محنت اور روزگار کی وزارت
ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا نے صنعتی تعلقات ،لیبراور ایوارڈز 2026 کی قومی کانفرنس سے خطاب کیا
وزارت کی لبیرقوانین سے متعلق ’’شرم سمواد‘‘ بیداری مہم 90 دنوں میں 316 اضلاع کے صنعتی مراکز کا احاطہ کرے گی: ڈاکٹر مانڈاویا
پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعت اور افرادی قوت کو شراکت داروں کی حیثیت سے مل کر آگے بڑھنا ہوگا: ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا
مصنوعی ذہانت نے وسیع مواقع پیدا کیے ہیں، نوجوانوں کو اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا: مرکزی وزیر
’’سمواد سے سمدھان‘‘: صنعتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات ضروری: ڈاکٹر مانڈاویا
کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے دور میں صنعتی تعلقات اور کام کی جگہ پر شراکت داری کے نظام کو ازسرنو تشکیل دینے پر غورکیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2026 4:24PM by PIB Delhi
محنت و روزگار اورنوجوانوں کے امور و کھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا نے آج نئی دہلی میں ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں صنعتی تعلقات اور کام کی جگہ پر شراکت داری کے نظام کو ازسرنو تشکیل دینا‘‘ کے موضوع پر کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) اور ایمپلائرز فیڈریشن آف انڈیا (ای ایف آئی) کے زیر اہتمام قومی کانفرنس برائے صنعتی تعلقات و لیبر اور ایوارڈز 2026 کا افتتاح کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا نے بدلتے وقت اور ابھرتی ہوئی اقتصادی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگی میں بھارت کے محنت اور سماجی تحفظ کے نظام کو مسلسل ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، روبوٹکس اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجیز سے متعلق نئے دور کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 2026 میں لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم آزادی کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے آئندہ ایک سال کے دوران ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کی تربیت دینے کا اعلان کیا تھا۔

مرکزی وزیر نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں سماجی تحفظ کے دائرے میں ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 میں جہاں آبادی کے 19 فیصد حصے کو سماجی تحفظ حاصل تھا، وہیں اب 101 کروڑ افراد، یعنی موجودہ آبادی کے 68 فیصد حصے کو اس کے دائرے میں لایا جا چکا ہے، جسے بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے اس روایتی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت صنعت دوست پالیسیوں کو محنت کش مخالف اور اس کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے صنعت اور محنت کشوں، دونوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی تعمیر میں شراکت دار کی حیثیت سے مل کر آگے بڑھیں۔
ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا نے اعلان کیا کہ محنت و روزگار کی وزارت آج سے محنت قوانین سے متعلق ’’شرم سمواد‘‘ کے عنوان سے ایک وسیع بیداری مہم شروع کر رہی ہے، جس کے تحت آئندہ 90 دنوں کے دوران تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 316 اضلاع کے صنعتی مراکز کا احاطہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر منسکھ مانڈاویا نے صنعتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل بات چیت اور مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں سمواد ہے، وہاں سمادھان ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور صنعت و محنت کش افراد، دونوں کے مفادات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کو یقینی بنانے کے لیے بہترین طریقہ کار کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔

بھارت کی 7.8 فیصد کی اعلیٰ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈاویا نے حکومت کی جامع اقتصادی پالیسیوں کی تفصیل بیان کی، جن کی بدولت ملک ترقی کی مضبوط رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت کی مضبوط اقتصادی ترقی کے ساتھ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2017 سے 2023 کے دوران معیشت میں ہر ایک فیصد کی ترقی کے نتیجے میں روزگار میں 1.11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس سے قبل یہ شرح محض 0.008 فیصد تھی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں، جس کے مرکز میں پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے وسیع تر مواقع اور باوقار افرادی قوت ہو۔
افتتاحی اجلاس کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈاویا نے ’’نئے محنت قوانین کے تحت آجروں کے لیے رہنما کتاب: بھارت میں مقررہ مدت کی ملازمت‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ بھی جاری کی۔
کانفرنس میں سی آئی آئی شمالی خطے کے چیئرمین جناب پنیت کاؤرا، سی آئی آئی کی قومی کمیٹی برائے صنعتی تعلقات و محنت کے شریک چیئرمین جناب ہرش وردھن چتالے، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے علاقائی شراکت داری کی ترقی اور وسائل کے متحرک کرنے کے نائب ڈائریکٹر اور سینئر مشیر جناب اوکٹیویانٹو پاساریبو سمیت صنعت سے وابستہ دیگر سینئر نمائندوں اور محنت و روزگار کی وزارت کے افسران نے شرکت کی۔

کانفرنس صنعت اور محنت سے وابستہ متعلقہ فریقوں کو مستقبل میں روزگار اور صنعتی تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ ان امور پر ہونے والی بات چیت سے تکنیکی تبدیلی اور روزگار کے بدلتے نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
******
ش ح ۔ ش ب ۔ م ا
UR No-4228
(ریلیز آئی ڈی: 2316090)
وزیٹر کاؤنٹر : 7