PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

سب کے لیے خواندگی


وکست بھارت کی جانب ہندوستان کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 SEP 2026 11:22AM by PIB Delhi

خواندگی کےتعلق سےہندوستان کی نمایاں پیش رفت: مکمل خواندگی کی جانب سفر

خواندگی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ تعلیمی پیش رفت کے ایک اہم اشاریے ہونے کے ساتھ ساتھ یہ افراد کو مواقع تک رسائی حاصل کرنے، معیشت میں حصہ لینے اور معاشرے میں بامعنی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یونیسکو خواندگی کو بنیادی انسانی حق اور مساوات، انصاف، شمولیت اور قانون کی حکمرانی کے احترام کے حصول کا ایک اہم ذریعہ تسلیم کرتا ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران ہندوستان نے اپنی شرح خواندگی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 1947 میں ملک میں خواندگی کی مجموعی شرح صرف 14 فیصدتھی، جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح محض 8 فیصد تھی۔ ہندوستان نے گزشتہ برسوں کے دوران خواندگی کو فروغ دینے اور اپنے تعلیمی نظام کو بہتربنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 متعارف کرائی، جس کا مقصد تمام سطحوں پر تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا اور ہنرمند، بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

 

خواندگی کیا ہے؟

وزارت تعلیم کے اسکولی تعلیم و خواندگی کے محکمے نے پہلی مرتبہ خواندگی کی تعریف اس طرح کی ہے: ’’سمجھ کے ساتھ پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کرنے کی صلاحیت، یعنی شناخت کرنے، سمجھنے، تشریح کرنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت، اس کے ساتھ زندگی کی اہم بنیادی صلاحیتیں، جیسے ڈیجیٹل خواندگی، مالی خواندگی وغیرہ۔‘‘ محکمہ کسی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 95 فیصد خواندگی کو مکمل خواندگی کے مساوی تصور کرتا ہے۔

عالمی تناظر میں یونیسکو خواندگی کی تعریف پڑھنے، لکھنے اور اعداد کے استعمال کے ساتھ ساتھ تیزی سے ترقی پذیر تکنیکی اور معلومات سے بھرپور ماحول میں مسائل حل کرنے کے لیے ڈیجیٹل مواد کے استعمال کی صلاحیت کے طور پر کرتا ہے۔ یہ ایک بنیادی صلاحیت ہے جو کام، تعلیم اور زندگی میں افراد کی مؤثر شرکت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تعلیم کے حق کا ایک لازمی جزو اور دیگر انسانی حقوق سے استفادہ کرنے کی بنیادی شرط ہے۔

 

 

 

خواندگی اور تعلیم کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ

سال1951کے بعد سے ہندوستان کی شرح خواندگی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور یہ 1951 میں 18.32 فیصد سے بڑھ کر 2011 میں 74.04 فیصد ہوگئی۔ مردوں میں خواندگی کی شرح 27.15 فیصد سے بڑھ کر 82.14 فیصد ہوگئی، جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 8.86 فیصد سے بڑھ کر 65.46 فیصد ہوگئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260929111643_c98bf7.jpg

شہری علاقوں میں شرح خواندگی 1951 میں 34.59 فیصد تھی، جو 2011 میں بڑھ کر 84.1 فیصد ہوگئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 12.10 فیصد سے بڑھ کر 67.8 فیصد ہوگئی۔ 2001 سے 2011 کے درمیان دیہی خواتین کی شرح خواندگی میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی مردوں کی شرح خواندگی میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار خواتین کی خواندگی میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

افرادی قوت کا وقفے وقفے سے کیا جانے والا جائزہ (پی ایل ایف ایس) 2025 کے مطابق، شہری علاقوں میں 7 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی شرح خواندگی 89 فیصد، جبکہ 5 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی شرح خواندگی 88 فیصد ہوگئی ہے۔ شہری علاقوں میں 7 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں مردوں کی شرح خواندگی 93.1 فیصد اور خواتین کی 84.8 فیصد رہی۔ دیہی علاقوں میں 7 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی شرح خواندگی 77.4 فیصد، جبکہ 5 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی شرح خواندگی 76.4 فیصد رہی۔ دیہی آبادی میں 7 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے درمیان مردوں کی شرح خواندگی 84.8 فیصد اور خواتین کی 70.3 فیصد رہی۔ اس سروے کے مطابق ملک کی مجموعی شرح خواندگی 81.1 فیصد ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260929111708_54d31f.jpg

خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اسکولوں میں بچوں کے داخلے، تعلیم جاری رکھنے اور اگلی جماعت یا مرحلے میں ترقی کو بہتر بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ 2014-15 کے بعد سے مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر)، تعلیمی مراحل کے درمیان منتقلی اور طلبہ کے اسکول میں برقرار رہنے کی شرح میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یو ڈی آئی ایس ای+ رپورٹ (2025-26) کے مطابق:

  • اسکولوں میں داخلہ: اسکولوں میں 24.72 کروڑ سے زائد طلبہ نے داخلہ لیا۔
  • مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر): بنیادی مرحلے میں 42.8 فیصد، ابتدائی مرحلے میں 91.7 فیصد، مڈل مرحلے میں 89.6 فیصد اور ثانوی مرحلے میں 71.7 فیصد رہا۔
  • تعلیم ترک کرنے کی شرح: ابتدائی مرحلے میں 1.8 فیصد، مڈل مرحلے میں 3.6 فیصد اور ثانوی مرحلے میں 7.0 فیصد رہی۔
  • تعلیم جاری رکھنے کی شرح: بنیادی مرحلے میں 98.5 فیصد، ابتدائی مرحلے میں 91.1 فیصد، مڈل مرحلے میں 83.7 فیصد اور ثانوی مرحلے میں 51.9 فیصد رہی۔
  • اگلے تعلیمی مرحلے میں منتقلی کی شرح: بنیادی مرحلے سے ابتدائی مرحلے میں 99.2 فیصد، ابتدائی مرحلے سے مڈل مرحلے میں 93.8 فیصد اور مڈل مرحلے سے ثانوی مرحلے میں 88.3 فیصد طلبہ نے ترقی کی۔

منتقلی کی شرح سے مراد ان طلبہ کی شرح ہے جو کامیابی کے ساتھ تعلیم کے ایک مرحلے سے اگلے مرحلے میں پہنچتے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے:

  • داخلہ: 2014-15 میں 3.42 کروڑ طلبہ کے مقابلے میں 2023-24 میں یہ تعداد بڑھ کر 4.50 کروڑ ہوگئی۔
  • مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر): اسی مدت کے دوران یہ 23.7 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہوگیا۔
  • اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی تعداد: 2014-15 میں 88.28 لاکھ کے مقابلے میں 2023-24 میں یہ تعداد بڑھ کر 1.09 کروڑ سے زائد ہوگئی۔

اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی تعداد سے مراد کسی تعلیمی سال کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم مکمل کرکے فارغ ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد ہے۔

خواتین کی شرکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات کی شمولیت اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور مساوات میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں مسلسل بہتری کو ظاہر کرتا ہے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے اس ہدف کی تکمیل میں معاون ہے، جس کے تحت 2035 تک اعلیٰ تعلیم میں مجموعی داخلہ تناسب(جی ای آر) کو 50 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

خواندگی کے فروغ کے لیے حکومت کے اہم اقدامات

ہندوستان میں خواندگی کے نقطہ نظر میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ اب اس کا دائرہ صرف بنیادی طور پر پڑھنے اور اعداد سمجھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت اور معاشرے میں مؤثر طور پر حصہ لینے کے لیے درکار وسیع تر صلاحیتوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق حکومت نے اُلّاس  (یو ایل ایل اے ایس) اور نپن بھارت (این آئی پی یو این) جیسے اقدامات شروع کیے ہیں، جن کا مقصد تعلیم تک رسائی کو وسعت دینا، تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا، شمولیت کو فروغ دینا اور زندگی بھر سیکھنے کے عمل کو تقویت دینا ہے۔

