الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن اورسی اے جی نے سرکاری دستاویزات کے مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر لسانی ترجمے کے لیے ’سی اے جی-بھاشنی انوواد‘ کا آغاز کیا


اس اشتراک سے ادارہ جاتی ترجمے کے عمل میں لسانی مصنوعی ذہانت شامل ہوگی، جبکہ ہندی پکھواڑہ کی سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے زبان سے متعلق مشغولیت کو فروغ دیا جائے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 4:19PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی)کے ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کے تحت کام کرنے والے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے آج ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے دفتر کے اشتراک سے ’سی اے جی-بھاشنی انوواد‘ کا آغاز کیا۔ یہ بھاشنی کے ذریعے تیار کیا گیا مصنوعی ذہانت سے لیس دستاویز ترجمہ حل ہے، جس کا مقصد سی اے جی کی سرکاری دستاویزات اور آڈٹ سے متعلق رپورٹس کے ترجمے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کا آغاز نئی دہلی میں واقع سی اے جی دفتر میں 74ویں ہندی دیوس اور ہندی پکھواڑہ 2026 کی اختتامی تقریب کے دوران کیا گیا۔

اس تقریب میں ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) جناب کے. سنجے مورتی کے علاوہ سی اے جی کے اعلیٰ عہدیداروں، جن میں، ڈپٹی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل جناب اے. ایم. بجاج، ایڈیشنل ڈپٹی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ڈاکٹر نیلوتپل گوسوامی اور ڈائریکٹر جنرل جناب اتوروا سنہا شامل ہیں، نیز دیگر عہدیداران اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔

اس کا آغاز ادارہ جاتی کام کے طریقہ کار میں لسانی مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت بھاشنی کی کثیر لسانی لسانی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو سی اے جی کی مخصوص لسانی ضروریات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اور آڈٹ سے متعلق دستاویزات کے ترجمے میں معاونت فراہم کرنا ہے، جبکہ موجودہ ادارہ جاتی طریقہ کار کو برقرار رکھنے کے ساتھ مناسب انسانی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے گی۔

’ سی اے جی-بھاشنی انوواد‘ کو سی اے جی کے لیے ایک خصوصی لسانی مصنوعی ذہانت کے حل کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس میں اصطلاحات میں یکسانیت، سیاق و سباق کے مطابق ترجمہ اور ترجمے کے معیار پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ حل سرکاری دستاویزات کے ترجمے کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس ماحول فراہم کرتا ہے، جبکہ سلامتی، محدود رسائی اور ڈیٹا کی خودمختاری سے متعلق ادارہ جاتی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔

یہ اشتراک اس وسیع تر امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ لسانی مصنوعی ذہانت سرکاری اداروں کو مختلف زبانوں میں سرکاری معلومات کو زیادہ قابل رسائی بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو ادارہ جاتی طریقہ کار میں شامل کرکے اس اقدام کا مقصد ہندوستانی زبانوں میں سرکاری معلومات تک زیادہ وسیع اور مؤثر رسائی کو آسان بنانا ہے۔

اس پروگرام میں ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی کی لسانی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں پر ایک پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی، جس میں حکومت اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے مختلف شعبوں میں اس کے استعمال کو اجاگر کیا گیا۔ اس تقریب کے دوران سی اے جی دفتر میں سی اے جی-بھاشنی انوواد حل کا باضابطہ آغاز بھی عمل میں آیا۔

اس موقع پر ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ نے لسانی اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ایپلی کیشنز اور استعمال کے طور طریقوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی لسانی گوناگونیت کے مطابق خودمختار لسانی مصنوعی ذہانت کے نظام کی تیاری کے شعبے میں بھاشنی کے ارتقا پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ بھاشنی اس وقت 36 ہندوستانی زبانوں میں متنی، 23 ہندوستانی زبانوں میں صوتی اور 35 بین الاقوامی زبانوں کی معاونت کرتا ہے اور عوامی خدمات کے بڑھتے ہوئے مختلف شعبوں میں اس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ان میں کثیر لسانی زرعی مشورے، آواز کے ذریعے شکایات کے اندراج اور ان کی کارروائی، نیز ایسی بات چیت پر مبنی خدمات شامل ہیں، جن کے ذریعے آواز اور ٹیلی فون پر مبنی ذرائع سے رسائی ممکن ہوتی ہے۔

ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل جناب کے. سنجے مورتی نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ آڈٹ کے نتائج اور رپورٹس شہریوں تک ان زبانوں میں پہنچیں جنہیں وہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی مقامی اور علاقائی زبانوں میں آڈٹ سے متعلق معلومات تک رسائی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ سرکاری امور میں ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے استعمال کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کے دفتر میں ایڈیشنل ڈپٹی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (راج بھاشا) ڈاکٹر نیلوتپل گوسوامی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت اور ابلاغ کا امتزاج جغرافیائی حدود سے قطع نظر لسانی رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ لسانی ٹیکنالوجی کو اپنے ادارہ جاتی طریقہ کار میں شامل کرکے ہم ابلاغ کو زیادہ قابل رسائی، بروقت اور مؤثر بنا سکتے ہیں، ساتھ ہی حکمرانی اور سرکاری امور میں ہندوستانی زبانوں کے استعمال کو بھی مستحکم کرسکتے ہیں۔ ’سی اے جی-بھاشنی‘ اقدام زبان اور ٹیکنالوجی کے اس امتزاج کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔‘‘

بھاشنی اور سی اے جی کا ٹیکنالوجی سے لیس ہندی پکھواڑہ کی سرگرمیوں کے لیے اشتراک

سی اے جی اور بھاشنی کے درمیان اشتراک میں 14 سے 29 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والے ہندی پکھواڑہ 2026 کے پروگرام تک بھی توسیع ہوئی۔ روایتی ہندی زبان سے متعلق سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس تعاون کے تحت بھاشنی کی مدد سے تیار کردہ ٹیکنالوجی سے لیس لسانی سرگرمیاں اور کھیل بھی متعارف کرائے گئے، جس سے افسران اور ملازمین کو باہمی اور دلچسپ انداز میں لسانی ٹیکنالوجی سے واقف ہونے کا موقع ملا۔

ہندی پکھواڑہ کے دوران مختلف مقابلوں اور سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ پروگرام میں سرکاری زبان کے استعمال، ہندی میں نوٹنگ اور مسودہ نویسی، ترجمہ، ٹائپنگ اور زبان سے متعلق دیگر صلاحیتوں پر مبنی سرگرمیوں کے ساتھ بھاشنی کی مدد سے منعقد کی گئی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔

اختتامی تقریب کے دوران مقابلوں کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا گیا اور انعامات دیے گئے۔ تقریب میں فاتحین کو اسناد اور انعامات بھی پیش کیے گئے اور ہندی پکھواڑہ کے دوران ان کی شرکت اور کارکردگی کو سراہا گیا۔

اس پروگرام میں ڈیجیٹل لسانی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس کے ساتھ مظاہرے اور ایسی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں جن کا مقصد افسران کو ہندی اور ہندوستانی زبانوں کے استعمال میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار سے واقف کرانا تھا۔ اس اشتراک سے یہ واضح ہوا کہ لسانی مصنوعی ذہانت نہ صرف ترجمے اور سرکاری امور کے طریقہ کار میں معاون ثابت ہوسکتی ہے بلکہ سرکاری اداروں کے اندر زبان سے متعلق باہمی اور سرگرم مشغولیت اور شرکت کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔

’سی اے جی-بھاشنی انوواد‘ کے آغاز کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہندی پکھواڑہ کی سرگرمیاں، ادارہ جاتی سطح پر لسانی مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے سی اے جی اور بھاشنی کے درمیان وسیع تر تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس اقدام میں لسانی ٹیکنالوجی، انسانی مہارت اور ادارہ جاتی ضروریات کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ سرکاری معلومات تک کثیر لسانی رسائی کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں

وزارت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی) کے ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کے تحت کام کرنے والا ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) ہندوستان کا قومی پلیٹ فارم ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر لسانی ڈیجیٹل شمولیت کے لیے کام کرتا ہے۔ بھاشنی 800 سے زیادہ سرکاری ویب سائٹس کو لسانی سہولت فراہم کرتا ہے، اب تک مجموعی طور پر 9 ارب سے زیادہ مصنوعی ذہانت پر مبنی انفرنسز کو فعال بناچکا ہے، روزانہ 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ مصنوعی ذہانت پر مبنی انفرنسز پر کارروائی کرتا ہے اور 36 ہندوستانی متنی زبانوں، 23 ہندوستانی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کو معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح لسانی مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو مزید آسان بنایا جارہا ہے۔

******

ش ح۔ک ح۔ت ع

U. No. 4369


(ریلیز آئی ڈی: 2317217) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati