نیتی آیوگ
پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کنکلیو میں جناب راجیو گوبا نے ہلکے اور خطرے کے تناسب پر مبنی ضابطہ کاری کی جانب منتقلی پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 OCT 2026 8:43PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا نے پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کنکلیو کے تحت ’’خلل انگیزی کے دور میں ضابطہ جاتی نگرانی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیائی سیاسی، تکنیکی اور اقتصادی ماحول کے ساتھ ضابطہ جاتی نظام میں بھی ارتقا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج ضابطہ کاری اور ترقی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا نہیں، بلکہ ایسے ضوابط وضع کرنا ہے جو اختراع، مسابقت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرسکیں۔
پس منظر واضح کرتے ہوئے جناب گوبا نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتِ حال، تجارتی راستوں اور عالمی رسدی زنجیروں میں خلل، نیز محصولات، برآمدی پابندیوں اور سرمایہ کاری کی قدغنوں کا تزویراتی ذرائع کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال اقتصادی منظرنامے کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تکنیکی تبدیلی کی رفتار بہت سے اداروں اور ضابطہ جاتی نظام کی مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ ہے، بالخصوص مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں جیسے شعبوں میں۔
انہوں نے جدید کاروباری ماڈلوں کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی اجاگر کیا، جو اب متعدد شعبوں اور ٹیکنالوجیوں تک پھیلتے جا رہے ہیں۔ صنعتوں کے درمیان روایتی حدود کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے انہوں نے زور دیا کہ ضابطہ جاتی نظام کو باہم مربوط خطرات سے نمٹنے کے لیے ارتقا پذیر ہونا چاہیے، تاہم اس عمل میں ایسی منتشر یا باہم متصادم ذمہ داریاں عائد نہیں ہونی چاہئیں۔
جناب گوبا نے اس بات پر زور دیا کہ گرچہ تحفظ، صارفین کے مفادات کے تحفظ، منڈی کی سالمیت اور نظامی استحکام کے لیے ضابطہ کاری ضروری ہے، لیکن حد سے زیادہ یا ناقص طور پر وضع کیے گئے ضوابط اختراع، مسابقت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مسابقتی صلاحیت کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچے، محنت سے متعلق قوانین اور مراعات پر نہیں، بلکہ ضابطہ جاتی ماحول کی وضاحت، یکسانیت اور پیش بینی پر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی سرمایہ کاری پر غور کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے اور یقینی صورتِ حال میں اختراع کرنے کی صلاحیت بتدریج ایک اہم عنصر بنتی جا رہی ہے۔
متناسب طریقۂ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب گوبا نے کہا کہ ضابطہ جاتی تقاضوں کو متعلقہ خطرات کی نوعیت اور ان کے ممکنہ نتائج کے مطابق متعین کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اور تیزی سے ترقی پذیر شعبوں میں مداخلت سے قبل ضابطہ کاروں کو احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے کہ آیا نئے قواعد وضع کرنا واقعی ضروری ہے یا نہیں، اور ہر ممکنہ ناکامی کے لیے پہلے سے حل تجویز کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ضابطہ جاتی خودمختاری کے ساتھ جواب دہی بھی لازم و ملزوم ہونی چاہیے۔ اگرچہ ضابطہ کاروں کو غیر ضروری اثر و رسوخ سے آزاد ہوکر مشکل فیصلے کرنے کے لیے خودمختاری درکار ہوتی ہے، تاہم عوامی اعتماد کے لیے فیصلہ سازی میں شفافیت، واضح طریقۂ کار، مؤثر نظرثانی کے نظام اور ضابطہ کاری کی کارکردگی کے لیے جواب دہی ضروری ہے۔
جناب گوبا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مؤثر ضابطہ کاری کا انحصار ریاست کی صلاحیت پر ہے۔ منڈیوں اور ٹیکنالوجیوں کے مزید پیچیدہ ہونے کے ساتھ ضابطہ کاروں کو خصوصی مہارت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجزیاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، خصوصی مہارت رکھنے والی افرادی قوت کو راغب کرنا اور صنعت، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کے اداروں کے ساتھ منظم روابط استوار کرنا ضابطہ جاتی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہوگا۔
انہوں نے کاروباری اداروں کے روایتی ضابطہ جاتی شعبوں سے باہر بھی بڑھتے ہوئے دائرۂ کار کے پیش نظر باہم مربوط ضابطہ کاروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا، تاکہ اختیارات کے باہمی تقابل سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے، دوہرے ضابطہ کار سے بچا جا سکے اور ضابطہ جاتی خلا کو پُر کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مقصد ایسی ریاست کا قیام ہونا چاہیے جو ’’زیادہ خطرات کی صورت میں سخت اور کم خطرات کی صورت میں ہلکی پھلکی ضابطہ کاری‘‘ اختیار کرے، تاہم دونوں صورتوں میں اس کا طریقۂ کار قابلِ پیش گوئی ہو۔ اسے ہندوستان کی ترقی کی سمت سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے لیے درکار بلند شرحِ نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ہلکی پھلکی ضابطہ کاری کی جانب فیصلہ کن منتقلی ضروری ہوگی، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے طرزِ حکمرانی کے فلسفے اعتماد پر مبنی حکمرانی یا جن وشواس سے ہم آہنگ ہے۔

******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4606
(ریلیز آئی ڈی: 2318879)
وزیٹر کاؤنٹر : 4