یو ایل ایل اے ایس (معاشرے میں سب کے لیے زندگی بھر سیکھنے کی سمجھ)

یو ایل ایل اے ایس- نو بھارت ساکشرتاکاریہ کرم: اُلّاس ، یا نیا ہندوستان خواندگی پروگرام (این آئی ایل پی)، مرکز کے تعاون سے چلایا جانے والا ایک پروگرام ہے۔ یہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان بالغ افراد کو بااختیار بنانا ہے جو رسمی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت عملی خواندگی، عددی خواندگی، زندگی کی اہم صلاحیتوں اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس سے ہدف شدہ طبقے کے سماجی انضمام کو فروغ ملتا ہے اور قومی ترقی میں ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

اُلّاس  کا وژن ’جن جن ساکشر‘ ہے، جس کے تحت خواندگی کے ذریعے ہر فرد کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ ’کرتویہ بودھ‘ (فرض) کے جذبے کے مطابق کام کرتا ہے۔ اس کے تحت سب کے لئے خواندگی کے حصول کے مقصد سے رضاکارانہ خدمات اور جن بھاگیداری یعنی عوامی شرکت کو فروغ دیا جاتا ہے۔

اُلّاس  میں تعلیم کے لیے ہائبرڈ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اُلّاس  ایپ، جو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ پلیٹ فارم پر دستیاب ہے، اس میں 27 زبانوں میں تدریسی و تعلیمی مواد موجود ہے۔ اس اسکیم کے تحت ضلع یا بلاک کی سطح پر سروے کرنے والے افراد سیکھنے والوں اور رضاکاروں کی شناخت کرتے ہیں۔ ان میں اسکول کے اساتذہ، سول سوسائٹی سے وابستہ کارکن، آشا کارکن اور آنگن واڑی کارکن شامل ہو سکتے ہیں۔ سروے کرنے والے افراد ناخواندہ افراد اور ممکنہ رضاکار اساتذہ کی شناخت کے لیے گھر گھر جا کر سروے کرتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں سیکھنے والوں کو ایک رضاکار استاد سے جوڑا جاتا ہے، جو اُلّاس  ایپ پر طلبہ کے اندراج میں ان کی مدد اور رہنمائی کرتا ہے۔ بالمشافہ اور آن لائن طریقوں سے تربیتی پروگرام، تعارفی اجلاس اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔ سیکھنے والے تعلیمی مواد سے استفادہ کرتے ہیں اور بنیادی خواندگی و عددی صلاحیتیں حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ بنیادی خواندگی و عددی صلاحیتوں کے جائزے کے امتحان (ایف ایل این اے ٹی) میں شرکت کرتے ہیں، جس کے بعد ان کی جانچ اور سند فراہم کرنے کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260929111849_271c20.jpg

اُلّاس  کی پیش رفت اور اثرات: اس اسکیم کا مقصد 2022-27 کے دوران 5 کروڑ سیکھنے والوں کو شامل کرنا ہے، جس کے لیے 1037.90 کروڑ روپے کی مالی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اُلّاس  کے تحت تقریباً 4.03 کروڑ سیکھنے والے رجسٹرڈ ہیں اور 52.20 لاکھ سے زیادہ رضاکار اس سے وابستہ ہیں۔ اب تک 3.3 کروڑ سے زیادہ سیکھنے والے بنیادی خواندگی و عددی صلاحیتوں کے جائزے کے امتحان (ایف ایل این اے ٹی) میں شرکت کر چکے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260929111908_9ca095.jpg

2024 سے 2026 کے درمیان 10 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے خود کو مکمل طور پر خواندہ قرار دیا ہے۔ ان میں لداخ، میزورم، گوا، تریپورہ، ہماچل پردیش، چندی گڑھ، انڈمان و نکوبار جزائر، سکم، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ اُلّاس  عوامی شرکت کے ذریعے بالغوں میں خواندگی کو فروغ دے رہا ہے اور لاکھوں سیکھنے والوں تک پہنچ رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سب کے لئے خواندگی کے ہدف کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

نپن بھارت: (سمجھ کے ساتھ پڑھنے اور عددی صلاحیت میں مہارت کے لیے قومی اقدام)

