پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے توانائی کے شعبہ کی لچک پذیری، عالمی قیمتوں کے نشیب و فراز سے گھریلو صارفین کو تحفظ دینے اور‘سمندر منتھن’ و ‘جی او بی اے آرڈی ایچ اے این-‘گوبردھن’ کے تحت اَپ اسٹریم سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کو سراہا


پی این جی آر بی نے اپنی 20ویں یوم تاسیس منائی،  ہندوستان کو گیس پر مبنی معیشت کی جانب تیزی سے منتقل کرنے کے لیے نیشنل پی این جی ڈرائیو 3.0 اور ‘ مائی پی این جی پورٹل’کا آغاز

نیشنل پی این جی ڈرائیو 3.0 اور صارفین کے لیے یکساں ڈجیٹل پورٹل‘ مائی پی این جی پورٹل’ کا باضابطہ رسائی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیےآغاز

پی این جی آر بی ایکسی لینس ایوارڈز-2026، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سی جی ڈی اور پائپ لائن آپریٹروں کو پیش کیے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 8:29PM by PIB Delhi

پیٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ(پی این جی آر بی) نے آج نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں اپنی20ویں یومِ تاسیس منائی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس جناب ہردیپ سنگھ پوری کے ساتھ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل، حکومت کے سینئر افسران اور صنعت کے اہم رہنما بھی موجود تھے۔ ضابطہ جاتی قیادت کے دو دہائیاں مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اس تقریب میں صارفین کو بااختیار بنانے، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ڈجیٹل تبدیلی، تحفظ کو یقینی بنانے اور شعبے کی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اہم اقدامات اور اہم آغاز

نیشنل پی این جی ڈرائیو 3.0: پی این جی ڈرائیو 1.0 اور 2.0 کی کامیابی کی بنیاد پر پی این جی آر بی نے ملک بھر کے گھریلو اور تجارتی شعبوں میں پائپ کے ذریعے قدرتی گیس(پی این جی) کے کنکشنز میں تیزی لانے کے لیے نیشنل پی این جی ڈرائیو 3.0 کا آغاز کیا۔

مائی پی این جی پورٹل: پی این جی خدمات کو سہل بنانے، معلومات تک رسائی بہتر کرنے اور صارفین اور سٹی گیس ڈسٹری بیوشن(سی جی ڈی) اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک متحد قومی ڈجیٹل صارف پورٹل‘ مائی پی این جی پورٹل’ کا آغاز کیا گیا۔

پی این جی آر بی ایکسی لینس ایوارڈز - 2026: سی جی ڈی نیٹ ورکس، قدرتی گیس پائپ لائنوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی پائپ لائنوں کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو آپریشنل عمدگی، تحفظ کے معیارات اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔

بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور اپ اسٹریم سرمایہ کاری کے ذریعے ہندوستان کی توانائی لچک پذیری کو مضبوط بنانے کی کوشش

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس نے عالمی توانائی کی منڈی میں نشیب و فراز کے باوجود اس صورتحال سے نمٹنے میں  ہندوستان کی لچک پذیری اور ملک کو گیس پر مبنی معیشت کی جانب منتقل کرنے کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی منڈی میں  نشیب و فراز اور بین الاقوامی قیمتوں میں 70 سے 80 فیصد تک اضافے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں حکمت عملی کے تحت کی گئی کمی نے گھریلو ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور  ہندوستانی صارفین کو عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے میں مدد کی۔

توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزیر موصوف نے اہم پالیسی فیصلوں کو اجاگر کیا، جن میں ‘سمندر منتھن’اسکیم کے تحت 84,084 کروڑ روپے اور‘جی او بی اے آر ڈی ایچ اے این’کے لیے 23,731 کروڑ روپے کی تخصیص شامل ہے۔ پہلے سے محدود رکھے گئے 10 لاکھ مربع کلومیٹر کے تلچھٹی بیسنز کو تلاش کے لیے کھولنے سے ملک میں ہائیڈروکاربن کی تلاش اور قدرتی گیس کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر موصوف نے گیس کی تقسیم کے نظام میں تیزی سے ہونے والی توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ اب تقریباً پورے ملک کو سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کے لیے مجاز قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 35,000 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائنوں کو بھی منظوری دی جا چکی ہے۔ یونیفائیڈ ٹیرف فریم ورک نے علاقائی تفاوت کو کم کرنے اور دور دراز اور گیس کی سہولت سے محروم علاقوں تک گیس کی رسائی بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔ ایل پی جی کنکشن کی کوریج بھی 2014 میں 14.5 کروڑ سے بڑھ کر 33 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

بنیادی توانائی کے ذرائع میں قدرتی گیس کے موجودہ تقریباً 6 فیصد حصے کو بڑھانے کے ملک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 سے پیدا ہونے والی رفتار کا بھی ذکر کیا۔ جنوری سے جون 2026 تک چھ ماہ کی اس مہم کے دوران تقریباً 12.10 لاکھ نئے پی این جی کنکشن فراہم کیے گئے اور 15.31 لاکھ ڈی پی این جی رجسٹریشنز کی گئیں۔ روزانہ نئے ڈی پی این جی کنکشنز کے اضافے کی رفتار 4,702 سے بڑھ کر تقریباً 7,000 ہو گئی، جبکہ اسی مدت کے دوران بل والے صارفین کی روزانہ تعداد میں تقریباً 2,781 سے بڑھ کر تقریباً 7,500 کا اضافہ ہوا۔

مغربی ایشیا کے بحران کے دوران حکومت نے ضروری گیس کی فراہمی کا تسلسل یقینی بنایا، جبکہ سی جی ڈی شعبے نے پی این جی کے استعمال کو مزید فروغ دینے اور ریاستوں و دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تال میل کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے سکریٹری نے مختلف شعبوں میں گیس کے حقیقی استعمال کو فروغ دینے میں ضابطہ کاری کے بدلتے ہوئے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کامیابی کا اندازہ صرف بچھائی گئی پائپ لائن کی لمبائی سے نہیں، بلکہ گیس کے حقیقی استعمال، گیس کی دستیاب مقدار کے مؤثر استعمال اور گھریلو پی این جی کنکشنز میں اضافے کی رفتار سے بھی لگایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سی جی ڈی اداروں پر زور دیا کہ وہ خصوصی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاگت کی وصولی کی مدت کو 10–15 سال سے کم کرکے 2–3 سال تک لائیں، جس سے نیٹ ورک کی توسیع میں حائل بڑی مالی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بلاتعطل صاف توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپ اسٹریم، ڈاؤن اسٹریم، تیل کی سرکاری کمپنیوں اور حکومت کے درمیان تال میل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزیر موصوف نے نیشنل ہائیڈروکاربن انفراسٹرکچر مانیٹرنگ سسٹم(این ایچ آئی ایم ایس) کے ذریعے پی این جی آر بی کے ٹیکنالوجی پر مبنی ضابطہ کاری کے طریقۂ کار کو بھی اجاگر کیا۔ یہ نظام بنیادی ڈھانچے، انتظامی، نقل و حمل، جغرافیائی اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو ایک مشترکہ ڈجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ نظام نگرانی، منصوبہ بندی اور ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ زیادہ باخبر اور بروقت فیصلہ کرنے میں بھی مدد دے گا۔

مستقبل کے حوالہ سے وزیر موصوف نے تیز رفتار اور مؤثر ڈجیٹل شکایات کے ازالے، نئے علاقوں تک سی جی ڈی نیٹ ورکس کی بروقت توسیع، صحت مند مسابقت، شعبے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے اور ایسے ضابطہ جاتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جو  ہندوستان کے پائیداری اور نیٹ زیرو اہداف کے مطابق ہو۔ انتظامی اور تجارتی مفادات سے آزاد اور فاصلے پر پی این جی آر بی کی مسلسل خودمختار حیثیت کے ساتھ ساتھ واضح، شفاف اور قابل پیش گوئی ضابطہ جاتی فریم ورک صنعت کے تمام فریقوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے اہم رہے گا۔

وزیر موصوف نے دو دہائیاں مکمل کرنے پر پی این جی آر بی کو مبارکباد دی اور اس کی قیادت، افسران اور پوری قدرتی گیس صنعت کے لیے آنے والے برسوں میں مسلسل پیش رفت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/WhatsAppImage2026-10-01at11.09.55PM_20261001231116_024774.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/WhatsAppImage2026-10-01at8.08.45PM(1)_20261001203201_655747.jpeg

 

*****

(ش ح –ظ الف- ش ہ ب)

UR No. 4626


(ریلیز آئی ڈی: 2319067) وزیٹر کاؤنٹر : 6