PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

وقت کی بچت، مسافت میں کمی


بھارت کا بنیادی ڈھانچہ کس طرح دوریوں کو سمیٹ رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 OCT 2026 12:37PM by PIB Delhi

بچنے والے گھنٹوں کے حساب سے رابطے کا پیمانہ

لاکھوں مسافروں کے لیے بہتر رابطے کا اندازہ صرف تعمیر کی گئی سڑکوں اور راستوں کے کلومیٹر سے نہیں، بلکہ بچنے والے گھنٹوں سے بھی لگایا جاتا ہے۔ پورے بھارت میں نئے پل، سرنگیں، تیز رفتار شاہراہیں اور ریل خدمات شہروں، علاقوں اور آبادیوں کے درمیان سفر میں لگنے والے وقت کو بدل رہی ہیں۔ طویل چکروں، دشوار گزار علاقوں اور سست راستوں کی جگہ براہِ راست اور تیز تر رابطے قائم ہونے سے یہ منصوبے روزمرہ کے سفر میں بنیادی ڈھانچے کے ذریعے آنے والی تبدیلی کو نمایاں کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے تیز تر رابطے ملک کے مزید حصوں تک پہنچ رہے ہیں، روزمرہ آمدورفت میں فاصلہ پہلے کی نسبت کم رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔

پل: رکاوٹیں دور، سفر کا وقت کم

پل روزمرہ کے سفر میں دریاؤں کو عبور کرنے کے طویل اور سست راستوں کو ختم کر رہے ہیں اور ایسے سفر کو، جس میں کبھی گھنٹوں لگتے تھے، بہت کم وقت میں مکمل ہونے والا سفر بنا رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/Screenshot2026-10-05124102_20261005124142_42d14b.png

  • بھوپین ہزاریکا سیتو/ دھولا–صادیہ پل، آسام–اروناچل پردیش (مئی 2017)

6 گھنٹے  ¬ 1 گھنٹہ

آسام کے روپائی اور اروناچل پردیش کے میکا/روئنگ کے درمیان سفر کا وقت چھ گھنٹے سے گھٹ کر ایک گھنٹہ رہ گیا ہے، جس سے پانچ گھنٹے کی بچت ہوئی ہے۔

  • بوگی بیل پل، آسام (دسمبر 2018)

ایک دن طویل سفر ¬ 2-1گھنٹے

برہم پتر پر تعمیر کیا گیا یہ ریل و سڑک پل دھیمائی اور ڈبرو گڑھ کے درمیان رابطے میں نمایاں تبدیلی لایا ہے۔ پہلے جن سفروں میں تقریباً پورا دن لگ جاتا تھا، اب وہ تقریباً ایک سے دو گھنٹے میں مکمل ہو جاتے ہیں۔

  • اٹل سیتو، مہاراشٹر (جنوری 2024)

2 گھنٹے ¬ 20 منٹ

ممبئی ٹرانس ہاربر لنک ممبئی اور نوی ممبئی کے درمیان براہِ راست رابطہ فراہم کرتا ہے، جس سے سفر کا وقت گھٹ کر تقریباً 20 منٹ رہ گیا ہے۔

  • کوشی ریل مہاسیتو ، بہار (ستمبر ، 2020)

8 گھنٹے ¬ 30 منٹ

کوسی ریل مہاسیتو نے نرملی اور سرائے گڑھ کے درمیان ریل سفر کا وقت تقریباً آٹھ گھنٹے سے گھٹا کر 30 منٹ کر دیا ہے، جبکہ فاصلہ بھی تقریباً 300 کلومیٹر سے کم ہو کر 22 کلومیٹر رہ گیا ہے۔

  • سسری ریور برج ، اروناچل پردیش (نومبر 2019)

تقریباً 5 گھنٹے بچائے گئے

اس 200 میٹر طویل سسری دریائے پل نے پاسی گھاٹ اور روئنگ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے کم کر دیا ہے، جس سے دیبانگ وادی اور سیانگ کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

