ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 مرکزی وزیر ماحولیات اور مغربی بنگال کے  وزیراعلیٰ نے شیروں کے بحالی پروگرام کے تحت بکسہ ٹائیگر ریزرو میں پہلی مادہ ٹائیگر کو چھوڑا


 سائنسی رہنمائی کے اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت سے قدرتی بازآبادکاری  کی تکمیل پر توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 OCT 2026 1:14PM by PIB Delhi

ہندوستان میں ٹائیگر کے تحفظ کی سمت میں اہم پیش رفت کے طور پر آج مغربی بنگال کے بکسہ ٹائیگر ریزرو میں ایک مادہ ٹائیگر کو چھوڑا گیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو اور مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ جناب سوبھندو ادھیکاری موجود تھے۔ یہ قدم ہندوستان میں وائلڈ لائف ویک 2026 کے آغاز کے موقع پر اٹھایا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی بکسہ ٹائیگر ریزرو میں مرحلہ وار شروں کی بحالی کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد اس تاریخی طور پر اہم ٹائیگر ریزرو  میں ٹائیگر کی ایک  معتد بہ اور از خود پنپنے والی آبادی کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔

مادہ ٹائیگر کو چھوڑے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی لینڈ اسکیپ کنزرویشن اور انواع کے تحفظ پر خصوصی توجہ سے تحریک لیتے ہوئے آج بکسہ ریزرو زون میں ٹائیگر کو دوبارہ آباد کرنے کا اہم وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے اس کامیاب باز آبادکاری میں تعاون کے لیے بہار کے وزیراعلیٰ جناب سمراٹ چودھری اور مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ جناب سوبھندو ادھیکاری کا شکریہ ادا کیا۔

 

 

بکسہ شمالی بنگال میں تاریخی طور پر ٹائیگر کا ایک اہم خطہ رہا ہے۔ اسے 1983 میں ٹائیگر ریزرو قرار دیا گیا تھا۔ یہ بڑے ماحولیاتی خطے کا حصہ ہے، جو بھوٹان اور آسام کے جنگلات اور محفوظ علاقوں سے گھرا ہوا ہے۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آماجگاہوں کی خرابی اور ان کی تقسیم، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور خوراک کے لیے شکار کی دستیابی میں کمی سے ٹائیگر کی مستقل آبادی کے لیے ضروری ماحولیاتی حالات  متاثر ہوئے۔ اس کے نتیجے میں  ٹائیگرریزرو میں طویل عرصے تک ٹائیگر کی مستحکم آبادی موجود نہیں رہ سکی۔

بکسہ ٹائیگر ریزرو کی بحالی مسلسل اور سائنسی بنیاد پر کی جانے والی کوشش کا نتیجہ ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت نے نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کے تعاون سے 2018 میں ٹائیگر افزائش و بازآبادکاری پروجیکٹ شروع کیا، جس پر مشترکہ طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت آماجگاہوں میں بہتری، شکار کی بنیاد مضبوط کرنے، تحفظ اور نگرانی کا نظام مستحکم کرنے، سائنسی جائزے اور صلاحیت سازی کے ذریعے ٹائیگر کی بحالی کے لیے ضروری ماحولیاتی بنیاد تیار کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ خوراک کے لیے شکار کی دستیابی بڑھانے کے واسطے  800 سے زیادہ چیتل چھوڑے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران تقریباً 380 ہیکٹر گھاس کے میدان بحال یا تیار کیے گئے ہیں۔ سائنسی نگرانی سے شکار کی دستیابی میں مثبت رجحان کی نشاندہی ہوئی ہے۔

