نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھاکرشنن نے ترواننت پورم میں سری اوتھرادوم تھرونال اکیڈمی آف میڈیکل سائنسزکی 15ویں جلسۂ تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کی
’’ٹیکنالوجی ڈاکٹر کی مدد کرسکتی ہے، لیکن ڈاکٹر کے انسانی پہلوؤں کی جگہ نہیں لے سکتی‘‘: نائب صدر جمہوریہ نے میڈیکل فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ سائنسی مہارت کے ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی اپنائیں
اعلیٰ تعلیم تک رسائی وکست بھارت کے وژن کا بنیادی حصہ ہے: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 SEP 2026 6:23PM by PIB Delhi
نائب صدرجمہوریہ ہندجناب سی. پی. رادھاکرشنن نے آج ترواننت پورم میں سری اوتھرادوم تھرونال (ایس یو ٹی) اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی 15ویں جلسۂ تقسیم اسناد کی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔
فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کیرالہ کے صحت عامہ اور طبی تعلیم کے شعبے میں ایس یو ٹی اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے اہم مقام کو اجاگر کیا۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا، ’’کسی بھی طبی ادارے کی حقیقی طاقت اس کے فراہم کردہ تعلیم کے معیار، اس کے تیار کردہ ڈاکٹروں، اس کی انجام دی جانے والی تحقیق اور اس کے زیر علاج مریضوں سے ظاہر ہوتی ہے۔‘‘
جناب سی. پی. رادھاکرشنن نے کہا کہ فارغ التحصیل ڈاکٹر ایسے غیر معمولی دور میں شعبۂ صحت میں داخل ہورہے ہیں، جب مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل ہیلتھ، جدید تشخیصی عکس بندی اور طبِ دقیق شعبۂ صحت میں نمایاں تبدیلیاں لارہے ہیں۔
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ادارے میں روبوٹک سرجری اور کمپیوٹر کی مدد سے تشخیص کی سہولیات کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا کتنا ضروری ہے۔
تاہم، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو طب کے انسانی پہلو پر کبھی غالب نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹیکنالوجی ڈاکٹر کی مدد کرسکتی ہے، لیکن ڈاکٹر کے انسانی پہلوؤں کی جگہ نہیں لے سکتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ایک مشین تجزیہ کرسکتی ہے، ایک روبوٹ مدد کرسکتا ہے اور ایک الگورتھم نمونوں کی شناخت کرسکتا ہے، لیکن مریض کو اب بھی ایسے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات سن سکے، اسے سمجھ سکے، اطمینان دلاسکے اور ذمہ داری قبول کرسکے۔‘‘
نائب صدر جمہوریہ نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ تشخیص میں درستگی، ابلاغ میں دیانت داری، علاج میں ہمدردی اور ہر فیصلے میں اخلاقی اصولوں کی پابندی کے ذریعے سفید کوٹ سے وابستہ اعتماد کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی مہارت اور انسانی ہمدردی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ چلنی چاہئیے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ ’’2047 تک وکست بھارت‘‘ کے وژن کی جانب پُراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وکست بھارت کا مقصد اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب ہر ریاست، ضلع اور گاؤں ترقی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی اس قومی تصور کا بنیادی حصہ ہے۔
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران طبی تعلیم کے شعبے میں ہونے والی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھاکرشنن نے کہا کہ پہلے نئی دہلی میں صرف ایک ایمس تھا، جبکہ اب 12 نئے ایمس قائم کیے جا چکے ہیں۔
نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے بھارت کے طول و عرض میں مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی تقسیم اسناد کی تقریبات میں شرکت کی ہے اور ایک خوش آئند رجحان کا مشاہدہ کیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین ڈگریاں اور تمغے حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج کی جلسۂ تقسیم اسناد کی تقریب میں 60 خواتین اور 32 مرد طلبہ کو گریجویشن کی ڈگریاں، جبکہ 5 خواتین اور 2 مرد ڈاکٹروں کو پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔
فارغ التحصیل ڈاکٹروں کو تین رہنما اصول دیتے ہوئے نائب صدر نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے ذہن میں علم، اپنے دل میں ہمدردی اور اپنے کردار میں دیانت داری لے کر آگے بڑھیں۔
انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ خوداعتماد ہوں لیکن عاجزی کو برقرار رکھیں، بلند عزائم رکھیں لیکن اخلاقی اقدار سے وابستہ رہیں، ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید ہوں لیکن انسانیت اور ہمدردی کو مقدم رکھیں، اور کامیابی حاصل کریں لیکن معاشرے سے اپنا تعلق برقرار رکھیں۔انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں پر یہ بھی زور دیا کہ ’’ہمیشہ منشیات کو ’نہیں‘ کہیں۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب سی. پی. رادھاکرشنن نے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے کامیاب، بامقصد اور خوش گوار پیشہ ورانہ زندگی کی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’آپ ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ ڈاکٹر ہونے کا سب سے بڑا اعزاز کسی دوسرے انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا موقع ملنا ہے۔‘‘ انہوں نے ایس یو ٹی اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے لیے طبی تعلیم، صحت خدمات، تحقیق اور اختراع کے ایک ممتاز مرکز کے طور پر مسلسل ترقی کی بھی نیک خواہشات پیش کیں۔
تقریب میں تمل ناڈو اور کیرالہ کے گورنر جناب راجیندر وشواناتھ ارلیکر، کیرالہ حکومت میں محنت، مویشی پروری اور خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر محترمہ بندھو کرشنا، ایس یو ٹی اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر اے. سی. شان مگم، کیرالہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر موہنن کننممل، تدریسی عملہ، ملازمین، فارغ التحصیل طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
*****
ش ح۔ ش آ۔ م ر
U-NO. 4187
(ریلیز آئی ڈی: 2315651)
وزیٹر کاؤنٹر : 9