الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بھارت میں پہلی بار 5.56 کلومیٹر طویل فری اسپیس کوانٹم کے ڈسٹری بیوشن لنک کا کامیاب مظاہرہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 OCT 2026 4:44PM by PIB Delhi
کیو این یو لیبس نے بھاسکر آچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو-انفارمیٹکس ( بی آئی ایس اے جی – این ) اور آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے تعاون سے 5.56 کلومیٹر کے فاصلے پر بھارت کے پہلے فری اسپیس کوانٹم کے ڈسٹری بیوشن ( کیو کے ڈی ) لنک کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔
27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب کیے گئے فیلڈ ٹرائل کے دوران بی آئی ایس اے جی – این اور آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے درمیان ایک محفوظ کوانٹم مواصلاتی چینل قائم کیا گیا۔ کیو این یو لیبس کے پوائنٹنگ، ایکوزیشن اینڈ ٹریکنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے ، اس ٹرائل میں کوانٹم بِٹ ایرر ریٹ 5 فی صد سے کم کی مستحکم سطح پر برقرار رہا اور 230 سے 260 بی پی ایس کی رفتار سے محفوظ کیز تیار کی گئیں۔ ان کیز کو بی آئی ایس اے جی – این کے پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی سے لیس ویدک کوَچ پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا گیا، جس سے آزمائشی پیغامات کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن اور ڈیکرپشن کامیابی کے ساتھ انجام دی گئی۔
اس مظاہرے میں کوانٹم سکیورٹی کی دو تکمیلی سطحوں کو یکجا کیا گیا: فری اسپیس آپٹیکل چینلز پر کیو این یو لیبس کا ہارڈویئر پر مبنی کیو کے ڈی ڈیوائس ’آرموس‘ اور بی آئی ایس اے جی – این کی سافٹ ویئر پر مبنی پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی، جس میں کوانٹم رینڈم نمبر جنریشن بھی شامل ہے۔ یہ مربوط نظام ، اس وقت بھی مضبوط سکیورٹی فراہم کرتا ہے ، جب فزیکل کوانٹم چینل عارضی طور پر دستیاب نہ ہو۔
بی آئی ایس اے جی – این کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ونے ٹھاکر نے کہا کہ ویدک کوَچ کو کیو این یو لیبس کی کیو کے ڈی ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرنا عملی طور پر کوانٹم مزاحم مواصلاتی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
کیو این یو لیبس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنیل گپتا نے کہا کہ 5.56 کلومیٹر کے کامیاب مظاہرے سے طویل فاصلے تک محفوظ کوانٹم نیٹ ورکس اور سیٹلائٹ پر مبنی کوانٹم مواصلات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے آئی ایس ٹی ایف کے انچارج کموڈور منیش ترپاٹھی (ریٹائرڈ) نے کہا کہ یہ مظاہرہ عملی کوانٹم مواصلاتی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مفید فیلڈ ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ابھرتی ہوئی محفوظ مواصلاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعلیمی شعبے، مقامی ٹیکنالوجی اور حقیقی ماحول میں کیے جانے والے تجربات کو کس طرح یکجا کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹرائل محفوظ مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بھارت کی صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھانے اور کوانٹم دور میں ابھرنے والے سکیورٹی خطرات کے خلاف مضبوطی بڑھانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
بی آئی ایس اے جی – این کے بارے میں:
ایم ای آئی ٹی وائی کے تحت کام کرنے والی ایک خودمختار سائنسی سوسائٹی بی آئی ایس اے جی – این خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال، سیٹلائٹ مواصلات اور جیو-انفارمیٹکس کے شعبوں میں کام کرتی ہے اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔
آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے بارے میں:
2008 ء میں قائم کیا گیا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گاندھی نگر ( آئی آئی ٹی جی این ) انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی، ہیومینٹیز اور سماجی علوم میں بہترین کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔ یہ ادارہ بین شعبہ جاتی تحقیق، اختراعی تعلیم اور حقیقی دنیا کے چیلنجز کے حل کو فروغ دیتا ہے۔
کیو این یو لیبس کے بارے میں:
2016 ء میں قائم کیو این یو لیبس کوانٹم سکیور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں بھارت کی اولین کمپنی ہے۔ یہ کمپنی خودمختار مصنوعات اور حل فراہم کرتی ہے، جنہیں دنیا بھر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )
U.No. 4584
(ریلیز آئی ڈی: 2318701)
وزیٹر کاؤنٹر : 12