طویل مدتی نگرانی سے اس خطے میں چیتے کی نقل و حرکت کے بھی شواہد ملے ہیں۔ کیمرہ ٹریپس میں 2021، 2023 اور 2026 میں ٹائیگر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر 2023 میں کیمرے میں قید ایک ٹائیگر کی شناخت آسام کے مانس ٹائیگر ریزرو کے ایک ٹائیگر کے طور پر ہوئی، جس سے ملحقہ ٹائیگر  ریزرو  کے درمیان ٹائیگر کی قدرتی نقل و حرکت کا ثبوت ملا۔ موجودہ بحالی پروگرام کا مقصد منصوبہ بند اور سائنسی رہنمائی کے اقدامات کے ذریعے قدرتی بازآبادکاری کے عمل کو مزید تقویت دینا ہے۔

آج مادہ ٹائیگر کو چھوڑا جانا  اسی منصوبہ بند، مرحلہ وار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے بحالی پروگرام کے پہلے مرحلے کی علامت ہے۔ مادہ ٹائیگر کو بہار کے والمیکی ٹائیگر ریزرو سے منتقل کیا گیا ہے۔ یہ منتقلی ماحولیاتی، طبی اور انتظامی پہلوؤں کے جائزے اور مقررہ ضوابط کے مطابق کی گئی ہے۔ مادہ ٹائیگر کو چھوڑے جانے کے بعد ٹیلی میٹری، کیمرہ  ٹریپ اور فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے اس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی، جس سے اس کی نقل و حرکت، ماحول سے موافقت، صحت اور طرز سلوک کا جائزہ لیا جا سکے گا۔

یہ پروگرام محض بکسہ ٹائیگر ریزرو میں چیتے کو واپس لانے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں ٹائیگر کی آبادی بحال ہو، نسل کی افزائش ہو اور بالآخر ایک مستحکم اور خود پنپنے والی آبادی میں تبدیل ہو سکے۔ سائنسی لحاظ سے  ضرورت محسوس ہونے پر آماجگاہ اور شکار کی دستیابی، تحفظ کی تیاری، آبادی کے استحکام، نگرانی کے نتائج اور ماہرین کے مشورے کی بنیاد پر مزید ٹائیگر مرحلہ وار چھوڑے جائیں گے۔

مقامی برادری کی شراکت بھی اس بازآبادکاری کی کوشش کا اہم حصہ ہے۔ پروگرام کے تحت 64 ایکو ڈیولپمنٹ کمیٹیوں اور جوائنٹ فارسٹ مینجمنٹ کمیٹیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں مقامی برادری کے ساتھ بات چیت، روزگار کے مواقع، انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کو کم کرنے اور تحفظ سے وابستہ فوائد پر زور دیا گیا ہے۔ ٹائیگر کی بحالی کے ساتھ مقامی برادری کی مسلسل شمولیت اور انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان بقائے باہمی کے مؤثر بندوبست پروگرام کا لازمی حصہ رہیں گے۔

بکسہ میں ٹائیگر کی بحالی بڑے ماحولیاتی خطے کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ شمالی بنگال، آسام اور بھوٹان کے ساتھ اس کے ماحولیاتی روابط جنگلی جانوروں کو وسیع اور مربوط خطے میں نقل و حرکت اور پھیلاؤ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ بکسہ کو مستحکم بنانے سے نہ صرف ٹائیگر کے تحفظ بلکہ جنگلات، سبزمیدانوں، شکار کی انواع اور مجموعی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

آج کی مادہ ٹائیگر کی منتقلی بکسہ  ٹائیگر ریزرو کے تحفظ کے سفر میں نئے باب کا آغاز ہے۔ کامیابی کا پیمانہ چھوڑے گئے چیتے کی تعداد نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ایک صحت مند، آزادانہ طور پر گھومنے والی اور خود پنپنے والی ٹائیگر آبادی کو بحال کرناہوگا، جسے محفوظ آماجگاہ، مناسب شکار، مؤثر تحفظ، ماحولیاتی رابطوں، سائنسی نگرانی اور مقامی برادری کی بامعنی شمولیت حاصل ہو۔

***

ش ح ۔   م ش ع  ۔  م  ص

U : 4520


(ریلیز آئی ڈی: 2318191) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Malayalam