وزارت دفاع
آپریشن درشٹی: مسلح افواج کے طبی خدمات کے شعبے نے کشمیر میں آنکھوں کے آپریشن کے دو بڑے اور اہم کیمپوں کا اہتمام کیا
تنگ دھار اور سری نگر میں آنکھوں کی روشنی بحال کرنے کے لیے آپریشن کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 SEP 2026 8:13PM by PIB Delhi
آپریشن درشٹی کے تحت آنکھوں کے آپریشن کا 11واں بڑا کیمپ 30 ستمبر 2026 کو 92 بیس ہسپتال، سری نگر میں اختتام پذیر ہوا، جس کے ساتھ ہی اس مہم کا کشمیر کا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ تنگدھار اور سری نگر میں منعقدہ دو بڑے آنکھوں کے کیمپوں کے دوران، آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل) (اے ایچ آر آر) کی سرجیکل ٹیم نے، بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا کی قیادت میں، آنکھوں کے 364 آپریشن کیے، جن میں سفید موتیا، کالا موتیا (، ناخونہ اور پردۂ چشم کے آپریشن شامل ہیں۔
آپریشن کے ان کیمپس سے چند ہفتے قبل، 92 بنیادی ہسپتال اور 328 فیلڈ ہسپتال کی ٹیموں نے وادیٔ کشمیر کے دور دراز اور سرحدی علاقوں بشمول تنگدھار، داور، ماچھل، اوڑی، بارہمولہ، بانڈی پورہ، کھنہ بل اور کنگن میں آنکھوں کی جانچ کے 18 کیمپ لگائے۔ ان کیمپس میں تقریباً 6,000 لوگوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے قریب 500 مریضوں کی ایسے شناخت کی گئی جنہیں آپریشن کی ضرورت تھی۔ بعد ازاں، ان مستفید ہونے والے مریضوں کا 'آپریشن درشٹی' کے تحت دو مرحلوں میں علاج کیا گیا۔
پہلا مرحلہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ واقع حساس سیکٹر، تنگدھار میں منعقد کیا گیا۔ 24 سے 25 ستمبر 2026 تک لگائے گئے اس کیمپ نے ایل او سی پر ایک زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں منعقد ہونے والے اب تک کے پہلے میگا آئی سرجیکل کیمپ کے طور پر ایک تاریخ رقم کی۔ سرجیکل ٹیم نے دو دنوں کے دوران بینائی بحال کرنے والے 220 آپریشن کامیابی کے ساتھ کیے، جو دور دراز اور آپریشنل لحاظ سے مشکل مقامات پر بھی آنکھوں کا جدید ترین علاج فراہم کرنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسرا مرحلہ 28 سے 29 ستمبر 2026 تک 92 بنیادی ہسپتال، سری نگر میں منعقد کیا گیا، جہاں 144 مریضوں کی آنکھوں کے آپریشن کیے گئے۔ شدید دھندلی یا کمزور بینائی والے کئی مریضوں کی بینائی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جبکہ کچھ مریضوں نے اگلے ہی دن صاف دیکھنا شروع کر دیا۔ سفید موتیا کے آپریشن کے علاوہ، اس کیمپ میں ماہرانہ اور پیچیدہ علاج بھی فراہم کیے گئے جن میں گلوڈ آئی او ایل امپلانٹیشن، کالا موتیا کی سرجری، ناخونہ کا خاتمہ اور شوگر کے مریضوں کے لیے پردۂ چشم کا علاج شامل ہیں۔

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر، جناب منوج سنہا نے اختتامی تقریب کو رونق بخشی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وادیٔ کشمیر کے عوام کے لیے آنکھوں کے ڈاکٹروں کی ٹیم کی لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور ہمدردانہ خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر 15 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ کے ساتھ دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
اس مہم نے آنکھوں کے جدید اور ماہرانہ علاج کو ان لوگوں کے قریب پہنچا دیا جنہیں بصورتِ دیگر اس قسم کے خصوصی علاج کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا۔ اپنے کشمیر کے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے ساتھ، 'آپریشن درشٹی' اب ملک کے شمالی، مغربی، مشرقی اور وسطی خطوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس مہم کا اگلا مرحلہ اوڈیشہ میں منعقد ہونا طے پایا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4398
(ریلیز آئی ڈی: 2317353)
وزیٹر کاؤنٹر : 6