کابینہ
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے بیٹری انرجی اسٹوریج نظام کے ساتھ  اندرونِ ریاست ترسیلی نظام کے فروغ کے لیے گرین انرجی کاریڈور مرحلہ-III اسکیم کی منظوری دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 3:12PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں ، مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کاریڈور مرحلہ – III  ( جی ای سی - III ) اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی اقدام سے بھارت کے اندرونِ ریاست بجلی کی ترسیل کے نظام (اِن ایس ٹی ایس) کو  مستحکم کرنے میں مدد ملے گی، جس کے ذریعے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 135 گیگاواٹ تک قابل تجدید توانائی کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

اس اسکیم کے تحت قابل تجدید توانائی کے ڈیولپر/جنریٹر کے مقام پر یا گرڈ  کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے اہمیت  کے حامل کسی دوسرے مقام پر 50 گیگاواٹ فی گھنٹہ کے بیٹری انرجی اسٹوریج نظام (بی ای ایس ایس) بھی نصب کیے جائیں گے۔ اس سے قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں وقفے وقفے سے آنے والی کمی بیشی، گرڈ پر دباؤ، زیادہ مانگ کے اوقات میں بجلی کی ترسیل میں کمی اور شمسی توانائی دستیاب نہ ہونے کے اوقات میں بجلی کی  مانگ پوری کرنے جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ یہ اسکیم بھارت کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرڈ کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے انضمام اور بجلی کی ترسیل کو آسان بنائے گی۔

اس اسکیم کو مالی سال 33-2032 ء  تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں جی ای سی- III  کے تحت اندرونِ ریاست ترسیلی نظام کی ترقی کے لیے 1,36,378 کروڑ روپے اور 50 گیگاواٹ  فی گھنٹہ  کے بیٹری انرجی اسٹوریج  نظام کے لیے 50,000 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اسکیم کے تحت  ، مرکزی حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 54,082 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ مرکزی مالی امداد (سی ایف اے) سے اندرونِ ریاست بجلی کی ترسیل کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں بجلی کی لاگت بھی کم رہے گی۔ اس طرح حکومت کی یہ معاونت بالآخر بجلی کے آخری صارفین یعنی بھارت کے شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

اِن ایس ٹی ایس کے حصے کے تحت تمام گرین فیلڈ منصوبوں کو ٹیرف بیسڈ مسابقتی نیلامی (ٹی بی سی بی) کے طریقۂ کار کے تحت نافذ کیا جائے گا، جب کہ براؤن فیلڈ منصوبوں کی اپ گریڈیشن اور نیٹ ورک کو  مستحکم کرنے کے کام  لاگت پر مبنی نظام (سی پی بی) کے تحت انجام دیے جائیں گے۔ ریاستی ترسیلی سہولیات مجموعی طور پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسی ہوں گی، جب کہ ٹرانسمیشن سروس پرووائیڈرز (ٹی ایس پی) تعمیر، ملکیت، آپریشن اور دیکھ بھال (بی او او ایم) ماڈل کے تحت ٹی بی سی بی میں حصہ لیں گے۔

اس اسکیم  سے 2035  ء تک 900 گیگاواٹ کی نصب شدہ غیر روایتی توانائی کی صلاحیت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد  حاصل ہو  گی۔ اس کے علاوہ،   مذکورہ اسکیم سے  ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مستحکم کرنے اور کاربن  کے اخراج میں کمی لاکر ، ماحول دوست اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں بھی تعاون حاصل ہو گا ۔ اس سے بجلی کے شعبے، مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی صنعتوں میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج نظام (بی ای ایس ایس) کی تیاری اور تنصیب سے ملکی توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس اسکیم سے حصہ لینے والی ریاستوں میں آپریشن، دیکھ بھال اور گرڈ مینجمنٹ کے شعبوں میں طویل مدتی ہنرمند روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

*****

(ش ح ۔ ش ب ۔ ع ا)

U.No. 4357


(ریلیز آئی ڈی: 2317019) وزیٹر کاؤنٹر : 7