سرنگیں: دشوار گزار علاقوں کو کاٹتے ہوئے  گھنٹوں کی بچت

سرنگیں بھارت کے بعض انتہائی دشوار گزار علاقوں سے گزرنے کے لیے مختصر ترین راستہ فراہم کر رہی ہیں۔ پہاڑوں، گھومتے بل کھاتے راستوں اور خطرے سے دوچار راستوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ سرنگیں سفر کا وقت کم کر رہی ہیں اور سفر کو مزید آسان اور بلا رکاوٹ بنا رہی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/Screenshot2026-10-05124109_20261005124229_a8aa17.png

  • اٹل ٹنل ، ہماچل پردیش (اکتوبر ، 2020)

5–4 گھنٹے کی بچت

یہ 9.02 کلومیٹر طویل سرنگ روہتانگ درّے کو بائی پاس کرتے ہوئے منالی–سرچو کے درمیان فاصلہ 46 کلومیٹر کم کر دیتی ہے اور لاہول اسپیتی کو ہر موسم میں رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

  • ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل ، جموں و کشمیر (اپریل 2017)

تقریباً 2 گھنٹے کی بچت

9 کلومیٹر طویل سرنگ دشوار گزار علاقے کو نظرانداز کرتے ہوئے سفر کی مسافت تقریباً 30 کلومیٹر کم کرتی ہے اور جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کا وقت تقریباً دو گھنٹے گھٹا دیتی ہے۔

  • بانیہال–قاضی گنڈ روڈ سرنگ، جموں و کشمیر (اپریل 2022)

1.5~  گھنٹے کی بچت

یہ8.45 کلومیٹر طویل دوہری سرنگ سڑک کی مسافت 16 کلومیٹر کم کرتی ہے اور سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گھٹا دیتی ہے۔

  • سیلا سرنگ، اروناچل پردیش (مارچ 2024)

مسافت کے وقت میں ایک گھنٹے سے زیادہ کی کمی

تقریباً 13,000 فٹ کی بلندی پر تعمیر کی گئی یہ سرنگ تزوپور-توانگ کے اہم اسٹریٹجک راستے پر ہر موسم میں آمدورفت کو یقینی بناتی ہے۔

ایکسپریس وے اور اقتصادی کوریڈور

ایکسپریس وے مختصر راستوں، محدود داخلے اور زیادہ رفتار کے ذریعے بین شہروں سفر کی رفتار بدل رہے ہیں۔ طویل سفر، جن میں پہلے کئی گھنٹے لگ جاتے تھے، اب نمایاں طور پر کم وقت میں سڑک کے ذریعے مکمل ہو رہے ہیں۔

  • دہلی–میرٹھ ایکسپریس وے (2021)

2.5 گھنٹے ¬ 50 منٹ

اس 82 کلومیٹر طویل منصوبے نے دہلی اور میرٹھ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ڈھائی گھنٹے سے گھٹا کر تقریباً 50 منٹ کر دیا ہے۔

  • بنگلورو–میسورو ایکسپریس وے (مارچ 2023)

3 گھنٹے ¬ 75 منٹ

اس118 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے نے بنگلورو اور میسورو کے درمیان سفر کا وقت تقریباً تین گھنٹے سے گھٹا کر تقریباً 75 منٹ کر دیا ہے۔

  • دہلی–دہرادون اقتصادی راہداری (اپریل 2026)

6 گھنٹے ¬ 2.5 گھنٹے

یہ213 کلومیٹر طویل محدود داخلہ والی راہداری دہلی اور دہرادون کے درمیان سفر کا وقت چھ گھنٹے سے زیادہ سے گھٹا کر تقریباً ڈھائی گھنٹے کر دیتی ہے۔

  • ممبئی–ناگپور سمردھی مہامارگ (دسمبر 2022)

16 گھنٹے ¬ تقریباً 8 گھنٹے

 اس701 کلومیٹر طویل محدود داخلہ والے ایکسپریس وے نے ممبئی اور ناگپور کے درمیان سفر کے وقت میں نمایاں کمی کی ہے۔

  • احمد آباد–دھولیرا ایکسپریس وے (مارچ 2026)

احمد آباد–دھولیرا: 100 کلومیٹر اور 2 گھنٹے 15 منٹ سے ¬ 83 کلومیٹر اور 45 منٹ

احمد آباد سے بھاؤنگر: 169 کلومیٹر اور 3 گھنٹے 15 منٹ سے ¬ 141 کلومیٹر اور 1 گھنٹہ 45 منٹ

یہ109 کلومیٹر طویل محدود داخلہ والی گرین فیلڈ ایکسپریس وے احمد آباد اور دھولیرا کے درمیان تیز رفتار رابطہ فراہم کرتا ہے۔

  • دہلی–امرتسر–کٹرہ ایکسپریس وے (مرحلہ1- جولائی 2026)

دہلی–امرتسر: 8 گھنٹے ¬ 4 گھنٹے

دہلی–کٹرہ: 14 گھنٹے ¬ 6 گھنٹے

یہ ایکسپریس وے شری ماتا ویشنو دیوی کے لیے یاتریوں اور سیاحوں کی آمدورفت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اس راہداری کے ساتھ صنعتی اور لاجسٹکٹس کے شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

  • دہلی–ممبئی ایکسپریس وے

33 گھنٹے ¬ تقریباً 12 گھنٹے

یہ گرین فیلڈ ایکسپریس وے دہلی اور ممبئی کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 33 گھنٹے سے گھٹا کر تقریباً 12 گھنٹے کرنے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261005124338_f7b908.jpg

ریلوے: تیز تر ٹرینیں، مختصر سفر

نئی جدید ترین ٹرینیں اور مخصوص تیز رفتار راہداریاں ریل سفر میں وقت کی نمایاں بچت کر رہی ہیں۔ 2026 کا ریلوے نظام الاوقات بھی اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت پورے ریلوے نیٹ ورک میں549 ٹرینوں کی رفتار بڑھائی گئی ہے۔ ان میں سے 20 ٹرینوں کے سفر کے وقت میں 60 منٹ یا اس سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔ مزید48 ٹرینوں کے سفر میں31 سے 59 منٹ اور 105 ٹرینوں کے سفر میں16 سے 30 منٹ کی بچت ہوئی ہے۔ باقی376 ٹرینوں کی رفتار بڑھا کر ان کے سفر کے وقت میں5 سے 15 منٹ کی کمی کی گئی ہے۔

نئی  جدید ترین ٹرینیں

  • وندے بھارت ایکسپریس، نئی دہلی–وارانسی (فروری 2019)

پہلے کی خدمات کے مقابلے میں 50–40 فیصد زیادہ تیز

بھارت کی پہلی وندے بھارت ایکسپریس15 فروری 2019 کو نئی دہلی–کانپور–پریاگ راج–وارانسی راہداری پر شروع کی گئی۔ نئی دہلی اور وارانسی کے درمیان مقررہ سفر کا وقت تقریباً آٹھ گھنٹے ہے، جو اس راستے پر پہلے چلنے والی ٹرینوں کے مقابلے میں تقریباً 50–40 فیصد کم ہے۔

  • وندے بھارت ایکسپریس، کٹرہ–سری نگر (جون 2025)

2 سے3 گھنٹے کی بچت

اس ٹرین نے کٹرہ–سری نگر کا سفر تقریباً تین گھنٹے میں ممکن بنادیا ہے۔ توسیع شدہ جموں–سری نگر سروس اب یہ سفر 4 گھنٹے 50 منٹ میں مکمل کرتی ہے۔

  • وندے بھارت ایکسپریس، بنارس–کھجوراہو (نومبر 2025)

~2 گھنٹے 40 منٹ کی بچت

یہ ٹرین پہلے چلنے والی خصوصی ٹرینوں کے مقابلے میں تقریباً 2 گھنٹے 40 منٹ کی بچت کرتی ہے۔