جولائی 2021 میں سمگر شکشا کے تحت شروع کیا گیا یہ اقدام ابتدائی تعلیم کو مستحکم کرنے اور مسلسل تعلیمی ترقی میں معاونت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کا مقصد 2026-27 تک سب کو یکساں طورپر بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیت سے ہمکنار کرنا ہے، تاکہ جماعت دوم تک ہر بچہ بنیادی صلاحیتیں حاصل کر لے۔ اس مشن کا مرکز 3 سے 8 سال کی عمر کے بچوں کا بنیادی تعلیمی مرحلہ ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے اسکولوں میں داخلہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور تعلیم جاری رکھنے کی شرح میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اہم اقدامات میں سمگر شکشا، پی ایم شری (ترقی پذیر ہندوستان کے لیے وزیر اعظم کے اسکول)، پی ایم ای-ودیا اور پی ایم پوشن (وزیر اعظم پوشن شکتی نرمان) شامل ہیں۔

  • سمگر شکشا کا مقصد اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا اور تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہے تاکہ تعلیمی نتائج میں بہتری آئے۔ یہ اسکیم تعلیم سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف 4 (ایس ڈی جی-4) سے ہم آہنگ ہے۔ اسے تین سابقہ اسکیموں، سرو شکشا ابھیان (ایس ایس اے)، راشٹریہ مادھیامک شکشا ابھیان (آر ایم ایس اے) اور ٹیچر ایجوکیشن (ٹی ای) کو ضم کرکے شروع کیا گیا تھا۔ یہ اسکیم مساوی، جامع اور معیاری تعلیم کو فروغ دیتی ہے، جس میں بنیادی تعلیم، اساتذہ کی ترقی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے انضمام پر توجہ دی جاتی ہے۔
  • ترقی پذیر ہندوستان کے لیے وزیر اعظم کے اسکول (پی ایم شری) کا مقصد ملک بھر میں 14,500 سے زیادہ مثالی اسکولوں کو مستحکم کرنا ہے۔ اس اسکیم میں طلبہ کی ہمہ جہت اور متوازن ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے تحت مساوی، جامع اور خوشگوار تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جاتا ہے، جو مختلف پس منظر، کثیر لسانی ضروریات اور طلبہ کی مختلف تعلیمی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
  • پی ایم ای-ودیا ایک جامع اقدام ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل، آن لائن اور نشریاتی تعلیم سے متعلق مختلف کوششوں کو یکجا کرکے سیکھنے کے لیے متعدد ذرائع سے رسائی فراہم کی جاتی ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے ملک بھر میں تقریباً 25 کروڑ اسکول جانے والے بچے مستفید ہوں گے۔
  • پی ایم پوشن مرکز کے تعاون سے چلائی جانے والی اسکیم ہے، جس کے تحت تمام اسکولی دنوں میں 10.36 لاکھ سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں بال واٹیکا اور جماعت اول سے ہشتم تک زیر تعلیم 11.20 کروڑ طلبہ کو ایک مرتبہ گرم پکا ہوا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد غذائی معاونت فراہم کرنا اور طلبہ کی اسکول میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مجموعی طور پر یہ اقدامات ایسا سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے داخلے، تعلیم جاری رکھنے کی شرح اور تعلیمی نتائج میں بہتری آتی ہے۔ یہ مختلف عمر کے گروپوں اور تعلیمی مراحل میں خواندگی کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں اور بنیادی تعلیم، بالغوں کی خواندگی اور زندگی بھر سیکھنے کے عمل کو مضبوط بناتے ہیں۔

ترقی یافتہ ہندوستان اور پائیدار ترقی کے لیے خواندگی

پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سب کے لیے زیادہ مساوی، جامع اور پائیدار مستقبل کے فروغ کے لیے ایک مربوط خاکہ فراہم کرتے ہیں۔ خواندگی اور تعلیم پائیدار ترقی کے ہدف 4 (ایس ڈی جی-4) کا بنیادی حصہ ہیں، جس کا مقصد سب کے لیے جامع اور مساوی معیاری تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو یقینی بنانا ہے۔ خواندگی کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) اور فی کس آمدنی کے ساتھ مثبت تعلق ہے اور یہ اقتصادی ترقی اور قومی ترقی میں معاون ہوتی ہے۔ ہندوستان کے لیے وکست بھارت کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے آبادی کا خواندہ، تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہونا ضروری ہے۔

تعلیم سے آگے بھی خواندگی خواتین کو بااختیار بنانے، مساوات، شمولیت اور انسانی حقوق کے حصول میں معاون ہوتی ہے، جبکہ روزگار کے حصول کی صلاحیت، پیداواری صلاحیت، جدت طرازی اور اقتصادی سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دیتی ہے۔ تعلیم اور ہنر ماحول دوست روزگار کے شعبے میں شرکت کو ممکن بنانے، مدور معیشت کو فروغ دینے اور ماحولیاتی پائیداری میں تعاون کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس طرح خواندگی میں پیش رفت سے پائیدار ترقی کے اہداف کے مختلف شعبوں میں مثبت اثرات پیدا ہو سکتے ہیں اور جامع، پائیدار اور وسیع البنیاد ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔

آگے کا سفر: سب کے لیے خواندگی کا فروغ

آزادی کے بعد سے ہندوستان کا خواندگی کا سفر ملک کی تعمیر اور انسانی ترقی میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ آج خواندگی کا دائرہ پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ سیکھنے، روزگار، بااختیار بنانے اور معاشرے میں بامعنی شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020، اُلّاس  اور نپن بھارت جیسے اقدامات اس وژن کو وسعت دے رہے ہیں۔ یہ بنیادی تعلیم کو بالغوں کی تعلیم، زندگی بھر سیکھنے اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر سے جوڑتے ہیں۔ پائیدار ترقی کے ہدف 4 (ایس ڈی جی-4) کے مطابق یہ کوششیں جامع اور مساوی ترقی کے لیے ہندوستان کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

جیسے جیسے ہندوستان وکست بھارت کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، اقدامات پر مسلسل عمل درآمد ضروری ہے۔ علاقائی اور صنفی تفاوت پر زیادہ توجہ دینے سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ خواندگی کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ خواندہ، ہنرمند اور بااختیار آبادی زیادہ جامع، پیداواری اور پائیدار وکست بھارت کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات

وزارت تعلیم

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2282525&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2049494&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1882765&reg=48&lang=2

https://ullas.education.gov.in/nilp/about-us

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2021/jul/doc20217531.pdf

https://aicte.gov.in/sites/default/files/nep2020.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1805881&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1911807&reg=48&lang=2

https://udiseplus.gov.in/#/en/page/publications

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s392049debbe566ca5782a3045cf300a3c/uploads/2025/06/202506041473712372.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s392049debbe566ca5782a3045cf300a3c/uploads/2026/07/202607131602421770.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291330&reg=48&lang=2

https://www.dsel-education.gov.in/offerings/initiative/details/pm-e-vidya-IDOyMTMtQWa

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2120666&reg=48&lang=2

ایم او ایس پی آئی

https://www.mospi.gov.in/sites/default/files/reports_and_publication/cso_social_statices_division/Chapter_3_2014.pdfhttps://www.mospi.gov.in/uploads/publications_reports/publications_reports1780040415321_0624fb13-fb47-40bc-b470-7c7e9635c3ef_PLFS_2025_F_REV_29052026.pdf

نیتی آیوگ (قومی ادارہ برائے تبدیلی)

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2026-05/School-Education-System-in-India.pdf

پی آئی بی بیک گراؤنڈر

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150983&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=159901&NoteId=159901&ModuleId=3&reg=3&lang=1

 

یونیسکو

https://www.unesco.org/en/days/literacy

https://unesdoc.unesco.org/ark:/48223/pf0000399013

سب کے لیے خواندگی

******

 

ش ح ۔ ش ب ۔ م ا

UR No-4293


(ریلیز آئی ڈی: 2316633) وزیٹر کاؤنٹر : 5