میں سمندر میں تعینات رہتے ہیں، تو ان کے اہلِ خانہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور وہ قوت و تعاون فراہم کرتے ہیں، جس کی بدولت بحریہ کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دے پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں کی خدمات اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیاں ا یک ساتھ مل کر ایک قیمتی قومی اثاثہ ہیں۔
******
ش ح۔ م م ع۔رض
4677U-No.
(ریلیز آئی ڈی: 2319471)
وزیٹر کاؤنٹر : 5