  • وندے بھارت ایکسپریس، ارناکولم–بنگلورو (نومبر 2025)

2 گھنٹے سے زیادہ کی بچت

یہ سروس  اس سفر کو 8 گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کرتی ہے، جس سے سفر کے وقت میں دو گھنٹے سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔

  • وندے بھارت ایکسپریس، لکھنؤ–سہارنپور (نومبر 2025)

تقریباً1 گھنٹے کی بچت

یہ ٹرین یہ سفر تقریباً 7 گھنٹے 45 منٹ میں مکمل کرتی ہے۔

  • وندے بھارت سلیپر، ہاوڑہ–گوہاٹی (جنوری 2026)

تقریباً 17 گھنٹے ¬ تقریباً 14 گھنٹے

بھارت کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین سَرائے گھاٹ ایکسپریس کے مقابلے میں تقریباً تین گھنٹے کی بچت کرتی ہے۔ اس میں تقریباً 823 مسافروں کے لیے ایئر کنڈیشنڈ کے 16 ڈبے ہیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/Screenshot2026-10-05124121_20261005124431_8d78cd.png

تیز رفتار ریل کوریڈور

  • ممبئی–احمد آباد تیز رفتار ریل راہداری

سڑک کے ذریعے 9–8 گھنٹے  ¬  تقریباً 1 گھنٹہ 58 منٹ

اس 508 کلومیٹر طویل راہداری پر ٹرینیں320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی اور اس میں12 اسٹیشن ہوں گے۔ اس میں بھارت کی پہلی زیر آب ریل سرنگ بھی شامل ہے، جو تھانے کریک کے نیچے تقریباً 7 کلومیٹر طویل ہوگی۔ پہلی سروس اگست 2027 میں شروع کرنے کا ہدف ہے۔

  • اعلان کردہ سات تیز رفتار ریل (ایچ ایس آر) کوریڈور

اہم شہروں کے درمیان سفر تقریباً 4–1 گھنٹے میں

مرکزی بجٹ 27–2026 میں اعلان کردہ ان راہداریوں کی مجموعی لمبائی تقریباً4,000 کلومیٹر ہے، جن پر تقریباً16 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

 

راہداری

سفر میں لگنے والا اندازاً وقت

دہلی – وارانسی

~ 3 گھنٹے 50 منٹ

وارانسی – پٹنہ- سلی گوڑی

~ 2گھنٹے 55 منٹ

چنئی – بنگلورو

~ 1 گھنٹہ 13 منٹ

بنگلورو– حیدرآباد

~ 2گھنٹے

چنئی –حیدر آباد

~ 2گھنٹے 55 منٹ

ممبئی- پونے

~ 48 منٹ

پونے- حیدر آباد

~ 1 گھنٹہ 55 منٹ

 

مسافروں اور آبادیوں کے سفر میں بچنے والے اوقات

بھارت کے نقل و حمل کے نیٹ ورک میں آنے والی تبدیلی اس بات کو بدل رہی ہے کہ لوگ اور علاقے ایک دوسرے سے کس طرح جڑتے ہیں۔ پل اور سرنگیں نئے راستے کھول رہی ہیں، جبکہ ایکسپریس وے اور جدید ریل خدمات طویل فاصلے کے سفر کا انداز بدل رہی ہیں۔ یہ تمام اقدامات مل کر آمدورفت کو مزید آسان بنا رہے ہیں اور مختلف علاقوں تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں۔

 

حوالہ جات

 

سڑک  ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت:

ریلوے کی وزارت:

وزیر اعظم کا دفتر:

پریس انفارمیشن بیورو:

وزارت خزانہ:

وزارت دفاع:

حکومت مہاراشٹر:

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

***

) ش ح ۔ ض ر۔ش ت)

U.No. 4639


(ریلیز آئی ڈی: 2319195) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali , Tamil