وزارت دفاع
بھارت کسی بھی ملک کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خواہاں نہیں، لیکن خطرے کی صورت میں اپنی سلامتی اور تزویراتی خود مختاری کا تحفظ کرے گا: راج ناتھ سنگھ
آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بڑھتی ہوئی رسائی سے اتر پردیش کے کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا: جناب گوئل
اتر پردیش کا ہدف 2030 تک سالانہ برآمدات کو تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ کروڑ روپے کرنا ہے: جناب گوئل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 SEP 2026 1:40PM by PIB Delhi
’’بھارت امن پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ تاہم، امن کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ہم عالمی استحکام کے خواہاں ہیں، لیکن اپنی تزویراتی خود مختاری کی قیمت پر نہیں۔ خطرے کی صورت میں اپنی سلامتی اور تزویراتی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہم پوری طرح پُرعزم ہیں۔‘‘ یہ بات وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 27 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ایک دفاعی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ بھارت کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے والے کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا: ’’جو ممالک دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں یا دہشت گردوں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتے ہیں، انہیں دوٹوک انداز میں یاد دلایا جانا چاہیے کہ دہشت گردی کسی بھی ملک کے لیے تزویراتی اثاثہ نہیں بن سکتی۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک کوئی پڑوسی ملک دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی پر عمل جاری رکھتا ہے، بھارت کو دہشت گردی کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں دیے گئے بیان کے حوالے سے کہی۔
قومی اتحاد کو قومی سلامتی کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ملک کی سلامتی صرف مسلح افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مذہب، ذات، عقیدے، زبان، خطے اور دیگر شناختوں کی بنیاد پر اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ذاتی اور محدود مفادات پر ترجیح دیں۔
وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے بھارت کو ایک ایسی تہذیبی قوت قرار دیا جس کا عروج تصادم یا انتشار کے بجائے جامع ترقی پر مبنی ہے۔ انہوں نے بھارت کے نقطۂ نظر کی تین بنیادیں بیان کیں: اس کی طویل جمہوری اور تہذیبی روایات، ’وسودھیو کٹمبکم‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول، اور پانچ تزویراتی ستون—احترام، مکالمہ، خوش حالی، سلامتی اور ثقافت۔
عالمی جنوب پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے قابلِ اعتماد شراکت دار اور ’وشو بندھو‘ کے طور پر بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’ویکسین میتری‘ کے تحت بھارت نے 100 سے زائد ممالک کو کووڈ-19 ویکسین کی 30 کروڑ سے زیادہ خوراکیں فراہم کیں اور ادویات، ڈیجیٹل ادائیگی کے حل، مہارت اور وسائل کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ’وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ‘ جیسی پہلوں کو بھی اجاگر کیا۔ طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مسابقت کے باوجود تعاون اور عالمی ترقی میں سب کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاع کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بھارت کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک طیاروں اور ڈرون کے انجن سے لے کر پانچویں اور چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں تک دیسی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ بھارت کی دفاعی برآمدات 2013-14 میں محض 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں ریکارڈ 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں اور یہ سازوسامان 100 سے زائد ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 30,000 کروڑ روپے کے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے کے بعد بھارت نے اب 2029 تک 50,000 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بھارتی میزائلوں، ریڈاروں، گولہ بارود اور دفاعی سازوسامان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ بھارت کی ٹیکنالوجی، معیار اور بروقت فراہمی کی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ چنانچہ ’میک اِن انڈیا‘ محض ایک پیداواری شناخت کے طور پر نہیں بلکہ بھارتی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کی علامت کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ 2026-27 میں دفاع کے لیے مختص رقم بڑھ کر 7.85 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے، جبکہ 2013-14 میں یہ تقریباً 2.53 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ جاتی حصول کے بجٹ کا تقریباً 75 فیصد، یعنی 1.39 لاکھ کروڑ روپے، ملکی دفاعی صنعت سے خریداری کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے مقامی پیداوار اور اس سے وابستہ چھوٹی، درمیانی اور خرد کاروباری صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی فراہمی