کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے امریکہ کے شہر ملواکی میں جی-20 وزرائے تجارت کے اجلاس کے افتتاحی دن شرکت کی


جناب پیوش گوئل نے بھارت کی غذائی تحفظ کی کوششوں کو اجاگر کیا اور اصولوں پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کے تئیں عزم کا اعادہ کیا

جی-20 وزرائے تجارت نے جبری تجارتی اقدامات کے ذریعے خوراک کوآلہ کا ر کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق بیان پر اتفاق رائے قائم کیا

جناب پیوش گوئل نے جی-20 وزرائے تجارت کے اجلاس کے موقع پر اہم جی-20 شراکت داروں کے وزرائے تجارت اور نمائندوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 7:59PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے امریکہ کی جی-20 صدارت کے تحت وسکونسن کے شہر ملواکی میں منعقدہ جی-20 وزرائے تجارت کے اجلاس کے افتتاحی دن شرکت کی۔

خوراک اور تجارت سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب گوئل نے مذاکرات کے مرکز میں خوراک کے موضوع کو رکھنے پر صدارت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور کسانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا بھارت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ ہے، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ خوراک کو کبھی بھی کسی ملک کے خلاف دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 'گلوبل ساؤتھ' (ترقی پذیر ممالک) کے ممالک عالمی تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوراک، ایندھن اور کھاد کے بحرانوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ آج کھاد کی قلت کل غذائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران، بھارت نے 1.4 ارب سے زائد شہریوں کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا اور ضرورت مند کئی ممالک کو اناج فراہم کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت میں اس وقت 800 ملین سے زائد لوگوں کو مفت اناج فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت عوامی سطح پر ذخیرہ اندوزی (پبلک اسٹاک ہولڈنگ) کا نظام برقرار رکھتا ہے، چھوٹے اور پسماندہ کسانوں سے پیداوار خریدتا ہے، اور فصل کی کمی کی صورت میں خوراک کی دستیابی اور اسے مناسب قیمت پر فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لیے عارضی اور شفاف اقدامات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کو ڈبلیو ٹی او کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، بشمول 'بالی وزارتی فیصلے' اور 'جنیوا وزارتی اعلامیے' کے ذریعے۔ انہوں نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور جبری تجارتی اقدامات کے درمیان واضح فرق کرنے پر زور دیا۔ جناب گوئل نے موجودہ میکانزم کا بھی ذکر کیا، جن میں 2011 میں قائم کردہ 'جی-20 زرعی منڈی کے بارے میں معلومات کا نظام'اور ڈبلیو ٹی او کی 12ویں وزارتی کانفرنس میں منظور شدہ 'ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے کی جانے والی خریداریوں کو برآمدی پابندیوں سے استثنیٰ' شامل ہیں۔ انہوں نے اصولوں پر مبنی، منصفانہ، غیر امتیازی، مساوی، شفاف، کھلے، سب کو شامل کرنے والے اور کثیر الجہتی تجارتی نظام کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا مرکزی محور ڈبلیو ٹی او ہے۔

وزراء نے 'تجارتی دباؤ کے اقدامات کے ذریعے خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق جی-20 کا بیان' نامی حتمی دستاویز پر اتفاق رائے قائم کیا اور اس موضوع پر تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

اس سے قبل دن میں، جناب گوئل نے جی-20 کے وزرائے تجارت اور امریکہ کے تجارتی نمائندےسفیر جیمیسن گریر کے ہمراہ میکون، وسکونسن میں واقع 'راک ویل آٹومیشن' کے دفتر اور فیکٹری کا دورہ کیا۔

اجلاس کے دوران ضمنی مصروفیات کے طور پر، جناب گوئل نے برازیل کے وزیر برائے ترقی، صنعت، تجارت و خدمات اور وزیر خارجہ؛ امریکہ کے تجارتی نمائندے؛ تجارت اور اقتصادی تحفظ کے یورپی کمشنر؛ برطانیہ کے سیکریٹری برائے کاروبار، جدت طرازی، سائنس و تجارت اور صدرِ بورڈ آف ٹریڈ؛ میکسیکو کے سیکریٹری برائے اقتصادیات؛ اور جمہوریہ پولینڈ کے وزیر خزانہ و اقتصادیات کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔

وزیر موصوف نے ملواکی آرٹ میوزیم میں سفیر گریر اور امریکی محکمہ زراعت کے سیکریٹری رولنز کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ عشائیے میں بھی شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261001200457_96cd56.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261001200514_6e955b.jpg

****

ش ح ۔ ال ۔ع ر

UR-4493


(ریلیز آئی ڈی: 2318012) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati