ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیرماحولیات نے ہندوستانی جنگلات اور لکڑی کی تصدیق سے متعلق اسکیم کے تحت آندھرا پردیش فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور اوڈیشہ کے ایک بانس کےکاشتکار کو ہندوستان کے پہلے پی آر اے ایم اے اے این سرٹیفکیٹ سے نوازا
پی آر اے ایم اے اے این ذمہ دارانہ اور جنگلات کی کٹائی سے پاک لکڑی کے حصول اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق ابھرتی ہوئی عالمی ضروریات کو پورا کرنے کا اہم ذریعہ ہے: جناب بھوپیندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 SEP 2026 11:16AM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں ہندوستانی جنگلات اور لکڑی کی تصدیق سے متعلق اسکیم (آئی ایف ڈبلیو سی ایس) کے تحت پہلے پی آر اے ایم اے اے این(پرمان )سرٹیفکیٹ پیش کیے۔ اس تقریب کا انعقاد اسکیم کی عمل درآمدی ایجنسی کی حیثیت سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ مینجمنٹ (آئی آئی ایف ایم)، بھوپال نے کیا۔تقریب میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے سینئر افسران کے ساتھ مختلف ریاستوں کے محکمہ جنگلات کے سینئر افسران، تصدیقی اداروں کے نمائندوں اور صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
پی آر اے ایم اے اے این سرٹیفکیٹ آندھرا پردیش فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (اے پی ایف ڈی سی) کو 33,000 ہیکٹر رقبے پر قائم اس کی شجرکاریوں کے لیے اور اوڈیشہ بانس ڈیولپمنٹ ایجنسی (او بی ڈی اے) سے وابستہ ایک کاشتکار جناب گووند مہاپاترا کو پیش کیے گئے۔ تصدیق سے قبل ان شجرکاریوں کا موقع پر جا کر اور انتظامی امور سے متعلق سخت جانچ اور آڈٹ کیا گیا۔ یہ سرٹیفکیٹ ان تمام عمل کی تکمیل کی علامت ہیں جو وزارت کی جانب سے دسمبر 2023 میں آئی ایف ڈبلیو سی ایس کے آغاز کے بعد قائم کیے گئے تھے۔ اس طرح یہ اسکیم پالیسی کے ایک ڈھانچے سے آگے بڑھ کر جنگلاتی شجرکاری اور درختوں پر مبنی کاشت کاری، دونوں شعبوں میں زمینی سطح پر عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔


تقریب میں خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے پی آر اے ایم اے اے این(پرمان) کوہندوستانی پیداکنندگان، برآمد کنندگان اور جنگلات پر مبنی کاروباری اداروں کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا، جس کے ذریعے وہ ابھرتی ہوئی عالمی ضابطہ جاتی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔ ان ضروریات میں بڑے بین الاقوامی بازاروں کی جانب سے اختیار کیے گئے مناسب جانچ پڑتال اور ذمہ دارانہ، جنگلات کی کٹائی سے پاک لکڑی کے حصول کے اصول بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں مارکیٹ تک رسائی کو قابل تصدیق پائیداری سے متعلق اسناد سے جوڑے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’ ووکل فار لوکل اینڈ ایکٹ گلوبل’’ کے وژن کے تحت پی آر اے ایم اے اے این ہندوستان کو محض ضابطوں کی پابندی کرنے کے بجائے پائیدار جنگلاتی انتظام اور جنگلات سے باہر درختوں کے انتظام کے نظام میں قیادت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ متعدد ریاستی محکمہ جنگلات، جنگلاتی ترقیاتی کارپوریشنیں، کسان اور صنعتیں جنگلاتی انتظام، جنگلات سے باہر درختوں کے انتظام اور سلسلہ تحویل کی تصدیق کے لیے درخواست دے چکے ہیں اور یہ درخواستیں مختلف مراحل میں زیر عمل ہیں۔
وزیر نے اجاگر کیا کہ بین الاقوامی تصدیقی نظام کے مطابق تیار کیا گیا پی آر اے ایم اے اے این کا منظوری کا ڈھانچہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس اسکیم کے تحت جاری کیے جانے والے تصدیقی سرٹیفکیٹ کو ملکی اور عالمی دونوں خریداروں اور ضابطہ کار اداروں کی جانب سے تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرمان کے تحت جنگلاتی انتظام کی تصدیق قومی ورکنگ پلان کوڈ (این ڈبلیو پی سی) 2023 کے اصولوں پر مبنی ہے، جس سے یہ یقینی ہوتا ہے کہ تصدیق صرف رضاکارانہ خود اقراری کے بجائے تیسرے فریق کی جانب سے کیے گئے جنگلاتی انتظام کے آڈٹ کی مضبوط بنیاد پر قائم ہو۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پی آر اے ایم اے اے این(پرمان) تجارتی ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کا مشن بھی ہے، وزیر نے کہا کہ دیہی اور قبائلی برادریوں، چھوٹے اور کم رقبہ رکھنے والے کسانوں اور جنگلات پر منحصر برادریوں کو ایک منظم اور قابل تصدیق سرٹیفیکیشن نظام میں شامل کرکے یہ تصدیقی اسکیم ایسے بازاروں تک آمدنی کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، جہاں ضوابط کی تعمیل کرنے والی اور اعلی معیار کی مصنوعات کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پیداوار کنندگان پر تعمیل کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر لکڑی جنگلاتی مصنوعات (این ٹی ایف پی) کی جمع آوری اور پروسیسنگ، زرعی اور زرعی جنگلاتی سرگرمیوں اور درختوں پر مبنی کسی بھی زرعی نظام سے وابستہ خواتین کےاپنی مدد آپ گروپ اور کم اراضی رکھنے والے افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس پہل کو وسیع تر قومی وژن سے جوڑتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ پی آر اے ایم اے اے این وکست بھارت @2047 کی جانب ہندوستان کے وسیع تر سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسے ترقی یافتہ ہندوستان کی علامت ہے جو اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے اور جسے عالمی سطح پر نہ صرف پائیدار اشیا کے پیداوار کنندہ کے طور پر بلکہ پائیدار حکمرانی میں قائد کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وزیر نے آئی آئی ایف ایم اور وزارت کی کوششوں کو سراہا اور سرٹیفیکیشن اداروں، ریاستی محکمہ جنگلات، درخت اگانے والوں، کسان پیداوار کنندہ تنظیموں، کسان پیداوار کنندہ کمپنیوں، صنعتوں اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ پی آر اے ایم اے اے این میں اپنی شرکت کو مزید مضبوط کریں، تاکہ ہندوستان کے جنگلات اور ان پر منحصر برادریوں کو عالمی پائیدار تجارت کی اگلی نسل میں مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

پی آر اے ایم اے اے این کے بارے میں
پی آر اے ایم اے اےاین) (زرعی جنگلات اور قدرتی جنگلاتی وسائل کے پائیدار انتظام کے طریقہ کار کی شناخت اور منظوری کا پروگرام) ایک قومی سطح پر تسلیم شدہ، معتبر اور شفاف نظام ہے، جس کے تحت جنگلات، لکڑی اور غیر لکڑی والی جنگلاتی مصنوعات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد تصدیق شدہ جنگلات اور زرعی جنگلاتی مصنوعات کو ملکی اور بین الاقوامی بازاروں سے مربوط کرنا ہے۔ آئی ایف ڈبلیو سی ایس-پی آر اے ایم اے اے این سرٹیفکیٹ ہندوستان کے جنگلات، زرعی جنگلاتی نظام اور لکڑی پر مبنی ہندوستانی صنعتوں کی سماجی اور ماحولیاتی قدر میں اضافہ کرتا ہے۔
جنگلاتی انتظام کی تصدیق ہندوستانی جنگلاتی انتظام کے معیارات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جو قومی ورکنگ پلان کوڈ 2023 کا حصہ ہیں۔ اس سرٹیفکیٹ کا بنیادی اصول خود اقراری کے بجائے ایسے تصدیقی اداروں کے ذریعے آزادانہ آڈٹ ہے، جنہیں کوالٹی کونسل آف انڈیا کے تحت نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار سرٹیفیکیشن باڈیز (این اے بی سی بی) سے منظوری حاصل ہے۔ پی آر اے ایم اےاے این کا منظوری کا نظام بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس سے ملکی اور عالمی خریداروں اور ضابطہ کار اداروں کے درمیان اس کی شناخت یقینی ہوتی ہے۔
********
ش ح۔ م ع ن۔ م ش
U-NO-4279
(ریلیز آئی ڈی: 2316395)
وزیٹر کاؤنٹر : 9