کی زنجیروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ جدید تنازعات روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان میں سائبر، خلائی، برقی اور اطلاعاتی جنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت، ڈرون، خودکار نظام، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ہائپرسونک نظام جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے ان تمام شعبوں میں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق صلاحیتیں تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹیکنالوجی، توانائی، اعداد و شمار اور فراہمی کی زنجیروں جیسے تزویراتی طور پر حساس شعبوں میں کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بھارت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کے شعبے میں ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
خود کفالت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ مسلح افواج کی جانب سے جاری کی گئی مثبت دیسی کاری کی پانچ فہرستوں میں 509 دفاعی سازوسامان، ہتھیاروں کے نظام اور پلیٹ فارم شامل کیے گئے ہیں۔ دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں نے بھی 5,417 اشیا پر مشتمل دیسی کاری کی چھ فہرستیں جاری کی ہیں، جن میں تزویراتی اہمیت کے حامل ایل آر یوز، ذیلی نظام، اضافی پرزے اور اجزا شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 3,300 اشیا کو دیسی ساخت میں تیار کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے دفاعی پیداوار میں نجی شعبے، اسٹارٹ اپس اور چھوٹی، درمیانی اور خرد کاروباری صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی بڑھتی ہوئی شرکت کو اجاگر کیا۔ بھارت کے دفاعی ماحولیاتی نظام میں اب دفاعی سرکاری شعبے کے ادارے، نجی صنعتیں، 16,000 سے زائد ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس، جامعات اور تحقیقی ادارے شامل ہیں، جبکہ ملک کے مختلف خطوں میں دفاعی پیداوار کی صلاحیتیں ابھر رہی ہیں۔ اتر پردیش اور تمل ناڈو دفاعی صنعتی راہداریوں میں تقریباً 70,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 10,000 کروڑ روپے پہلے ہی سرمایہ کاری کیے جا چکے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے دیسی دفاعی فراہمی کی زنجیروں کو مضبوط بنانے میں سریجن اور ایس آر آئی جے اے این (یعنی سریجن) دیپ پورٹلز کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سریجن کے ذریعے درآمدی متبادل کے لیے تقریباً 33,000 درآمد شدہ اشیا کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے تقریباً 15,700 اشیا کو دیسی ساخت میں تیار کیا جا چکا ہے۔ سریجن دیپ نے ایک قومی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم کیا ہے، جس میں 40,000 سے زائد مینوفیکچررز اور فروخت کنندگان اور لاکھوں مصنوعات شامل ہیں۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں اور آرڈیننس فیکٹریوں کے ماحولیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس فیکٹریوں کی کارپوریٹ تشکیل سے ان کی ٹیکنالوجی پر مبنی سرگرمیوں، پیداوار اور جواب دہی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام 16 ڈی پی ایس یوز اس وقت بغیر کسی خسارے کے کام کر رہے ہیں اور تحقیق، ترقی اور برآمدات پر اپنی توجہ بڑھا رہے ہیں۔
نوجوانوں اور اختراع کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ڈیکس اور آئی ڈیکس پرائم اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو قومی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ادیتی جیسے پروگرام جدید دفاعی ٹیکنالوجیوں کی ترقی میں معاونت کر رہے ہیں۔ مارچ 2026 تک آئی ڈیکس کے ذریعے 676 اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو شامل کیا جا چکا تھا اور 551 معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ وزارت نے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز سے 2,400 کروڑ روپے سے زائد کی خریداری اور 1,500 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کی بھی منظوری دی ہے۔
ایک اہم اعلان کے طور پر روایتی میزائل نظام سے متعلق دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے تیار کردہ ٹیکنالوجیوں کو اہل بھارتی صنعتوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت مقررہ اہلیت رکھنے والی نجی کمپنیاں ان کی پیداوار کر سکیں گی۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس اقدام سے مسلح افواج کی تیاری مضبوط ہوگی اور میزائلوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آر ڈی او کو بتدریج تحقیق و ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ پیداوار میں صنعت کا کردار بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت کا مقصد دفاع کے پورے شعبے میں، انفرادی اجزا سے لے کر مکمل ہتھیاروں کے نظام تک، دیسی صلاحیتیں تیار کرنا اور درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجیوں کو ملک کے اندر ہی فروغ دینا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طریقۂ کار کا مقصد تزویراتی خود مختاری، دفاعی تیاری اور مضبوط و لچکدار دیسی دفاعی صنعتی نظام کو مستحکم کرنا ہے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4175
(ریلیز آئی ڈی: 2315546)
وزیٹر کاؤنٹر : 11