وزارت آیوش
آئی ٹی آر اے کے مطالعے میں بچوں میں نیند کی حالت پیشاب کرنےکے مسئلے سے نمٹنے کیلئے یوگ اور آیوروید کے مربوط طریقہ کار کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے
آیوروید اور یوگ کا امتزاج بچوں میں رات کے وقت پیشاب پر قابو نہ رہنے کے مسئلے میں تقریباً 70 فیصد مؤثر ثابت ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 4:07PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارتِ آیوش کے تحت قومی اہمیت کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچنگ اینڈ ریسرچ اِن آیوروید (آئی ٹی آراے)، جام نگر میں کیے گئے ایک طبی مطالعے میں بچوں میں نوکٹورنل اینوریسس (رات کے وقت بستر گیلا کرنے) کے مسئلے کے انتظام کے لیے آیورویدک دوا اور یوگا آسن پر مشتمل مربوط طریقۂ کار کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
6 سے 14 سال کی عمر کے تقریباً 38 بچوں پر مشتمل آٹھ ہفتوں کے اس مطالعے میں پایا گیا کہ آیورویدک دوا کے ساتھ منتخب یوگا آسن کی باقاعدگی سے مشق کرنے والے بچوں میں، صرف آیورویدک دوا لینے والے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ اس مطالعے کے نتائج بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اے وائی یو جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔
مطالعہ دو گروپوں میں کیا گیا
یہ مطالعہ آئی ٹی آر اے، جام نگر کے شعبۂ کومار بھرتیہ (شعبہ اطفال) کی جانب سے کیا گیا۔ مطالعے میں شامل بچوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔
گروپ 1 – صرف آیورویدک دوا:
بچوں کو میَدھیہ رَسایَن چُورن دیا گیا، جو برہمی، شنکھ پشپی، ملیٹھی اور گلوئے پر مشتمل ایک آیورویدک مرکب ہے۔ یہ دوا دودھ کے ساتھ دن میں دو مرتبہ دی گئی۔
گروپ 2 – آیورویدک دوا کے ساتھ یوگا:
بچوں کو یہی آیورویدک مرکب دیا گیا اور اس کے ساتھ چار یوگا آسن — اُت کٹاسن، اَردھ شَلبھاسن، بھُجنگاسن اور شَواسَن — کی صبح اور شام باقاعدگی سے مشق کرائی گئی۔
اہم بہتری کے نتائج سامنے آئے
مطالعے میں مختلف پیمانوں پر حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے:
بستر گیلا کرنے میں کمی: صرف آیورویدک مرکب حاصل کرنے والے بچوں میں بستر گیلا کرنے کی شرح میں تقریباً 38 فیصد بہتری دیکھی گئی، جبکہ آیوروید اور یوگا کے مشترکہ طریقۂ علاج حاصل کرنے والے بچوں میں تقریباً 70 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔
یادداشت میں بہتری: مشترکہ طریقۂ علاج حاصل کرنے والے بچوں کی یادداشت میں تقریباً 61 فیصد بہتری رپورٹ ہوئی، جبکہ صرف آیورویدک دوا لینے والے بچوں میں یہ بہتری تقریباً 31 فیصد رہی۔
چڑچڑاپن میں کمی: مشترکہ طریقۂ علاج والے گروپ کے بچوں میں چڑچڑاپن میں تقریباً 66 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ رویّے سے متعلق پیمانوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ضرورت سے زیادہ فعال رویّے میں کمی: باقاعدگی سے یوگ کی مشق کرنے والے بچوں میں ہائپر ایکٹیویٹی میں تقریباً 71 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور حوصلے میں بھی حوصلہ افزا بہتری سامنے آئی۔
یہ تحقیقی مقالہ پروفیسر ویدیہ ویریندر کوری، ویدیہ ساگر بھنڈے اور ویدیہ امیشا باوروَا نے تیار کرکے پیش کیا۔ محققین نے مطالعے کے دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس کے بعد تحقیقی مقالہ اے وائی یو جرنل میں اشاعت کے لیے منظور کیا گیا۔
آئی ٹی آر اے، جام نگر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنوجا نیسری کے مطابق، بعض صورتوں میں رات کے وقت بستر گیلا کرنے کا مسئلہ مثانے پر قابو رکھنے میں دشواری کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور رویّے سے متعلق عوامل سے بھی وابستہ ہو سکتا ہے۔
مطالعے سے اشارہ ملتا ہے کہ منتخب یوگا آسن، جن میں اتکٹاسن اور بھُجنگاسن شامل ہیں، شرونی کے حصے کے پٹھوں کو مضبوط بنانے اور مثانے پر بہتر کنٹرول میں مدد دے سکتے ہیں۔ آیورویدک اجزا، جیسے برہمی اور شنکھ پشپی، روایتی طور پر اپنی خصوصیات اور ذہنی صحت و بہبود میں معاون کردار کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
یہ نتائج بچوں میں رات کے وقت بستر گیلا کرنے کے مسئلے سے نمٹنے میں آیوروید اور یوگا کو یکجا کرنے والے مربوط طریقۂ کار کے امکانات کو اجاگر کرتے ہیں۔ مطالعہ مجموعی صحت اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے روایتی طبی نظام کے ساتھ موزوں طرزِ زندگی کی عادات کو اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بچوں میں بستر گیلا کرنا ایک عام مسئلہ ہے اور اس سے حساسیت اور مناسب طبی رہنمائی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔


***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.4650
(ریلیز آئی ڈی: 2319286)
وزیٹر کاؤنٹر : 11